روس،یوکرین جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں لڑائی صرف محاذ پر موجود فوجیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ توانائی، سمندری تجارت، عالمی معیشت اور جغرافیائی سیاست اس جنگ کے نئے میدان بن چکے ہیں۔ ایک طرف یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے اندر آئل ریفائنریوں، ایندھن کے ذخائر، توانائی کے نظام اور فوجی انفراسٹرکچر کے خلاف چالیس روزہ بڑے حملوں کی مہم کا اعلان کیا ہے، جبکہ دوسری طرف فرانس کی بحریہ نے بحیرہ روم میں پابندیوں کی خلاف ورزی کے شبہے میں ایک روسی تیل بردار جہاز کو روک لیا ہے۔ یہ دونوں واقعات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ کیا امریکہ اور نیٹو روس کے خلاف پہلے سے زیادہ جارحانہ معاشی اور فوجی دبائو کی حکمت عملی اختیار کرنے جا رہے ہیں؟روس کی معیشت میں تیل اور گیس کی برآمدات ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ روس کی سمندری خام تیل کی برآمدات کا بڑا حصہ بحیرہ بالٹک اور بحیرہ اسود کے راستے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اگر ان دونوں راستوں پر سخت نگرانی، پابندیوں یا کسی قسم کی موثر رکاوٹ پیدا ہو جائے تو روس کی سمندری تیل برآمدات کا ایک بڑا حصہ کم و بیش 70فیصد متاثر ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ جنگی حالات میں ایسے اندازے بدل سکتے ہیں، روس کے پاس بحرالکاہل اور آرکٹک سمیت متبادل راستے بھی موجود ہیں، اس لئے کسی ایک ممکنہ منظر نامے کو یقینی حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔اگر مغربی ممالک روس کی بحری برآمدات کو محدود کرنے کی زیادہ جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہیں تو اس کے کئی ممکنہ نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
پہلا منظرنامہ، معاشی محاصرہ اور روسی معیشت پر دبائو بڑھانے کی کوشش، اگر روس کی سمندری تیل برآمدات کا بڑا حصہ متاثر ہوتا ہے تو حکومتی آمدنی پر نمایاں دبائو پڑ سکتا ہے۔ دفاعی اخراجات، بجٹ، کرنسی اور صنعتی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ روس فوری طور پر معاشی طور پر مفلوج ہو جائے گا، کیونکہ وہ چین، بھارت اور دیگر ایشیائی منڈیوں کے ساتھ تجارت بڑھانے، متبادل بحری راستے استعمال کرنے اور زمینی پائپ لائنوں پر انحصار بڑھانے کی کوشش کرے گا۔
دوسرا منظرنامہ، روس کا سخت جوابی ردعمل ہو سکتا ہے، اگر ماسکو یہ سمجھتا ہے کہ اس کی معاشی شہ رگ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو وہ صرف یوکرین تک محدود رہنے کے بجائے مزید سخت اقدامات کر سکتا ہے۔ ان میں یوکرین کے توانائی نظام، ریلوے، اسلحہ سازی کے کارخانوں اور لاجسٹک مراکز پر بڑے حملے، سائبر کارروائیاں، الیکٹرانک جنگ اور عالمی توانائی منڈی میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں شامل ہو سکتی ہیں۔ روس بحیرہ بالٹک، بحیرہ اسود یا آرکٹک میں اپنی بحری موجودگی بھی بڑھا سکتا ہے۔تیسرا منظرنامہ: محدود روس۔نیٹو تصادم کا عملی خطرہ پیدا ہو جانا ہے، اگر بحری راستوں پر کشیدگی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور روسی تجارتی جہازوں کی پکڑ دھکڑ یا دیگر کارروائیاں بڑھتی ہیں تو بحری جھڑپوں کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم ایسی کسی بھی صورت میں تمام فریق اس بات سے آگاہ ہوں گے کہ براہِ راست روس اور نیٹو کے درمیان جنگ پورے یورپ اور عالمی معیشت کے لئے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک زیادہ تر دبائو پابندیوں، یوکرین کی فوجی امداد اور محدود کارروائیوں تک رہا ہے، نہ کہ مکمل بحری ناکہ بندی تک۔
چوتھا منظرنامہ، نئی عالمی صف بندی، چین، شمالی کوریا اور ایران کی زیادہ فعال شرکت کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے جس سے امریکہ کے مشرقی اتحادی ممالک جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے، اگر جنگ مزید طویل ہوتی ہے اور پھیل جاتی ہے تو روس اپنے تعلقات چین، شمالی کوریا، ایران اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا، جبکہ امریکہ اور یورپی ممالک یوکرین کو جدید دفاعی نظام، انٹیلی جنس اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار فراہم کرتے رہیں گے۔ اس صورت میں دنیا مزید واضح جیوپولیٹیکل بلاکس میں تقسیم ہو سکتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالات میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دنیا لازما تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے یا روس کی سمندری برآمدات کی مکمل ناکہ بندی ہونے والی ہے۔ لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یوکرین کے چالیس روزہ حملوں کی مہم اور روسی تیل بردار جہاز کے خلاف حالیہ فرانسیسی کارروائیوں نے اس جنگ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جہاں صرف توپیں اور میزائل ہی نہیں بلکہ توانائی، سمندری تجارت، پابندیاں اور عالمی سفارت کاری بھی فیصلہ کن ہتھیار بنتی جا رہی ہیں۔ آنے والے مہینے یہ واضح کریں گے کہ یہ دبائو صرف محدود رہے گا یا ایک ایسے بحران میں تبدیل ہوگا جس کے اثرات پوری دنیا محسوس کرے گی۔