حکایات الصالحین میں بغداد کے ایک بزرگ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میرے گھر کی دیوار اچانک گر گئی۔ مجھے بڑی پریشانی لاحق ہوئی اور اسے دوبارہ بنوانے کے لیے کسی مزدور کی تلاش میں گھر سے نکلا اور چوراہے پر جا پہنچا۔ وہاں مختلف مزدوروں کو دیکھا جو کام کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ ان میں ایک نوجوان بھی تھا جو سب سے الگ تھلگ کھڑا تھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں تھیلا اور دوسرے ہاتھ میں تیشہ تھا۔میں نے اس نوجوان سے پوچھا: ’’کیا تم مزدوری کرو گے؟‘‘نوجوان نے جواب دیا: ’’ہاں!‘‘ میں نے کہا: ’’گارے کا کام کرنا ہوگا۔‘‘نوجوان کہنے لگا: ’’ٹھیک ہے، لیکن میری تین شرطیں ہیں۔ اگر تمہیں منظور ہوں تو میں کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ تم میری مزدوری پوری ادا کرو گے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ مجھ سے میری طاقت اور صحت کے مطابق کام لو گے۔ اور تیسری شرط یہ ہے کہ نماز کے وقت مجھے نماز ادا کرنے سے نہیں روکو گے۔‘‘
میں نے یہ تینوں شرطیں قبول کر لیں اور اسے ساتھ لے کر گھر آگیا، جہاں میں نے اسے کام بتایا اور کسی ضروری کام سے باہر چلا گیا۔ جب میں شام کے وقت واپس آیا تو دیکھا کہ اس نے عام مزدوروں سے دگنا کام کیا تھا۔ میں نے خوشی سے اس کی اجرت ادا کی اور وہ چلا گیا۔دوسرے دن میں اس نوجوان کی تلاش میں دوبارہ اس چوراہے پر گیا، لیکن وہ مجھے نظر نہ آیا۔ میں نے دوسرے مزدوروں سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ہفتے میں صرف ایک دن مزدوری کرتا ہے، باقی دن اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارتا ہے۔ یہ سن کر میں سمجھ گیا کہ وہ عام مزدور نہیں بلکہ کوئی خاص آدمی ہے۔میں نے ان سے اس کا پتہ معلوم کیا اور اس جگہ پہنچا تو دیکھا کہ وہ نوجوان زمین پر لیٹا ہوا تھا اور اسے سخت بخار تھا۔ میں نے اس سے کہا:’’میرے بھائی! تم یہاں اجنبی ہو، تنہا ہو اور پھر بیمار بھی ہو۔ اگر پسند کرو تو میرے ساتھ میرے گھر چلو اور مجھے اپنی خدمت کا موقع دو۔‘‘ اس نے انکار کر دیا، لیکن میرے مسلسل اصرار پر مان گیا۔ البتہ اس نے ایک شرط رکھی کہ وہ مجھ سے کھانے کی کوئی چیز نہیں لے گا۔ میں نے اس کی یہ شرط بھی منظور کر لی اور اسے اپنے گھر لے آیا۔
وہ تین دن میرے گھر قیام پذیر رہا، لیکن اس نے نہ تو کسی چیز کا مطالبہ کیا اور نہ ہی کوئی چیز لے کر کھائی۔ چوتھے روز اس کے بخار میں شدت آ گئی تو اس نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہنے لگا:’’میرے بھائی! لگتا ہے کہ اب میرا آخری وقت قریب آ گیا ہے، لہٰذا جب میں مر جاؤں تو میری اس وصیت پر عمل کرنا کہ جب میری روح جسم سے نکل جائے تو میرے گلے میں رسی ڈالنا اور مجھے گھسیٹتے ہوئے باہر لے جانا، پھر اپنے گھر کے اردگرد چکر لگوانا اور یہ صدا دینا کہ: لوگو! دیکھ لو، اپنے رب تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والوں کا یہ حشر ہوتا ہے۔ شاید اس طرح میرا رب عزوجل مجھے معاف کر دے۔‘‘پھر فرمایا:’’جب تم مجھے غسل دے چکو تو مجھے انہی کپڑوں میں دفن کر دینا۔ اس کے بعد بغداد میں خلیفہ ہارون الرشید کے پاس جانا، یہ قرآنِ مجید اور یہ انگوٹھی انہیں دے دینا، اور میرا یہ پیغام بھی پہنچا دینا کہ: ’’اللہ عزوجل سے ڈرتے رہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ غفلت اور دنیا کے نشے میں موت آ جائے اور پھر پچھتانے کا کوئی فائدہ نہ رہے۔‘‘یہ وصیت کرنے کے بعد وہ نوجوان انتقال کر گیا۔
میں اس کی وفات پر بہت دیر تک روتا رہا اور سخت غمزدہ رہا۔ پھر، اگرچہ دل نہیں چاہتا تھا، اس کی وصیت پوری کرنے کے لیے ایک رسی لی اور اس کے گلے میں ڈالنے کا ارادہ کیا۔ ابھی میں ایسا کرنے ہی لگا تھا کہ کمرے کے ایک کونے سے آواز آئی:’’اس کے گلے میں رسی مت ڈالنا، کیا اللہ عزوجل کے اولیاء کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے؟‘‘یہ آواز سن کر میرے بدن پر کپکپی طاری ہو گئی۔ میں نے فوراً اس کے قدم چومے اور اس کے کفن و دفن کا انتظام کرنے میں لگ گیا۔اس کی تدفین سے فارغ ہونے کے بعد میں اس کا قرآنِ پاک اور انگوٹھی لے کر خلیفہ ہارون الرشید کے محل کی طرف روانہ ہوا۔ وہاں پہنچ کر میں نے اس نوجوان کا سارا واقعہ ایک کاغذ پر لکھا اور محل کے داروغہ سے درخواست کی کہ وہ مجھے خلیفہ تک پہنچا دے۔ داروغہ نے پہلے تو مجھے جھڑک دیا، مگر پھر اپنے پاس بٹھا لیا۔ کچھ دیر بعد خلیفہ نے مجھے اپنے دربار میں طلب کر لیا۔خلیفہ نے فرمایا:’’کیا میں اتنا ظالم ہوں کہ تم مجھ سے براہ راست بات کرنے کے بجائے رقعہ لکھ کر بھیجو؟‘‘میں نے عرض کیا:’’اللہ تعالیٰ آپ کا اقبال بلند فرمائے، میں کسی ظلم کی فریاد لے کر نہیں آیا، بلکہ ایک پیغام لے کر حاضر ہوا ہوں۔‘‘خلیفہ نے فرمایا:’’کون سا پیغام؟‘‘میں نے قرآن مجید اور انگوٹھی نکال کر ان کے سامنے رکھ دی۔
انہیں دیکھتے ہی خلیفہ نے بے چینی سے پوچھا:’’یہ چیزیں تمہیں کس نے دی ہیں؟‘‘میں نے عرض کیا:’’ایک گارا بنانے والے مزدور نے۔‘‘میری یہ بات سنتے ہی خلیفہ نے تین مرتبہ دہرایا:’’گارا بنانے والا… گارا بنانے والا… گارا بنانے والا…‘‘پھر وہ زار و قطار رونے لگا۔ کافی دیر تک روتا رہا، پھر مجھ سے پوچھا:’’وہ گارا بنانے والا اب کہاں ہے؟‘‘میں نے عرض کیا:’’وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکا ہے۔‘‘یہ سن کر خلیفہ بے ہوش ہو کر گر پڑااور عصر تک بےہوش رہا۔ میں حیران و پریشان وہیں موجود رہا ،جب انہیں افاقہ ہوا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا’’کیا تم اس کی وفات کے وقت اس کے پاس موجود تھے؟‘‘میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔پھر فرمایا:’’کیا اس نے تم سے کوئی وصیت بھی کی تھی؟‘‘میں نے اس نوجوان کی پوری وصیت،اس کا پیغام اور وہ تمام باتیں بیان کر دیں جو اس نے خلیفہ کے لیے کہی تھیں۔
(جاری ہے)