اسلام آباد: این ڈی ایم اے بارشوں کا الرٹ جاری کرتے ہوئے ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث ممکنہ سیلاب، اچانک آنے والے ریلوں، لینڈ سلائیڈنگ اور شہری سیلاب کے خطرات سے خبردار کر دیا ہے۔ متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور شہریوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق 18 سے 23 جولائی کے دوران گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں شدید بارشوں کے باعث مقامی ندی نالوں، پہاڑی برساتی گزرگاہوں اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے اچانک سیلاب کا خدشہ ہے۔
ادارے کے مطابق گلگت بلتستان کے مختلف دریاؤں اور ندی نالوں میں درمیانے سے بلند درجے کے سیلاب کا امکان ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کے بالائی اور وسطی اضلاع کے برساتی نالوں میں طغیانی آ سکتی ہے۔ اسی طرح آزاد کشمیر میں دریائے نیلم، جہلم، پونچھ اور دیگر ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے نے 19 سے 24 جولائی تک آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی الرٹ جاری کیا ہے۔ ادارے کے مطابق نیلم، مظفرآباد، باغ، پونچھ اور حویلی میں مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ زیادہ ہے، جبکہ کوٹلی، سدھنوتی، میرپور اور بھمبر کے پہاڑی علاقوں میں بھی محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الرٹ میں کہا گیا ہے کہ مظفرآباد، باغ، کہوٹہ اور بھمبر کو ملانے والی شاہراہوں پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے۔
دوسری جانب 17 سے 23 جولائی کے دوران پنجاب اور شمال مشرقی بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھی برساتی نالوں میں طغیانی اور مقامی سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ پنجاب میں سیالکوٹ، نارووال، گجرات، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مری اور گلیات جبکہ بلوچستان میں ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، لورالائی، ہرنائی، سبی، کوہلو اور جعفرآباد کے علاقوں کو حساس قرار دیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے 18 سے 23 جولائی کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، نارووال، حافظ آباد، شیخوپورہ، پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب اور پانی جمع ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے۔
ادارے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ موسمی صورتحال کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں کے قریب جانے سے احتراز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔

