Search
Close this search box.
جمعه ,17 جولائی ,2026ء

قونیہ ،کعبہ عشاقِ الٰہی، شہر معرفت حق اور بیداری صادق کا سفر راحت قلب منزل

آج میں ایک بار پھر قونیہ کی طرف سفر کر رہا ہوںعشاقِ الٰہی کے کعبہ کی طرف، دلوں کے شہر کی طرف، اس عظیم روحانی استاد اور مرشدِ کامل حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ کے شہر کی طرف۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایمان اور توحید کی محبت دل میں تازہ ہوتی ہے، جہاں اقرارِ زبان اور تصدیقِ قلب ایک ہو کر انسان کو اللہ تعالیٰ کی محبت میں ایسا محو کر دیتے ہیں کہ وہ نفرت کی تمام بندشوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔قونیہ کا روحانی اثرجب سے میں نے اس مبارک شہر میں آنا شروع کیا ہے، قونیہ نے مجھے وہ عطا کیا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ جیسے ہی میں حضرت مولانا رومی کے مزارِ اقدس کے قریب پہنچتا ہوں، دنیا کا شور آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتا ہے۔ دل پر سکون ہو جاتا ہے، روح ہلکی محسوس ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کی محبت کی ایک خاموش لہر اندر سے اٹھتی ہے۔ یہ محض ایک جذباتی کیفیت نہیں بلکہ روح کا اپنے رب سے ایک خاموش مکالمہ ہے، جسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے، بیان نہیں۔یہ کیفیت صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ ہر زائر اس سے فیض یاب ہوتا ہے۔چند سال قبل میرے مسیحی دوست کرس کوپر، جو وائس آف امریکہ کے میزبان ہیں، میرے ساتھ قونیہ آئے۔ جب ہم حضرت مولانا رومی ؒکے مزار پر پہنچے تو انہوں نے مجھ سے کہا، مجھے کچھ دیر کے لئے یہاں تنہا چھوڑ دیجیے۔ ان پر ایک عجیب روحانی کیفیت طاری ہو چکی تھی۔ وہ پہلی ہی زیارت میں ایک گھنٹے سے زیادہ خاموشی کے ساتھ مزار کے پاس بیٹھے رہے اور بعد میں دوبارہ بھی حاضری دی۔میرے کئی دیگر مسیحی، پولش، یورپی اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے دوستوں نے بھی اسی طرح کے روحانی تجربات بیان کئے ہیں۔
لوگ یہاں سیاح بن کر آتے ہیں، مگر اکثر اللہ کی محبت میں ڈوب کر عاشقِ خدا بن کر واپس جاتے ہیں۔مسلمان، مسیحی، ہندو، بدھ مت کے پیروکار، چین سے آنے والے زائرین، اہلِ علم، شعرا اور دنیا بھر سے عام انسان قونیہ کا رخ کرتے ہیں۔ آکسفورڈ، کیمبرج، ہارورڈ اور دیگر بڑی جامعات کے محققین مسلسل حضرت مولانا رومیؒ پر تحقیق کر رہے ہیں اور ان کے افکار پر ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ مگر مولانا کی عظمت صرف کتابوں میں نہیں سماتی ا نہیں دل سے محسوس کیا جاتا ہے۔مولانا رومی ؒنے اپنے وصال سے قبل ہدایت فرمائی کہ ان کی وفات کی رات کو شبِ عروس کے طور پر منایا جائے، کیونکہ یہ ان کے محبوب اللہ سے ملاقات کی رات ہے۔ آج سات سو برس سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود دنیا بھر سے لاکھوں افراد، جن میں اہم شخصیات، اسکالرز، پروفیسرز اور حکمران شامل ہوتے ہیں، اس روحانی اجتماع میں شریک ہوتے ہیں۔شمس و رومی کا تعلق مولانا رومیؒ کسی ایک قوم، زبان یا مذہب کی میراث نہیں۔ وہ ہر اس دل کے ہیں جو اپنے خالق کی تلاش میں ہے۔ ان کا پیغام تمام سرحدوں سے بلند ہے، کیونکہ اس کی بنیاد اللہ کی محبت، انسانیت کی محبت اور اپنے رب کی طرف واپسی پر ہے۔حضرت
شمس تبریزیؒ سے ملاقات سے پہلے مولانا رومیؒ اپنے زمانے کے عظیم ترین علماء میں شمار ہوتے تھے۔ مگر شمس نے ان کے علم کو ختم نہیں کیا بلکہ اسے عشقِ الٰہی کی روشنی عطا کی۔ ایک عظیم عالم، اللہ کا عاشق بن گیا، اور ایک استاد محبت کا ایسا چراغ بن گیا جس کی روشنی آٹھ سو برس گزرنے کے باوجود آج بھی دلوں کو منور کر رہی ہے۔شمس نے مولانا رومی کو یہ حقیقت دکھائی کہ اللہ کے بارے میں جان لینا اور اللہ کی محبت میں فنا ہو جانا، دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ علم ذہن کو روشن کرتا ہے، مگر عشقِ الٰہی پوری ہستی کو بدل دیتا ہے۔اختتام شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا کے ہر مذہب، ہر قوم اور ہر تہذیب کے لوگ قونیہ کھنچے چلے آتے ہیں۔ یہاں آ کر وہ اکثر وہ چیز پا لیتے ہیں جس کی انہیں خود بھی تلاش کا شعور نہیں ہوتادل کا سکون، روح کا نور، اور اپنے خالق کی قربت کا احساس۔اس لئے قونیہ صرف ایک شہر نہیں، بلکہ عشاقِ الٰہی کا کعبہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں علم، عشق کے سامنے سر جھکا دیتا ہے، جہاں بے قرار دل سکون پا لیتا ہے اور جہاں انسان اپنے رب کی طرف لوٹنے کا راستہ دوبارہ پا لیتا ہے۔گویا حضرت مولانا رومیؒ ہر آنے والے سے ایک خاموش سوال کرتے ہیں:کیا تمہارا دل عشقِ الٰہی سے بیدار ہو چکا ہے؟آج جب میں ایک بار پھر قونیہ کی طرف سفر کر رہا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ میں صرف ترکی کے ایک شہر کی طرف نہیں جا رہا، بلکہ اپنے دل کی طرف سفر کر رہا ہوںاور دل کی طرف ہر سفر درحقیقت اللہ تعالیٰ کی محبت اور توحید خالص و امل طرف سفر ہے۔

یہ بھی پڑھیں