اسلام کی تعلیمات میں جس طرح عبادات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، اسی طرح انسانی معاشرت کے حقوق کو بھی نہایت بلند مقام دیا گیا ہے۔ خصوصاً ہمسایوں کے حقوق پر قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ میں بار بار زور دیا گیا ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام مسلسل رسول اکرم ﷺ کو ہمسایوں کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین کرتے رہے، یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے گمان ہونے لگا تھا کہ شاید انہیں وراثت میں بھی شریک قرار دے دیا جائے گا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں حسنِ ہمسائیگی کو کس قدر عظیم مقام حاصل ہے۔
انفرادی زندگی میں اگر کوئی شخص اپنے ہمسائے سے نباہ نہ کر سکے تو وہ اپنا گھر چھوڑ کر کسی اور مقام پر جا سکتا ہے، لیکن اقوام کے لیے ایسا ممکن نہیں۔ جغرافیہ قوموں کو ایسی زنجیر میں باندھ دیتا ہے جسے خواہشوں سے نہیں توڑا جا سکتا۔ نقش زمین انسان کی مرضی سے نہیں بدلتا۔ اس حقیقت کا مجھے گہرا احساس 2008 ء میں ملائیشیا میں منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس کے دوران ہوا۔ دنیا کے تقریباً تیس ممالک کے نمائندے وہاں موجود تھے، جن میں بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے وفود بھی شامل تھے۔ افتتاحی تقریب میں پاکستانی اور بھارتی نمائندوں کے درمیان ایک فطری سرد مہری محسوس کی جا سکتی تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل میل جول نے ہمسائیگی کے فطری جذبے کو بیدار کرنا شروع کر دیا۔
کانفرنس کے دوران سنگاپور سے تعلق رکھنے والے ایک مندوب نے مجھ سے ایسا سوال کیا جو گویا پوری محفل کی نمائندگی کر رہا تھا۔ اس نے پوچھا: ’’پاکستان قدرتی وسائل، باصلاحیت افرادی قوت اور بے شمار امکانات رکھنے کے باوجود وہ ترقی کیوں حاصل نہ کر سکا جس کا وہ مستحق تھا؟‘‘
یہ سوال سن کر خصوصاً بھارتی مندوبین خاصے متجسس ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں نے اطمینان کے ساتھ جواب دیا۔ میں نے کہا ’’آپ کا سوال نہایت اہم ہے۔ ذرا اپنے ہمسایوں پر نظر ڈالیں۔ آپ کے پڑوس میں ملائیشیاء اور انڈونیشیاء جیسے ممالک ہیں۔ اب تصور کیجیے کہ اگر آپ کا ہمسایہ بھارت جیسا ملک ہوتا تو کیا آپ اسی رفتار سے ترقی کر سکتے؟ پاکستان کو اپنے مشرقی ہمسائے کی مسلسل جارحانہ پالیسیوں کے باعث دفاع پر بے پناہ وسائل صرف کرنا پڑتے ہیں۔ اگر یہی وسائل تعلیم، صحت، صنعت، سائنس اور عوامی فلاح پر خرچ کئے جاتے تو پاکستان یقینا آج ترقی کی کہیں بلند منزلوں پر کھڑا ہوتا۔‘‘
میرا جواب بہت سے شرکا کے لئے قابلِ اطمینان تھا، اگرچہ کچھ لوگوں کو وہ ناگوار بھی گزرا، کیونکہ حقیقت اکثر تلخ محسوس ہوتی ہے۔ مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہمسائے تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔ پاکستان نے ماضی میں بارہا بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا، لیکن اس کا جواب زیادہ تر سرد مہری یا خاموشی کی صورت میں ملا۔
اسی تناظر میں حالیہ دنوں میں یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت اور پاکستان کی ایک سو سے زائد ممتاز شخصیات نے مشترکہ طور پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے۔ اس خط میں دونوں رہنماں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ خطے میں پائیدار امن، بامعنی مذاکرات اور معمول کے دوطرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے ٹھوس اور مستقل اقدامات کریں۔ خط میں بجا طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں سے جاری کشیدگی لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں نوجوانوں کو ترقی، خوشحالی اور محفوظ مستقبل کے مواقع سے محروم کر رہی ہے۔
