کسی عزیز کی وفات کے وقت انسان فطری طور پر غم اور صدمے کی کیفیت سے گزرتا ہے، مگر یہی لمحہ دراصل ہمارے ایمان، فہمِ دین اور عملی ترجیحات کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پرجہاں شریعت ہمیں صبر،حکمت اورذمہ داری کا راستہ دکھاتی ہے، وہاں ہمارے معاشرے میں اکثر فیصلے جذبات، رسم و رواج اور ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ جیسے دباؤ کے تحت کیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً وہ امور پسِ پشت چلےجاتے ہیں جنہیں دین نے بنیادی اہمیت دی ہے اور وہ چیزیں نمایاں ہو جاتی ہیں جن کی حیثیت ثانوی یا محض معاشرتی ہے۔
اسلام نےمیت کے بعد کے معاملات کے لیے نہایت واضح، متوازن اور حق پر مبنی ترتیب مقرر کی ہے۔ اس ترتیب کا مقصد محض ایک رسمی خاکہ پیش کرنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہےکہ کسی کاحق ضائع نہ ہواور ہر ذمہ داری بروقت ادا ہو۔ سب سے پہلے تجہیز و تکفین کے ضروری تقاضے سادگی اوراعتدال کےساتھ پورے کیےجائیں، اس کے بعد میت کے ذمہ واجب الادا قرض کی ادائیگی کو اولین ترجیح دی جائےکیونکہ قرض محض مالی معاملہ نہیں بلکہ حقوق العباد میں سے ہے۔ اس کےبعداگر مرحوم نےکوئی جائزوصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی مال کی حد تک نافذ کیاجائے،بشرطیکہ وہ کسی وارث کےحق میں نہ ہو۔ پھرباقی ماندہ ترکہ کو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تمام ورثاء میں منصفانہ طور پر تقسیم کیا جائے۔ یہی وہ ترتیب ہے جو ایک عادلانہ معاشرے کی بنیاد رکھتی ہے۔
بدقسمتی سےعملی صورتحال اس کےبرعکس ہے۔ ہمارےہاں اکثروراثت کی تقسیم کو مہینوں بلکہ برسوں تک مؤخرکردیاجاتا ہےجبکہ قل،چہلم اوردیگر تقریبات کے انعقاد میں غیر معمولی اہتمام کیاجاتا ہے۔ بعض خاندان ان رسومات کو نبھانے کےلیےاپنی استطاعت سے بڑھ کرخرچ کرتے ہیں حتیٰ کہ سودی قرض لینے سے بھی گریز نہیں کرتےحالانکہ مرحوم کےاپنے ذمہ قرض باقی ہوتےہیں۔ یہ طرزِعمل نہ صرف شرعی ترتیب کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک سنگین اخلاقی تضاد کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔
ایصالِ ثواب کےقل،چہلم کےموقع پر قرآن خوانی، دعا، صدقہ اور خیرات جیسے اعمال یقیناً باعثِ اجرہیں اور انکی ترغیب بھی دی گئی ہے لیکن ان کی حیثیت مستحب ہے، لازم یا فرض نہیں۔ جب یہی مستحب اعمال سماجی دباؤ، نمود و نمائش یا مقابلہ بازی کی صورت اختیار کر لیں اور ان کےلیے واجب حقوق کو پسِ پشت ڈال دیاجائے تو ان کی روح متاثر ہو جاتی ہے۔ دین کا مزاج اعتدال، اخلاص اور توازن ہے؛ وہ ایسےکسی عمل کو پسند نہیں کرتا جس میں ظاہری نیکی کے ساتھ باطنی بے انصافی شامل ہو۔
نبی اکرمﷺ کی سیرتِ طیبہ اس معاملے میں ہمارے لیے واضح رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ آپ ﷺ میت کے بارے میں سب سے پہلے اس کے قرض کے متعلق دریافت فرماتے اور اس کی ادائیگی کو یقینی بنانے کی تلقین کرتےتھے۔ اس سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ مرنے والے کے ذمے باقی حقوق کی ادائیگی ہر دوسرے عمل پر مقدم ہے۔ اس کے برعکس اگر معاشرہ اپنی توانائیاں اور وسائل غیر ضروری رسومات پر صرف کرے اور اصل ذمہ داریوں کو نظرانداز کرے تو یہ ترجیحات کا شدید بگاڑ ہے۔
وراثت کے احکام قرآنِ مجید میں جس وضاحت اور تاکید کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں، وہ اس مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کرنےکےلیے کافی ہیں۔ سورۂ نساء میں ان حصوں کو اللہ کی مقرر کردہ حدود قراردیاگیا ہے، جن کی پابندی کامیابی اور خلاف ورزی خسارے کا سبب بنتی ہے۔ اس کے باوجود، عملی طور پر سب سے زیادہ ناانصافی اسی شعبے میں دیکھنے میں آتی ہے۔ بیٹیوں اور بہنوں کو مختلف حیلوں اور بہانوں سے ان کےحق سے محروم رکھا جاتا ہے کبھی جہیز کو عوض قراردیاجاتاہے، کبھی خاندانی تعلقات کا حوالہ دے کر خاموشی اختیار کرنے پرمجبور کیا جاتا ہےاورکبھی غیر اعلانیہ دباؤ کےذریعے ان سے دستبرداری کے کاغذات پر دستخط کروا لیےجاتے ہیں۔
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ وراثت کوئی احسان نہیں بلکہ ایک شرعی حق ہےجسے اللہ تعالیٰ نےخود مقرر کیا ہے۔ جہیز یا شادی کے اخراجات اس حق کا بدل نہیں بن سکتے، جب تک کہ مکمل شفافیت اورحقیقی رضامندی کے ساتھ اسے باقاعدہ وراثتی حصے کے طور پر تسلیم نہ کیا جائے۔ مزید یہ کہ اگر کوئی خاتون اپنے حصے سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتی ہے تو یہ دیکھنا لازم ہےکہ آیا یہ فیصلہ واقعی آزادانہ ہے یا اس کے پیچھے معاشرتی دباؤ اور تعلقات کے ٹوٹنےکاخوف کارفرما ہے۔ اسلام کسی مظلوم کی مجبوری کو رضامندی قرار نہیں دیتا۔وراثت میں ناانصافی کےاثرات محض مالی نقصان تک محدود نہیں رہتےبلکہ یہ خاندانی نظام کواندرسےکمزور کردیتے ہیں۔ بہنوں اور بیٹیوں کو محروم کرنا ان کے دلوں میں احساسِ محرومی اور رنجش پیداکرتا ہےجو وقت کےساتھ گہری دراڑوں میں بدل جاتاہے۔ ایسے ماحول میں بظاہرحاصل ہونے والا مال بھی برکت سےخالی ہو جاتا ہےکیونکہ وہ انصاف اور دیانت کے اصولوں کے برخلاف تقسیم کیا گیا ہوتا ہے۔شریعت اسلامیہ کاحسن یہی ہےکہ وہ انسانی جذبات کی رعایت کے ساتھ ساتھ حقوق کی مکمل پاسداری بھی سکھاتی ہے۔ ایصالِ ثواب کی بہترین صورت وہ ہےجس میں اخلاص، سادگی اورحقیقی نفع ہو،جیسےدعا،صدقہ جاریہ،علم یافلاحی کاموں کی سرپرستی۔ اس کے برعکس وہ اعمال جومحض دکھاوے یا سماجی دباؤ کے تحت کیے جائیں، وقتی تسکین تو دے سکتے ہیں مگر حقیقی معنوں میں نفع بخش نہیں ہوتے۔
اس پورے معاملے میں علماء، خطباء اور معاشرے کے بااثر افراد پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کی درست رہنمائی کریں۔ منبر و محراب سے صرف رسومات کے جواز پر گفتگو کافی نہیں بلکہ وراثت کے حقوق، قرض کی اہمیت اور مالی دیانت داری جیسے بنیادی موضوعات کو بھی اجاگرکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح ہر فرد کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنے مالی معاملات کو منظم کرے، قرض کی تفصیل واضح رکھے اور ایک جائز وصیت تحریر کرے تاکہ اس کے بعد کے معاملات میں ابہام اور نزاع پیدا نہ ہو۔
آخرکار، میت سے حقیقی محبت کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے ذمہ واجبات ادا کیے جائیں، اس کے قرض چکائےجائیں، اس کی چھوڑی ہوئی امانت کو انصاف کے ساتھ تقسیم کیا جائے اور اس کے لیے اخلاص کے ساتھ دعا و صدقہ کیا جائے۔ اگر ان بنیادی ذمہ داریوں کو نظرانداز کر کےمحض ظاہری رسومات پر اکتفا کیاجائے تو یہ نہ صرف دین کے مزاج کے خلاف ہے بلکہ ایک اخلاقی کمزوری کی بھی علامت ہےلہٰذا ضروری ہےکہ ہم اپنی ترجیحات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں، معاشرتی دباؤ سے اوپر اٹھیں اور شریعت کے بتائے ہوئے اصولوں کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کریں۔