Search
Close this search box.
جمعه ,17 جولائی ,2026ء

کیا مغرب عربی ثقافت سے متاثر خطہ ہے ؟

(گزشتہ سے پیوستہ)
اسی تناظر میں بعض افریقی مفکرین نے یہ دعوی کیا کہ جدید مغرب اپنے علمی وجود میں عربی یا زیادہ درست لفظوں میں اسلامی تہذیب کا بھی وارث ہے۔ یہ دعوی جذباتی نہیں بلکہ ایک تاریخی بحث ہے، جسے دلائل، شواہد اور علمی روایت کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ساتویں صدی عیسوی میں اسلام کے ظہور کے بعد جو تہذیبی دنیا وجود میں آئی، اس کی وسعت حیران کن تھی۔ چند ہی صدیوں میں عرب، فارس، مصر، شام، شمالی افریقہ، اندلس اور وسط ایشیاء ایک ایسے علمی دائرے میں شامل ہو گئے جہاں زبانیں مختلف تھیں مگر علم کی جستجو مشترک تھی۔ بغداد میں بیت الحکمہ، قاہرہ، قرطبہ، دمشق، نیشاپور ، بخارا اور سمرقند جیسے مراکز نے فلسفے، ریاضی، فلکیات، طب، جغرافیہ، کیمیا اور منطق کو نئی جہتیں عطا کیں۔اس دور کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ مسلمانوں نے علم کو مذہبی یا نسلی تعصب کا قیدی نہیں بنایا۔ یونانی فلسفہ، ایرانی حکمت، ہندوستانی ریاضیات اور مصری علوم کو عربی زبان کے ذریعے محفوظ کیا گیا، ان پر تنقیدی شرحیں لکھی گئیں اور ان میں نئی تحقیقات کا اضافہ کیا گیا۔ اس لئے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ اسلامی تہذیب نے صرف علوم کی حفاظت نہیں کی بلکہ انہیں نئی زندگی بھی عطا کی۔اندلس اس تاریخی سلسلے کی روشن ترین مثال ہے۔ قرطبہ، اشبیلیہ اور طلیطلہ میں ایسے علمی مراکز قائم ہوئے جہاں مسلمان، عیسائی اور یہودی علما ایک ساتھ تحقیق کرتے تھے۔ جب یورپ قرونِ وسطی کی تاریکیوں میں الجھا ہوا تھا، اندلس کی لائبریریاں ہزاروں مخطوطات سے بھری ہوئی تھیں۔ بعد میں یہی عربی مخطوطات لاطینی زبان میں منتقل ہوئے اور یورپ کی جامعات تک پہنچے۔ ارسطو کی فکر سے یورپ کی دوبارہ شناسائی بڑی حد تک اسی علمی سلسلے کے ذریعے ہوئی۔یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ ’’عربی تہذیب‘‘اور ’’اسلامی تہذیب‘‘کو ایک ہی مفہوم میں استعمال کرنا تاریخی اعتبار سے درست نہیں۔ عربی زبان ضرور اس علمی دنیا کی مشترک زبان تھی، لیکن اس کے معمار صرف عرب نہیں تھے۔ خوارزم سے آنے والے ریاضی دان، خراسان کے محدث، فارس کے طبیب، اندلس کے فلسفی، وسط ایشیا کے فلکیات دان اور شمالی افریقہ کے مورخ سب اس تہذیبی قافلے کے شریک تھے۔ لہٰذا جس روایت کو بعض افریقی مفکرین ’’عربی ثقافت‘‘کہتے ہیں، اسے وسیع تر معنوں میں ’’اسلامی تہذیب‘‘کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔افریقی مفکرین کی اس بحث کو نوآبادیاتی تجربے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
افریقہ نے یورپی استعمار کے ہاتھوں صرف معاشی استحصال ہی نہیں بلکہ تہذیبی تحقیر بھی برداشت کی۔ استعمار نے یہ تصور عام کیا کہ علم، عقل اور ترقی صرف یورپ کی میراث ہیں۔ اسی بیانیے کے رد میں افریقی دانشوروں نے دنیا کی علمی تاریخ کو نئے زاوئیے سے پڑھنے کی کوشش کی۔ ان کے نزدیک اگر مصر، شمالی افریقہ اور اندلس کو عالمی تاریخ سے نکال دیا جائے تو یورپی نشا ثانیہ کی مکمل تفہیم ممکن نہیں رہتی۔یہاں ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ یورپ نے جب صلیبی جنگوں، اندلس اور بحیرہ روم کے تجارتی راستوں کے ذریعے اسلامی دنیا سے رابطہ قائم کیا تو اسے صرف سامانِ تجارت ہی نہیں ملا بلکہ کتابیں، سائنسی آلات، فلسفیانہ مباحث اور تحقیقی طریق کار بھی ملا۔ طب میں مسلم معالجین کی تصانیف صدیوں تک یورپی جامعات میں نصاب کا حصہ رہیں۔ ریاضی میں اعشاری نظام اور الجبرا نے یورپی سائنس کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ فلکیات کے مشاہدات اور آلات نے بعد کی سائنسی ترقی کے لیے راستہ ہموار کیا۔