اس خط میں کئی عملی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں، جن میں مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی، ہائی کمشنرز کی دوبارہ تعیناتی، ویزا سروسز کی بحالی، تجارتی اور مسافروں کی آمدورفت کے لیے فضائی حدود کا دوبارہ کھولنا، اٹاری۔ واہگہ سرحد پر تجارت کی بحالی، اور سرینگر، مظفرآباد بس سروس سمیت دیگر سرحد پار روابط کی بحالی شامل ہیں۔
بھارت اور پاکستان مل کر دنیا کی تقریباً پانچویں حصے پر مشتمل آبادی کا مسکن ہیں، جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ اس اپیل میں اعتماد سازی کے اقدامات کو دوبارہ فعال کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے، جن میں کرتارپور راہداری، شاردا پیٹھ جیسے مذہبی مقامات تک رسائی، اور جموں و کشمیر سمیت تمام متنازعہ معاملات پر جامع دوطرفہ مذاکرات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 2004 ء سے 2007 ء کے درمیان طے پانے والے مذاکراتی فریم ورک پر نظر ثانی، عسکری کشیدگی میں کمی، اور دونوں ممالک کے جائز سلامتی کے خدشات کو سنجیدگی سے حل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ خط کا اختتام اس پر ہوتا ہے کہ دونوں حکومتیں تنہائی کے بجائے روابط، دشمنی کے بجائے مکالمے، اور محاذ آرائی کے بجائے تعاون کا راستہ اختیار کریں تاکہ تقریباً دو ارب انسانوں کی امیدوں اور امنگوں کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔
یقینا ہمسایوں کے درمیان خوشگوار تعلقات ہر دور کی ضرورت رہے ہیں، لیکن یہ تعلقات صرف خوش نما الفاظ سے استوار نہیں ہوتے۔ ایک ہاتھ میں خنجر اور دوسرے ہاتھ میں مصافحہ دیرپا اعتماد پیدا نہیں کر سکتے۔ اگر تعلقات میں حقیقی بہتری مطلوب ہے تو بھارت کو پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ، اندرونی معاملات میں مداخلت، دہشت گرد اور علیحدگی پسند عناصر کی سرپرستی، اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔ اسی طرح مسئلہ کشمیر کا منصفانہ، باوقار اور پائیدار حل خطے کے امن کے لئے ناگزیر ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران جیسے دور افتادہ اور بااثر ممالک کے درمیان بھی مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ امن، مفاہمت اور سفارت کاری کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور اس کا مخلصانہ ارادہ بھی۔ ایسے میں اپنے قریب ترین ہمسائے کے ساتھ تعلقات کی بہتری کوئی ناممکن منزل نہیں ہونی چاہیے۔
آخرکار، اصل ضرورت بھارت کے روئیے میں بنیادی تبدیلی کی ہے۔ تجارتی معاہدے، محدود فضائی راہداریاں یا وقتی سہولتیں وقتی سکون تو فراہم کر سکتی ہیں، لیکن وہ حقیقی خیرسگالی اور باہمی اعتماد کا نعم البدل نہیں بن سکتیں۔ جب تک بنیادی تنازعات کو دیانت، انصاف اور جرات کے ساتھ حل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی، دیرپا امن کا خواب شرمند تعبیر نہیں ہو سکتا۔ جنوبی ایشیا کی تقدیر لازما کشمکش اور تقسیم سے عبارت نہیں۔ اگر دونوں جانب اخلاص، فراست اور دوراندیشی کا مظاہرہ کیا جائے تو یہی خطہ امن، مشترکہ خوشحالی اور اپنے عوام کی اجتماعی امیدوں کا روشن استعارہ بن سکتا ہے۔