(گزشتہ سے پیوستہ)
یروشلم کے تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعلان داخلی سیاست کاحربہ دباؤکاشاخسانہ تھا۔جب قیادت دباؤمیں ہوتووہ بیرونی کامیابیوں کے افسانے تراش کرداخلی کمزوریوں کوڈھانپنے کی کوشش کرتی ہے۔جب سیاسی زمین کھسکنے لگے تورہنمابیرونی کامیابیوں کی کہانیاں تراشتے ہیں تاکہ عوامی اعتمادکوسہارادیاجاسکے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ خفیہ دوروں یاپس پردہ ملاقاتوں کی خبریں سامنے آئی ہوں۔خفیہ سفارت کاری کی تاریخ میں اس کی بے شمارمثالیں موجودہیںمصراوراسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈمعاہدے سے پہلے کی خفیہ ملاقاتیں ہوں یااوسلو معاہدے کی پس پردہ گفت وشنید،فرق صرف یہ ہے کہ آج کے دورمیں میڈیا کی رفتارنے رازوں کوزیادہ دیرتک رازرہنے نہیں دیا۔
انتخابات قریب ہوں توہرخبرایک ہتھیاربن جاتی ہے۔نیتن یاہوکے لئے یہ اعلان محض اطلاع نہ تھابلکہ ایک سیاسی مہم کاحصہ تھا۔ایک ایسا تاثر کہ وہ اب بھی عالمی سطح پرموثراورمتحرک ہیں۔یہ اعلان انتخابی موسم کی پیداوارمعلوم ہوتاہے۔نیتن یاہوکے لئے یہ ضروری تھا کہ وہ خودکوایک ایسے رہنماکے طورپرپیش کریں جو عرب دنیاکے دروازے کھول رہاہے۔آج کا میڈیا محض اطلاع کاذریعہ نہیں بلکہ بیانیہ سازی کاایک طاقتور ہتھیار ہے۔اسرائیلی میڈیا،مغربی میڈیااور علاقائی میڈیا ہر ایک اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق خبرکوپیش کرتا ہے۔
امارات نے گزشتہ برسوں میں خودکوایک معتدل ،خودمختاراورجدیدریاست کے طور پر پیش کیا ہے ۔ اگروہ کسی جنگ میں خفیہ شریک کے طورپر سامنے آتاتواس کی یہ ساکھ متاثرہوسکتی تھی۔اسی لئے تردیددراصل اپنی عالمی شناخت کاتحفظ تھی۔
امارات جانتاہےکہ کھلے عام قربت ایران کےساتھ تعلقات کوکشیدہ کرسکتی ہے۔اس لیے امارات کی پالیسی گویااس اصول پرقائم ہےکہ توازن قائم رکھتے ہوئےتعلقات رکھو،یہی وجہ ہےکہ امارات نے یہ پالیسی بنارکھی ہےکہ فائدہ حاصل کرو،مگرشورنہ مچائو۔ ادھر نیتن یاہوکی سیاست میں ایک مستقل عنصریہ رہاہےکہ داخلی چیلنجزکاجواب خارجی کامیابیوں سےدیاجائے۔ جب اپوزیشن مضبوط ہو،یاعوامی اعتمادمتزلزل ہو،تو بیرونی دنیامیں کامیابیوں کاتاثرپیداکرناایک آزمودہ حربہ ہوتاہے۔
یہ تردیددراصل طاقت بطوردفاعی ہتھیار کا اظہاراورایک ڈھال تھی،ایسی ڈھال جونہ صرف سیاسی ساکھ کومحفوظ رکھتی ہےبلکہ علاقائی توازن کوبھی برقرار رکھتی ہے۔ امارات نےواضح کیاکہ وہ کسی اورکےبیانیے کاحصہ بننےکےلئےتیار نہیں ۔ اگرامارات کوایک خفیہ اتحادی کےطورپرپیش کیاجائےتواس کےکئی نتائج ہوسکتےہیں۔داخلی سطح پرعوامی ردعمل ، علاقائی سطح پراعتمادمیں کمی اوربین الاقوامی سطح پرکردارکی تبدیلی کااظہار محسوس کیاجائے گا،اسی لئےاس تصورکوفوری طورپرردکرنا ضروری تھا۔اگریہ دورہ تسلیم کر لیا جاتا توامارات کاتشخص ایک پردہ نشین اورایک خفیہ اتحادی کے طورپرپیش ہوتا۔تردیدنے اس امکان کوختم کردیااور اسےایک خودمختارریاست کےطورپربرقراررکھا۔آج کی سفارت کاری شدت پسندنہیں رہی بلکہ انتہائی لچکدارہوچکی ہے۔ریاستیں بیک وقت مخالف قوتوں کےساتھ تعلقات رکھتی ہیں اوراپنے مفادات کے مطابق انہیں استعمال کرتی ہیں۔امارات نے درپردہ یہ تاثردینے کی کوشش کی ہےکہ وہ اسی نئی سفارت کاری کی ایک مثال ہے لیکن وہ فی الحال ان تعلقات کوآہنی پردوں کے پیچھے چھپانے کی کوشش کررہاہے لیکن خوداسرائیل نے اس پردہ کوچاک کردیاہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب حساس تعلقات کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال کیاگیاہو۔ان کی سیاست میں سفارتی انکشافات ایک آزمودہ ہتھیاررہے ہیں۔ان کی سیاست میں بیانیہ سازی ایک فن کی حیثیت رکھتی ہے۔وہ جانتےہیں کہ سیاست میں سچ وہی ہوتاہے جومان لیا جائے۔اگر واقعی اماراتی قیادت کویہ محسوس ہواکہ اسرائیل نے اس اعلان کے ذریعے ایک حد پارکی ہے تویہ اس بات کی علامت ہےکہ خفیہ تعلقات کی بھی کچھ حدودہوتی ہیں اور ان حدودکااحترام ضروری ہے۔
اسرائیل میں داخلی بحران اورآئندہ انتخابات اورسیاسی عدم استحکام نے اس بیانیے کو جنم دیاہے۔جب گھرمیں چراغ مدھم ہوتوباہرکی روشنی دکھاناضروری سمجھا جاتا ہے۔جب داخلی سطح پراختلافات بڑھ جائیں تو بیرونی محاذکونمایاں کرناایک آزمودہ نسخہ ہوتا ہے۔ یہی حکمت عملی یہاں بھی کارفرمانظرآتی ہے۔اس طرح کے واقعات بعض اوقات اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔اگرایک فریق دوسرے کے خفیہ روابط کواپنے سیاسی مفادکے لئے استعمال کرے تویہ مستقبل کے تعلقات کے لئے خطرہ بن سکتاہے۔خلیج کاپوراخطہ اس وقت ایک نازک توازن پر قائم ہے۔یہاں ہرقدم سوچ سمجھ کراٹھانا پڑتا ہےکیونکہ ایک غلط قدم پورےخطے کوعدم استحکام کی طرف دھکیل سکتاہے۔نیتن یاہوکا امارات کاخفیہ دورہ کایہ اعلان دراصل ایک سفارتی سرگوشی تھاایساپیغام جوبراہِ راست نہیں مگر گہرے اثرات کاحامل ہے۔یہ اعلان ریاض کے لئے ایک اشارہ تھاکہ اگرابوظہبی آگے بڑھ سکتاہے،توتم کیوں نہیں؟
ریاستیں چاہے جتنی بھی طاقتورہوں،وہ عوامی رائے کومکمل طورپرنظراندازنہیں کر سکتیں۔اسی لیے بعض فیصلے پس پردہ رکھے جاتے ہیں تاکہ عوامی ردعمل سے بچا جا سکے۔ اس لئے یہ حکمت عملی نئی نہیں بلکہ تاریخ کے صفحات میں بارہادہرائی گئی ہے۔مقصد ہمیشہ ایک ہی رہاہے،عرب دنیامیں اختلافات کوبڑھاکراسرائیل اپنی سفارتی پوزیشن مضبوط کرناچاہتا ہے ۔اسرائیل کی تقسیم کی یہ حکمت عملی رہی ہے کہ اختلاف پیداکرواوراثربڑھائو۔
ایک طرف نظریاتی سطح پر فلسطینی مسئلہ اورعرب یکجہتی کی بات ہوتی ہے، اور دوسری طرف عملی سطح پر مفادات کے تحت تعلقات قائم کیے جاتے ہیں۔یہ تضاد جدید مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کاایک بنیادی پہلو ہے۔ اس ماحول میں انورقرقاش کابیان ایک فکری توازن کی عکاسی کرتاہے۔انہوں نے واضح کیاکہ خطہ تصادم سے نہیں بلکہ تعاون سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ان کابیان گویاایک فکری چراغ ہےجو اس ہنگامہ خیزماحول میں توازن کی راہ دکھاتاہے۔انہوں نے واضح کیاکہ طاقت کے ساتھ ساتھ حکمت بھی ضروری ہے۔
جدیدسفارت کاری میں سچ اوربیانیہ دوالگ حقیقتیں ہیں۔کبھی یہ ملتی ہیں اورکبھی ایک دوسرے کے متوازی بہتی رہتی ہیں۔امارات کی تردید اوراسرائیل کااعلان دونوں اپنی اپنی جگہ ایک سچ ہیں،مگرمکمل حقیقت ان کے درمیان کہیں پوشیدہ ہے۔مشرقِ وسطیٰ کاخطہ ایک ایسی داستان ہے جس کاہرباب ادھور اہے اور ہرکرداراپنے اپنے سچ کے ساتھ اس کہانی کوآگے بڑھا رہا ہے۔یوں محسوس ہوتاہے جیسے یہ خطہ ایک عظیم الشان داستان کااسٹیج اورسیاست کی ایک ایسی تہذیبی تمثیل ہے،جہاں پردے گرتے بھی ہیں اوراٹھتے بھی،مگرکہانی کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ہرواقعہ ایک نئے باب کی تمہیدبن جاتاہے،اورہرتردیدایک نئی حقیقت کو جنم دیتی ہے ۔تا ہم تردیدکے پردے میں بھی یواے ای خودکوچھپانے میں مکمل طورپر ناکام نظرآرہاہے اوراس کی نئی داخلی اورخارجہ پالیسیاں مستقبل میں مزیدتنہائیوں کاخوفناک طوفان تیزی سے آگے بڑھ رہاہے۔