یہ تمام حقائق اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ اسلامی دنیا نے یورپ کو ایک مضبوط علمی سرمایہ منتقل کیا۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جدید مغرب صرف اسی سرمایہ کا عکس ہے؟ ہرگز نہیں۔یہاں تاریخی دیانت داری کا تقاضا ہے کہ یورپ کی اپنی تخلیقی قوت کا بھی اعتراف کیا جائے۔ پندرھویں صدی کے بعد نشا ثانیہ، اصلاحِ مذہب، روشن خیالی، سائنسی انقلاب اور صنعتی انقلاب نے یورپی معاشروں کو ایسی سمت دی جو اسلامی دنیا اختیار نہ کر سکی۔ یورپ نے ورثے کو قبول کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس پر تنقید کی، تجربہ کیا، نئے نظریات پیش کیے اور علم کو ادارہ جاتی شکل دی۔ یہی وجہ ہے کہ جدید سائنس، جدید ریاست، انسانی حقوق اور صنعتی معیشت کی تشکیل میں یورپ کا اپنا کردار بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔اس لیے افریقی مفکرین کا اصل مقدمہ یہ نہیں کہ مغرب نے سب کچھ مسلمانوں سے لیا، بلکہ یہ ہے کہ مغرب کی ترقی کی داستان کو اس طرح بیان کرنا کہ گویا دنیا کی دوسری تہذیبوں نے کوئی کردار ادا ہی نہیں کیا، ایک تاریخی ناانصافی ہے۔
آج جب دنیا کثیر الثقافتی شناخت کی طرف بڑھ رہی ہے تو تاریخ کو بھی اسی وسعتِ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ تہذیبیں ایک دوسرے کی حریف ہونے سے پہلے ایک دوسرے کی معلم بھی ہوتی ہیں۔ علم کسی ایک نسل، ایک زبان یا ایک مذہب کی جاگیر نہیں۔ اگر یونان نے سوال پیدا کیے، تو اسلامی تہذیب نے ان سوالوں کو محفوظ کیا، ان کی شرح لکھی اور نئے سوال پیدا کیے؛ پھر یورپ نے انہی سوالوں کو جدید تجربہ گاہوں میں نئی جہت عطا کی۔ یہی انسانی تہذیب کا فطری سفر ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری اپنی علمی دنیا بھی اس ورثے سے پوری طرح آگاہ نہیں۔ ہم کبھی ماضی پر اس قدر فخر کرتے ہیں کہ حال کی ذمہ داری بھول جاتے ہیں، اور کبھی حال کی چمک میں ماضی کو بے وقعت سمجھ لیتے ہیں۔ دونوں رویے غیر علمی ہیں۔ تاریخ کا مقصد خود ستائی یا احساسِ کمتری پیدا کرنا نہیں بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ علم ہمیشہ مشترکہ انسانی کاوش کا نتیجہ ہوتا ہے۔پاکستان سمیت پورے عالمِ اسلام کے لیے اس بحث میں ایک اہم سبق پوشیدہ ہے۔ اگر ہمارے اسلاف نے دنیا کو علم دیا تھا تو اس کی وجہ صرف مذہبی جوش نہیں بلکہ تحقیق، ترجمہ، تنقیدی فکر، مکالمہ اور اختلافِ رائے کی روایت تھی۔ جب یہی اوصاف کمزور ہوئے تو علمی قیادت بھی ہاتھ سے نکل گئی۔ لہذا اگر ہم دوبارہ علمی اعتبار سے مثر کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ماضی کے کارناموں کے بجائے ماضی کے طریق کار کو زندہ کرنا ہوگا۔افریقی مفکرین کی آواز دراصل ایک وسیع تر انسانی مطالبہ ہے کہ تاریخ کو فاتحین کی آنکھ سے نہیں بلکہ انسانیت کی مشترکہ میراث کے طور پر پڑھا جائے۔ مغرب کو نہ شیطان بنا کر پیش کرنا درست ہے اور نہ انسانی تاریخ کا واحد معمار قرار دینا۔ انصاف یہی ہے کہ ہر تہذیب کے حصے کا چراغ اس کے نام سے روشن کیا جائے۔شاید مستقبل کی تاریخ وہی ہوگی جو یہ اعتراف کرنے کا حوصلہ رکھے کہ بغداد کی روشنیاں، قرطبہ کی درسگاہیں، قاہرہ کی دانش، فارس کی حکمت، یونان کی فلسفیانہ جستجو اور یورپ کی تجربہ گاہیں سب ایک ہی انسانی قافلے کی مختلف منزلیں ہیں۔ جو قومیں اس حقیقت کو سمجھ لیں گی، وہ نفرت کی دیواروں کے بجائے علم کے پل تعمیر کریں گی، اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسان اپنی مشترکہ تہذیبی میراث کا حقیقی وارث بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں