(گزشتہ سے پیوستہ)
اتماربن گویرکے بیانات جنگی جنون اورفاشزم ذہنیت کی اس انتہاپسندانہ سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں جومسائل کاحل طاقت کے استعمال میں دیکھتی ہے۔یہ طرزِفکرنہ صرف تنازع کوبڑھاتاہے بلکہ سفارتی راستے بھی مسدودکردیتاہے۔ان کے الفاظ میں وہ شدت ہے جو سفارت کاری کے تمام دروازے بندکردیتی ہے۔یہ طرزِفکرتنازعات کو مزید پیچیدہ بنا دیتاہے۔کسی بھی جمہوری معاشرے میں اختلافی آوازیں اصلاح کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اسرائیل کے اندراٹھنے والی تنقیدی آوازیں اس امرکاثبوت ہیں کہ جمہوری معاشروں میں اختلاف ہی اصلاح کاذریعہ بنتاہے۔یہ حقیقت کہ خود اسرائیل کے اندرایسی آوازیں موجودہیں جوحکومت کی تبدیلی کی بات کررہی ہیں،اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں بھی بے چینی سرایت کرچکی ہے۔اسرائیل کے اندراٹھنے والی تنقیدی آوازیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جمہوریت میں اختلاف ہی اصلاح کاذریعہ بنتاہے۔
یائیر لاپیدکی تنبیہ دراصل ایک بڑے خطرے کی نشاندہی ہے کہ اگر پالیسیوں میں توازن نہ رکھاجائے توعالمی سطح پرتنہائی کاسامنا کرناپڑسکتا ہے۔گویاایک سیاسی الارم ہے اگرسمت نہ بدلی گئی تویہی عالمی تنہائی اسرائیل کے وجودکے لئے سب سے بڑا خطرہ بن سکتی ہے اور اسرائیل کی بقاء کے لئے نیتن یاہوکامنظرسے ہٹانا ناگزیر ہوگیاہے۔ لیبرمین کامطالبہ بھی اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ اسرائیلی سیاست میں ایران اورلبنان کے محاذوں کوالگ رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے،تاکہ حکمت عملی میں لچک باقی رہے۔ان کا یہ بیان اس حقیقت کوبھی اجاگر کرتا ہے کہ ہرریاست اپنی پالیسیوں میں قومی مفاد کوسب پرمقدم رکھتی ہے،چاہے اس کے لئے عالمی دباؤ کو جب نظر انداز ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
فریقین کسی معاہدے کوتسلیم نہ کریں تواس کی حیثیت محض ایک تحریری دستاویزرہ جاتی ہے۔یہی صورتِ حال یہاں بھی دکھائی دیتی ہے۔بن گویرکایہ کہناکہ ہم اس معاہدے کے پابند نہیں،دراصل عالمی معاہدات کی کمزوری کوبے نقاب کرتاہے جب فریقین خودکوپابندنہ سمجھیں تومعاہدے محض الفاظ رہ جاتے ہیں۔ٹرمپ کی براہ راست نیتن یاہوپرتنقیداور یورپی رہنمائوں کے بدلتے رویوں کے بعدنیتن یاہوکامحتاط بیان ایک تجربہ کارمگرمکارسیاست دان کی عکاسی کرتاہے،جو حالات کی نزاکت کوسمجھتے ہوئے اپنے الفاظ کاانتخاب کرتے ہیں کہ ہرلفظ کاوزن ہوتاہے اور ہر جملہ تاریخ میں درج ہوجاتاہے تاکہ سفارتی توازن برقراررہے۔ڈیجٹل دورکے سوشل میڈیاپرجاری بحث اس بات کی دلیل ہے کہ اب سفارت کاری صرف بندکمروں میں نہیں بلکہ عوامی فورمزپربھی تشکیل پاتی ہے،جس نے سفارتکاری کوعوامی سطح پرمنتقل کردیاہے جہاں ہربیان فوری ردعمل اورعالمی سیاست کوایک نیا رخ دیکر عوامی بحث کاحصہ بن جاتاہے اوربیانیہ تشکیل پاتاہے۔جس کے نتیجے میں فوری طورپررائے عامہ تشکیل پاتی ہے۔
ماہرین کی رائے یہ ظاہرکرتی ہے کہ بظاہرسخت بیانات کے باوجودپالیسیوں میں فوری تبدیلی کاامکان کم ہے۔یہ ایک نفسیاتی جنگ بھی ہوسکتی ہے جہاں اصل مقصدمخالف کوذہنی طور پرکمزور کرناہوتاہے۔ماہرین کے نزدیک یہ سب لفظوں کی جنگ ہے،مگرتاریخ بتاتی ہے کہ بعض اوقات لفظ ہی ہتھیاربن جاتے ہیں اور بیانیے حقیقت کارخ موڑدیتے ہیں۔
ڈومینک مائیکل کاتجزیہ اس ممکنہ مستقبل کی جھلک پیش کرتاہے جہاں امریکااسرائیل پردباؤبڑھا سکتا ہے۔ممکنہ پابندیاں اوراسلحے کی فراہمی میں تاخیر ایک ایسادبائوپیداکرسکتی ہے جو براہِ راست جنگ کے بغیربھی اپنے اثرات مرتب کرتی ہیں۔یہ جدید سفارتکاری کاایک مؤثرہتھیاربن چکاہے جوجنگ کے بغیربھی جنگ کا اثر پیدا کرسکتاہے۔
یہ تمام نکات مل کرایک پیچیدہ مگرمربوط تصویر پیش کرتے ہیں،جس میں عالمی سیاست کی حرکیات پوری شدت کیساتھ جلوہ گرہیں۔یہ ایک ایسے عالمی منظرنامے کی تصویرپیش کرتے
ہیں جہاں طاقت،اصول اورمفادایک پیچیدہ توازن میں بندھے ہوئے رقص میں مصروف اورایک دوسرے کیساتھ برسرِپیکارہیں۔جس میں عالمی سیاست ایک شطرنج کی بساط کی ماننددکھائی دیتی ہے ،ہرمہرہ اپنی جگہ اہم، مگراصل کھیل حکمت عملی کاہے۔امریکا،ایران اوراسرائیل کے درمیان جاری یہ کشمکش دراصل ایک وسیع تر تبدیلی کی علامت ہے، ایسی تبدیلی جس میں جنگیں صرف میدان میں نہیں بلکہ ذہنوں،بیانیوں اوراداروں کے اندربھی لڑی جارہی ہیں۔یہ محض طاقت کاکھیل نہیں بلکہ تہذیبی،فکری اورسیاسی تصادم کامظہرہے اوریوں محسوس ہوتاہے کہ تاریخ ایک نئے باب کے دہانے پر کھڑی ہے،جہاں فتح صرف اس کی نہیں ہوگی جو طاقتور ہے،بلکہ اس کی ہوگی جوحکمت، توازن اوربصیرت کے ساتھ اس پیچیدہ کھیل کوسمجھنے اورکھیلنے کی صلاحیت رکھتاہو۔
گویاتاریخ ایک نئے باب کی طرف بڑھ رہی ہے،جہاں جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ الفاظ، معاہدوں اوربیانیوں سے بھی لڑی جائیں گیاورفتح اسی کی ہوگی جوان تمام محاذوں پریکساں مہارت رکھتاہو۔ امریکا، ایران اوراسرائیل کے درمیان جاری کشمکش دراصل ایک وسیع ترتبدیلی کاحصہ ہے،جوآنے والے برسوں میں عالمی سیاست کی سمت کا تعین کرے گی۔ اگراس پورے منظرنامے کوایک جملے میں سمیٹا جائے تویوں کہاجاسکتاہے کہ یہاں فتح اس کی ہوتی ہے جونہ صرف میدان بلکہ ذہنوں کوبھی مسخرکرلے۔