آج ملک کو دشمن کے میزائلوں سے زیادہ خطرہ آسمان سے برستی آگ سے ہے۔ موسم بدل رہے ہیں۔ بارشیں اپنا راستہ بھول چکی ہیں۔ دریا کبھی بپھر جاتے ہیں اور کبھی سوکھ جاتے ہیں۔ پہاڑوں پر جمی برف تیزی سے پگھل رہی ہے۔ شہر بھٹی بن چکے ہیں۔ دیہات پانی کو ترس رہے ہیں۔ فضا میں زہر گھل رہا ہے اور زمین اپنی نمی کھوتی جا رہی ہے۔ یہ سب اچانک نہیں ہوا۔ ہم نے برسوں تک درخت کاٹے اور بدلے میں کنکریٹ کے جنگل اگاتے رہے۔ اب قدرت اپنا حساب مانگ رہی ہے۔پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ یہ المیہ اس لئے بھی بڑا ہے کہ عالمی گرین ہاس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ اس کے باوجود گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں کئی شہروں میں درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچ گیا۔ 2022 ء کے تباہ کن سیلاب نے تین کروڑ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا۔ لاکھوں گھر تباہ ہوئے۔ ہزاروں کلومیٹر سڑکیں بہہ گئیں۔ زرعی زمینیں زیر آب آگئیں اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ اس کے بعد بھی ہم نے اگر کوئی سبق نہیں سیکھا تو شاید پھر کبھی سیکھنے کا موقع نہ ملے۔موسمیاتی تبدیلی کے خلاف سب سے سستا اور مثر ہتھیار درخت ہیں۔ ایک صحت مند بالغ درخت ہر سال اوسطا بائیس کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے۔ یہ آکسیجن پیدا کرتا ہے۔ زمین کا درجہ حرارت کم کرتا ہے۔ بارش کے پانی کو زمین میں جذب ہونے میں مدد دیتا ہے۔ مٹی کے کٹا کو روکتا ہے۔ پرندوں اور جنگلی حیات کو پناہ دیتا ہے اور انسانی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتا ہے۔ ایک درخت اپنی پوری زندگی میں تقریبا ایک ٹن کاربن محفوظ کر سکتا ہے۔ اگر لاکھوں درخت موجود ہوں تو وہ پورے علاقے کے موسم کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اداروں اور عالمی ماحولیاتی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے کل رقبے کا کم از کم پچیس فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے تاکہ ماحول کا قدرتی توازن برقرار رہے۔ پاکستان اس معیار سے بہت دور کھڑا ہے۔ مختلف سرکاری اور بین الاقوامی اندازوں کے مطابق ملک میں جنگلات کا رقبہ صرف پانچ سے چھ فیصد کے درمیان ہے۔ یعنی ہم مطلوبہ حد سے تقریباً چار گنا پیچھے ہیں۔ یہی وہ خلا ہے جس نے پاکستان کو موسمیاتی آفات کے سامنے بے بس کر دیا ہے۔ اگر ہر شہری صرف دس درخت لگا کر ان کی حفاظت کرے تو ملک میں تقریباً ڈھائی ارب نئے درخت شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر ہر خاندان پچاس درختوں کی ذمہ داری قبول کر لے تو چند برسوں میں پاکستان کا نقشہ بدل سکتا ہے۔افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں شجرکاری ایک رسمی تقریب بن چکی ہے۔ ہر سال بارشوں کے موسم میں تصاویر بنتی ہیں۔ چند پودے لگائے جاتے ہیں۔ حکومتیں اعداد و شمار سناتی رہتی ہیں مگر ان پودوں کی بقا کا کوئی نظام نظر نہیں آتا۔ درخت لگانے سے زیادہ اہم کام ان کی حفاظت ہے۔ ایک پودا پانچ سے دس برس بعد جا کر درخت بنتا ہے۔ اگر اس عرصے میں اس کی نگہداشت نہ ہو تو ساری محنت ضائع ہو جاتی ہے۔خیبر پختونخوا میں بلین ٹری منصوبہ اسی سوچ کے ساتھ شروع کیا گیا تھا کہ تباہ حال جنگلات کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ اس منصوبے نے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔ سیٹلائٹ تصاویر اور متعدد تحقیقی مطالعات سے ظاہر ہوا کہ کئی علاقوں میں سبز رقبہ بڑھا اور جنگلات کی بحالی میں پیش رفت ہوئی۔ یقینا اس منصوبے پر سیاسی بحث بھی ہوتی رہی مگر ماحولیات کو سیاست کا یرغمال نہیں بنانا چاہیے۔ اگر کوئی منصوبہ ملک کے ماحول اور آنے والی نسلوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوا ہے تو اسے مزید بہتر بنا کر جاری رکھا جانا چاہیے۔ عمران خان کے پیش کردہ بلین ٹری وژن کو نئے عزم کے ساتھ دوبارہ شروع کیا جائے اور اسے صرف ایک صوبے تک محدود رکھنے کے بجائے قومی مشن بنایا جائے۔خصوصا خیبر ضلع مہمند، ضلع باجوڑ ضلع کرم اور دیگر سابق قبائلی اضلاع میں بڑے پیمانے پر شجرکاری کی فوری ضرورت ہے۔ ان علاقوں کے پہاڑ کئی دہائیوں کے دوران درختوں سے محروم ہوتے گئے۔ کہیں ایندھن کے لیے جنگلات کاٹے گئے اور کہیں غیر قانونی مافیا نے سبزہ اجاڑ دیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان پہاڑوں کو دوبارہ سبز لباس پہنایا جائے۔ اگر ان علاقوں میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں درخت لگا دیے جائیں تو نہ صرف مقامی آب و ہوا بہتر ہوگی بلکہ بارشوں کا نظام بھی مضبوط ہوگا اور مٹی کا کٹا بھی کم ہوگا۔یہ مہم صرف خیبر پختونخوا تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔
پنجاب میں نہروں کے کنارے۔ سندھ میں دریائے سندھ کے اطراف بلوچستان کے خشک پہاڑوں میں، گلگت بلتستان کی وادیوں میں اور آزاد کشمیر کے دامن میں ایک قومی شجرکاری مہم شروع کی جائے۔ ہر ضلع کے لیے سالانہ ہدف مقرر ہو۔ ہر تحصیل کی کارکردگی عوام کے سامنے رکھی جائے۔ جو ضلع سب سے زیادہ درخت زندہ رکھے اسے قومی اعزاز دیا جائے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ شجرکاری کو پاکستان کی پہلی قومی ایمرجنسی قرار دیا جائے۔ جس طرح سیلاب یا دہشت گردی کے خلاف ہنگامی اقدامات کیے جاتے ہیں اسی طرح درخت اگانے کے لئے بھی قومی ایمرجنسی نافذ کی جائے۔ وزیراعظم کی سربراہی میں قومی گرین کونسل قائم ہو۔ تمام وزرائے اعلی اس کا حصہ ہوں۔ ہر وزارت کو سالانہ شجرکاری کا ہدف دیا جائے اور اس کی کارکردگی اسی بنیاد پر جانچی جائے۔ہر نئی ہائوسنگ سوسائٹی کے لیے لازمی قرار دیا جائے کہ وہ اپنے کل رقبے کا مناسب حصہ جنگلات اور سبز پٹیوں کے لیے مختص کرے۔ ہر نئی شاہراہ کے دونوں اطراف درخت لگانا قانونی شرط ہو۔ ہر صنعتی ادارہ اپنے کاربن اخراج کے مطابق درخت لگانے کا پابند ہو۔ ہر سرکاری دفتر سالانہ شجرکاری رپورٹ جاری کرے۔ ہر ضلع میں نرسریاں قائم کی جائیں تاکہ مقامی اقسام کے پودے آسانی سے دستیاب ہوں۔تعلیمی اداروں کو بھی اس قومی مشن کا مرکز بنایا جائے۔ ہر طالب علم اپنی تعلیم کے دوران کم از کم پانچ درخت لگائے اور ان کی دیکھ بھال کرے۔ یونیورسٹیوں میں ماحولیات کے تحقیقی منصوبوں کو عملی شجرکاری سے جوڑا جائے۔ درخت کاٹنے والوں کے خلاف بھی سخت ترین قانون بنانا ہوگا۔ آج ایک قیمتی درخت چند ہزار روپے میں کاٹ دیا جاتا ہے جبکہ اسے دوبارہ تیار ہونے میں کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ غیر قانونی کٹائی کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جائے۔ بھاری جرمانے عائد کیے جائیں۔ ضبط شدہ لکڑی کی نیلامی کے بجائے اسے عوامی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے اور جنگلات کی نگرانی کے لیے جدید سیٹلائٹ نظام اور ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کی جائے۔ درخت صرف حکومت نہیں لگا سکتی۔ اس کے لیے پوری قوم کو اٹھنا ہوگا۔ مسجد کا امام اپنے خطبے میں درخت کی اہمیت بیان کرے۔ استاد اپنے طالب علم کو ایک پودا دے۔ صنعت کار اپنی فیکٹری کے ساتھ جنگل اگائے۔ کسان اپنی زمین کے کناروں پر درخت لگائے۔ ہر شادی میں تحفے کے طور پر پودا دیا جائے۔ ہر بچے کی پیدائش پر ایک درخت لگایا جائے۔ ہر مرحوم کی یاد میں ایک درخت اگایا جائے۔ جب درخت ہماری ثقافت کا حصہ بن جائیں گے تبھی پاکستان کا مستقبل محفوظ ہوگا۔قومیں صرف بڑی عمارتوں سے ترقی نہیں کرتیں۔ اصل ترقی وہ ہے جس میں ہوا صاف ہو۔ پانی میسر ہو۔ زمین زرخیز ہو اور آنے والی نسلوں کو زندہ رہنے کا حق ملے۔ اگر ہم نے آج درختوں کو قومی ترجیح نہ بنایا تو کل ہمارے بچے ہم سے پوچھیں گے کہ جب زمین جل رہی تھی تب تم کیا کر رہے تھے۔اب وقت آ گیا ہے کہ سیاست سے بالاتر ہو کر ایک قومی فیصلہ کیا جائے۔ پاکستان میں شجرکاری کو پہلی قومی ایمرجنسی قرار دیا جائے۔ ہر شہری کو اس مشن کا سپاہی بنایا جائے۔ ہر ضلع کو سبز پاکستان کی ذمہ داری دی جائے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ آج کا لگایا ہوا ایک پودا کل کسی بچے کی سانس بنے گا۔ یہی درخت پاکستان کی زندگی ہیں اور یہی اس کے مستقبل کی سب سے مضبوط ضمانت۔