Search
Close this search box.
هفته ,18 جولائی ,2026ء

بھارتی جنگی صنعت ناکامیوں کی داستان

بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) جوگیندر جسونت سنگھ کی جانب سے براہموس میزائل کی صلاحیتوں سے متعلق کیے گئے دعوؤں نے ایک مرتبہ پھر جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک استحکام، دفاعی صلاحیت اور عسکری بیانیے کے درمیان موجود فرق کو نمایاں کر دیا ہے۔براہموس کو برسوں سے بھارت کی دفاعی خود انحصاری اور تکنیکی ترقی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، لیکن اس پروگرام کی تاریخ متعدد تکنیکی ناکامیوں، آزمائشی مسائل اور آپریشنل کمزوریوں سے بھری پڑی ہے۔ ان حقائق کو نظر انداز کرکے صرف رفتار، رینج اور تباہ کن صلاحیت کو بنیاد بنا کر کسی ہتھیار کو ناقابل شکست قرار دینا نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ خطے میں غیر ضروری عسکری خود اعتمادی کو بھی فروغ دیتا ہے۔ 2012 ء کی ترقیاتی آزمائش میں مختلف ذیلی نظام مطلوبہ معیار کے مطابق کام نہ کر سکے۔
2015 ء میں ہونے والی ایک اور آزمائش کے دوران تکنیکی مسائل نے پروگرام کی تیاری اور اعتبار پر سوالات اٹھائے، جبکہ جولائی 2021 ء میں اوڈیشہ کے ساحل سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے براہموس میزائل کی آزمائش کے دوران پروپلشن سسٹم کی خرابی کے باعث میزائل لانچ کے فوراً بعد گر گیا۔ان تمام واقعات کے باوجود سب سے زیادہ تشویش ناک واقعہ مارچ 2022 میں پیش آیا، جب جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا براہموس سپر سونک کروز میزائل حادثاتی طور پر بھارت سے فائر ہوا اور پاکستان کے شہر میاں چنوں کے قریب جا گرا۔ یہ محض ایک تکنیکی خرابی نہیں تھی بلکہ اس نے بھارت کے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام، حفاظتی طریقہ کار اور اسٹریٹجک ہتھیاروں کی نگرانی کے نظام کے بارے میں سنگین سوالات پیدا کر دیے۔جنوبی ایشیا دنیا کے ان چند خطوں میں شامل ہے جہاں دو جوہری طاقتیں براہ راست آمنے سامنے موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی بھی اسٹریٹجک ہتھیار کا حادثاتی استعمال یا غلط لانچ ایک محدود واقعے سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر اس واقعے کو ایک جارحانہ کارروائی سمجھ لیا جاتا تو چند منٹوں میں پورا خطہ ایک بڑے فوجی بحران کی لپیٹ میں آ سکتا تھا۔ یہ واقعہ درست نشانہ بنانے کی صلاحیت یا تکنیکی برتری سے زیادہ حفاظتی غفلت اور نظامی کمزوریوں کی علامت بن کر سامنے آیا۔حقیقت یہ ہے کہ جدید جنگی نظاموں کی کامیابی کا انحصار صرف رفتار اور مار کی صلاحیت پر نہیں ہوتا بلکہ ان کی قابل اعتماد کارکردگی، حفاظتی انتظامات، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور آپریشنل استحکام پر ہوتا ہے۔ اسے اکثر مکمل بھارتی دفاعی صلاحیت کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہےحالانکہ یہ بنیادی طور پر ایک مشترکہ بھارت۔روس منصوبہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف براہموس پروگرام ہی تکنیکی مسائل اور تاخیر کا شکار نہیں رہا بلکہ بھارت کے سب سے نمایاں مقامی دفاعی منصوبوں میں شمار ہونے والا تیجس لڑاکا طیارہ بھی کئی دہائیوں سے مسائل کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ جس پروگرام کا آغاز 1980 ء کی دہائی میں اس مقصد کے ساتھ کیا گیا تھا کہ بھارت ایک مکمل مقامی لڑاکا طیارہ تیار کرکے دفاعی خود انحصاری کی جانب بڑا قدم اٹھا سکے۔ لیکن منصوبہ وقت، لاگت اور تکنیکی اہداف کے تقریباً ہر مرحلے پر مشکلات کا شکار رہا۔ ابتدائی طور پر چند برسوں میں مکمل ہونے والا منصوبہ کئی دہائیوں تک التوا کا شکار رہا اور اس کی لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہوتا چلا گیا۔تیجس کی سب سے بڑی ناکامی مقامی کاویری انجن پروگرام کی ناکامی سمجھی جاتی ہے۔ بھارتی انجینئرنگ کے اس اہم منصوبے سے توقع کی جا رہی تھی کہ یہ طیارے کو مکمل مقامی انجن فراہم کرے گا، لیکن مطلوبہ تھرسٹ اور تکنیکی معیار حاصل نہ ہونے کے باعث بھارت کو غیر ملکی انجنوں پر انحصار کرنا پڑا۔یہ حقیقت بھی قابل توجہ ہے کہ تیجس کے متعدد اہم اجزاء، الیکٹرانک نظام، ریڈار اور دیگر حساس پرزے بیرونی سپلائرز سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ یوں اسے مکمل مقامی دفاعی پیداوار کی مثال قرار دینا عملی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔بھارتی فضائیہ نے بھی مختلف مراحل پر تیجس کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔ آپریشنل حدود، محدود پے لوڈ، مینٹیننس کے مسائل، طویل المدتی لاجسٹک سپورٹ اور مطلوبہ تعداد میں بروقت فراہمی جیسے معاملات مسلسل زیر بحث رہے۔ کئی برسوں تک خود بھارتی فضائیہ کی جانب سے اس طیارے کی مکمل آپریشنل افادیت کے حوالے سے سوالات اٹھائے جاتے رہے۔یہ تمام حقائق اس تاثر کو کمزور کرتے ہیں کہ بھارت دفاعی ٹیکنالوجی میں مکمل خود کفالت حاصل کر چکا ہے۔ دفاعی خود انحصاری صرف سیاسی نعروں، عسکری تقاریر یا میڈیا مہمات سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مکمل تکنیکی مہارت، آزادانہ تحقیق، مقامی انجن سازی، خود مختار پیداوار اور عالمی معیار کی صنعتی بنیاد درکار ہوتی ہے۔براہموس اور تیجس دونوں منصوبے اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ جدید دفاعی نظاموں کی کامیابی کا پیمانہ اشتہاری مہمات یا قوم پرستانہ بیانیہ نہیں بلکہ میدان میں ان کی مسلسل اور قابل اعتماد کارکردگی ہوتی ہے۔جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں عسکری قوت کے نام پر غیر ضروری خود اعتمادی اور اشتعال انگیز بیانات خطے کے امن کے لیے فائدہ مند نہیں ہو سکتے۔ حقیقی دفاعی طاقت کا تعلق ذمہ دارانہ رویے، مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول، تکنیکی خودمختاری اور قابل اعتماد آپریشنل صلاحیت سے ہوتا ہے۔براہموس کو ناقابل شکست اور تیجس کو دفاعی خود انحصاری کی آخری منزل قرار دینا شاید سیاسی اور نفسیاتی سطح پر مفید ہو، لیکن تکنیکی ریکارڈ، آزمائشی نتائج اور عملی تجربات ایک مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں