لاہور: نجی اسکولوں کی بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ سے متعلق پنجاب حکومت نے نئی پالیسی نافذ کر دی ہے، جس کے تحت صوبے بھر کے تمام نجی تعلیمی اداروں کے لیے عمارت کی فٹنس کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد طلبہ، اساتذہ اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانا اور تعلیمی اداروں میں حفاظتی معیار کو بہتر بنانا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق حالیہ عرصے میں کاہنہ اور باغبانپورہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات کے بعد نجی اسکولوں کی عمارتوں کی جانچ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
حکام کے مطابق محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس کی جانب سے بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ جاری نہ کیے جانے کے باعث حکومت نے متبادل طریقہ کار متعارف کرایا ہے تاکہ عمارتوں کی جانچ کا عمل بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔
نئی پالیسی کے تحت تمام نجی اسکولوں کو پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC) سے رجسٹرڈ سول انجینئر یا منظور شدہ انجینئرنگ فرم سے بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن نے صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز اور چیف ایگزیکٹو آفیسرز (سی ای اوز) ایجوکیشن کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی پالیسی پر بلاامتیاز عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
حکومتی مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ جو تعلیمی ادارے نجی اسکولوں کی بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ جمع نہیں کرائیں گے، ان کی رجسٹریشن یا رجسٹریشن کی تجدید نہیں کی جائے گی۔
حکومت نے نجی تعلیمی اداروں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی عمارتوں سے متعلق تمام قانونی، تعمیراتی اور حفاظتی تقاضے مکمل کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔
تعلیمی حکام کے مطابق نئی پالیسی کا بنیادی مقصد اسکولوں کی عمارتوں کو محفوظ بنانا، حفاظتی معیار کو یقینی بنانا اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کرنا ہے۔


