Search
Close this search box.
جمعه ,17 جولائی ,2026ء

پردہ و بیانیہ

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست محض واقعات کی قطارنہیں بلکہ معانی کاایک سمندرہے ایساسمندرجس کی سطح پرلہریں دکھائی دیتی ہیں مگراس کی گہرائیوں میں تہذیب،طاقت،خوف اورمفاد کے ایسے بہاجاری ہوتے ہیں جن تک رسائی ہرنگاہ کونصیب نہیں ہوتی۔خطہ کی سیاست ہمیشہ سے رازونیاز، مصلحت ومکراورظاہرو با طن کی ایک پیچیدہ داستان رہی ہے۔یہاں لفظ محض لفظ نہیں رہتابلکہ اشارہ بن جاتا ہے،اورخاموشی کبھی کبھی بلندترین اعلان سے زیادہ معنی خیزہوتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کواگرایک تمثیل میں سمویاجائے تویہ ایک ایسادبیز پردہ ہے جس کے پیچھے کردارمسلسل حرکت میں ہیں، مگرسامنے صرف سائے دکھائی دیتے ہیں۔
یہاں فیصلے بندکمروں میں ہوتے ہیں اور اعلانات کھلے میدانوں میںاوراکثران دونوں کے درمیان فاصلہ اتناہوتاہے کہ حقیقت اورتاثر دوالگ دنیائیں بن جاتی ہیں۔حالیہ قضیہ اسرائیلی وزیراعظم کے مبینہ خفیہ دورے اورمتحدہ عرب امارات کی فوری اوردوٹوک تردیدکا معاملہ بھی اسی دورے کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔یہ محض ایک خبریااس کی تردیدنہیں بلکہ طاقت، بیانیہ،علاقائی توازن اورنفسیاتی سفارت کاری کاایک پیچیدہ مرکب ہے اسی داستان کاایک نیاباب ہے،جس میں سیاست کے پردے کے پیچھے کئی پرتیں جھلکتی ہیں۔ نیتن یاہو کاخفیہ دورہ اسی سمندرکی ایک پرشورموج ہے،جس کے نیچے کئی خاموش دھارائیں اپناراستہ بنارہی ہیں ۔
سیاسی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بعض اوقات واقعہ خوداہم نہیں ہوتابلکہ اس کااعلان زیادہ معنی رکھتا ہے،یہاں بھی یہی ہوا۔سوال یہ نہیں کہ دورہ ہو ایا نہیںبلکہ یہ کہ اس کااعلان اس وقت کیوں کیاگیا؟یہ وہ لمحہ تھاجب اسرائیل داخلی طورپردباکاشکارتھا،اورعلاقائی سطح پرخود کوتنہا محسوس کررہاتھا۔ایسے میں ایک خفیہ سفارتی کامیابی کا اعلان ایک نفسیاتی حربہ بن جاتاہے ایک ایساحربہ جوعوام کویہ باورکراتاہے کہ قیادت اب بھی حالات پرقابض ہے۔
دوگھنٹوں کے اندراندربیانیہ بدل جانااس بات کی دلیل ہے کہ جدیدسفارت کاری میں وقت بھی ایک ہتھیارہے۔امارات کی وزارت خارجہ نے جس سرعت سے ردعمل دیا،وہ دراصل ایک پیشگی دفاع تھا ایک ایساحصارجس میں داخل ہوکرکوئی دوسرابیانیہ اثرانداز نہ ہو سکے۔اسرائیلی دفترسے اعلان اور صرف دوگھنٹوں بعد اماراتی تردیدیہ تیزی محض ردعمل نہیں بلکہ پیش بندی تھی۔یہ محض ایک خبرکی تردیدنہ تھی بلکہ خودمختاری کاایک سفارتی اعلان تھاکہ ابوظہبی اپنی خارجہ پالیسی کابیانیہ خودتحریرکرے گا۔گویاابوظہبی نے صاف لفظوں میں کہہ دیا،ہماری زمین پرہونے والی ہرکہانی،ہماری اجازت سے لکھی جائے گی اورہماری سفارت کاری کی کتاب،کسی اورکے قلم سے نہیں لکھی جاسکتی۔
متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی گزشتہ دہائی میں ایک نئے سانچے میں ڈھلی ہے۔یہ پالیسی نہ تومکمل خاموشی پرمبنی ہے اورنہ ہی مکمل اعلانیہ صف بندی پر بلکہ یہ ایک درمیانی راہ ہے جسے محسوس مگرغیر مرئی سفارت کاری کہاجاسکتاہے۔ اسی لیے جب اسرائیلی اعلان نے اس توازن کوتوڑنے کی کوشش کی توامارات نے فوراردعمل دیا۔یہ ردعمل دراصل ایک اصول کادفاع تھاکہ تعلقات ہو سکتے ہیں،مگران کی تشہیرہماری شرائط پرہوگی۔اسرائیل کے اعلان میں جہاں داخلی سیاست کی بواوراضطراب جھلکتاہے،وہیں سعودی عرب کے لئے ایک نہائت اہم اشارہ بھی پوشیدہ ہے ایک ایسااشارہ جوبظاہرنرم مگرمعنوی طور پرنہایت گہراہے یعنی سعودی عرب کے لئے ایک اہم خاموش پیغام بھی پوشیدہ تھا،دیکھو!راستے کھل چکے ہیں،اب تم پرہے کہ قدم بڑھاؤیاٹھہر جاؤ۔ جب ایک امارتی محقق اورنامور پروفیسر اس بیانیے کو تخیل کی تصویر قراردیتاہے تویہ محض رائے نہیں رہتی بلکہ ایک فکری مورچہ بن جاتی ہے۔ اماراتی پروفیسرکی تردیددراصل ریاستی مؤقف کی علمی توثیق تھی۔یہاں علم،سیاست کادست وبازوبنتاہے اور بیانیے کوجواز فراہم کرتاہے انہوں نیاس بیانیے کوسیاسی تخیل قراردیکریہ واضح کیاکہ بعض اوقات سیاست دان حقیقت سیزیادہ افسانہ نگارہوتے ہیں۔
خلیجی ریاستیں خصوصاً امارات اورسعودی عرب،اپنی خارجہ پالیسی میں ایک خاص نفسیاتی توازن برقراررکھتی ہیں۔وہ بیک وقت تین سطحوں پرکھیل رہی ہوتی ہیں۔عوامی سطح پرعرب واسلامی تشخص،عملی سطح پرمغربی واسرائیلی تعاون اورعلاقائی سطح پرایران کے ساتھ کشیدگی کاتوازن۔وہ تینوں دائروں کوبیک وقت سنبھالناایک نازک فن ہے۔اسی لیے کسی بھی خفیہ تعلق کا قبل ازوقت انکشاف اس پورے توازن کوبگاڑسکتاہے۔ زیو اگمون کی تصدیق ایک اورکہانی سناتی ہے جوایک دلچسپ تضاد کوجنم دیتی ہے۔ان کے بیان میں جوشان وشوکت اوشاہی استقبال کا ذکرہے،وہ دراصل اسرائیلی عوام کے لئے ایک نفسیاتی تسکین اورذہنی مرہم ہے۔یہاں سوال یہ نہیں کہ واقعہ ہوایا نہیںسوال یہ ہے کہ اسے کیوں سنایاگیا؟ دراصل حقیقت میں یہ وہ ضرورت جوایک سیاسی رہنما کو اپنے بیانیے کے استحکام کے لئے درکارہوتی ہے۔ اسرائیل کے لئے سب سے بڑاخطرہ صرف عسکری نہیں بلکہ سفارتی تنہائی بھی ہے۔اگرعرب دنیاکے ساتھ تعلقات کومعمول پرلانے کاتاثرقائم ہو جائے تویہ اس کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایسے اعلانات کے ذریعے یہ پیغام دیاجاتاہے کہ ہم تنہانہیں،بلکہ خطے کے اہم کھلاڑی ہمارے ساتھ ہیںچاہے وہ کھل کرنہ بھی کہیں۔
اس پورے معاملے کوایران کے بغیرسمجھناممکن نہیں۔ایران نہ صرف ایک علاقائی طاقت ہے بلکہ ایک نظریاتی قوت بھی ہے،جس کے ساتھ خلیجی ریاستوں کا تعلق کشیدگی اورمجبوری کے درمیان جھولتارہتا ہے۔ امارات اگراسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کوزیادہ نمایاں کرے تویہ ایران کے ساتھ تعلقات میں ایک نئی کشیدگی کوجنم دے سکتاہے۔اسی لئے تردید ایک سفارتی ضرورت بن جاتی ہے۔یہاں ایرانی وزیر خارجہ کے بیانات اس خاموش کشمکش کی علامت ہیں جوخلیج میں زیرِسطح بہہ رہی ہے۔گویا اس داستان کا وہ باب ہیں جو بظاہر الگ مگردرحقیقت مرکزی حیثیت رکھتاہے۔ خلیج کی سیاست میں ایران ایک ایساکردارہے جس کی موجودگی ہرفیصلے کے پس منظرمیں سایہ فگن رہتی ہے۔یہ خطہ اب صرف جغرافیہ نہیں رہابلکہ ایک شطرنج کی بساط بن چکاہے جہاں ہرچال کئی سمتوں میں اثرڈالتی ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں