میں البرٹ میمی کی کتاب The Colonised and Colonized کا وقار فیاض کا کیا ہوا اردو ترجمہ استعمار اور محکوم پڑھ رہا تھا کہ اس میں ایک جملے پر میں رک گیا کہ’’ بنیادی طور پر مغرب عربی ثقافت ‘‘ سے متاثرخطہ ہے’’میں نے کتاب ایک طرف رکھ دی اور ماخذات ادبیات سے اس موضوع پر مواد جمع کرنے کی کوشش میں لگ گیا اور اپنی ناقص عقل سے جو اظہاریہ مرتب کیا وہ قارئین کی نذر ہے ۔‘‘ یہ ایک دلچسپ سنجیدہ علمی عنوان ہے ۔بعض افریقی مفکرین، خصوصاً نوآبادیاتی فکر کے ناقدین، یہ استدلال کرتے ہیں کہ مغرب کی فکری اور سائنسی ترقی مکمل طور پر اپنی پیداوار نہیں تھی بلکہ اس میں عربی۔اسلامی تہذیب نے بنیادی کردار ادا کیا۔ اس موقف کے حق میں کئی مضبوط تاریخی دلائل موجود ہیں۔مثلاًآٹھویں سے تیرہویں صدی تک بغداد، قرطبہ، قاہرہ اور اندلس علم و تحقیق کے عالمی مراکز تھے۔یونانی فلسفے (ارسطو، افلاطون، جالینوس وغیرہ)کو عربی زبان میں محفوظ کیا گیا، ان پر شرحیں لکھی گئیں، پھر انہی عربی تراجم سے لاطینی یورپ نے استفادہ کیا۔ الجبرا، فلکیات، طب، کیمیا، بصریات اور فلسفے میں مسلمان علما کی خدمات نے یورپ کی نشا ثانیہ کے لیے علمی بنیاد فراہم کی۔عربی زبان کئی صدیوں تک سائنس اور فلسفے کی بین الاقوامی زبان رہی۔اسی لیے بعض افریقی مفکرین، جیسے Cheikh Anta Diop اور Valentin-Yves Mudimbe، یورپی مرکزیت پر تنقید کرتے ہوئے اس تاریخی تسلسل کو نمایاں کرتے ہیں کہ یورپ نے اسلامی دنیا اور افریقہ دونوں سے گہرا علمی استفادہ کیا۔’ ’لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ “مغرب عربی ثقافت سے متاثر خطہ ہے‘‘تو یہ جملہ کسی حد،تک شک و شبہ سے بالا تر ہے ۔ہاں البتہ یہ دعویٰ کرنا کہ مغربی تہذیب صرف عربی ثقافت کی پیداوار ہے مکمل سچ نہیں ۔ اس کی تشکیل میں متعدد دیگر عوامل بھی شامل ہیں۔یونانی و رومی ورثہ،یہودی و مسیحی روایت،عربی۔ اسلامی علوم،نشا ثانیہ،اصلاحِ مذہب،روشن خیالی،صنعتی انقلاب،اور جدید سائنسی انقلاب۔تاہم یہ کہنا بالکل درست ہے، کہ جدید مغربی تہذیب کی تشکیل میں عربی۔ اسلامی تہذیب ایک بنیادی اور ناگزیر علمی واسطہ تھی، یہاں ایک اور نکتہ بھی قابلِ غور ہے۔
بعض افریقی مفکرین ’’عربی ثقافت‘‘کی بجائے ’’اسلامی تہذیب‘‘کی اصطلاح کو زیادہ مناسب سمجھتے ہیں، کیونکہ اس تہذیب کی تعمیر میں صرف عرب نہیں بلکہ ایرانی، ترک، بربر، کرد، وسط ایشیائی اور اندلسی علما نے بھی غیر معمولی کردار ادا کیا۔ مثال کے طور پر ابن سینا، ،الخوارزمی،ابن رشد اور الہیثم سب اسی علمی روایت کے نمائندہ ہیں۔ علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ مغرب کی ترقی کو صرف اس کی اپنی اختراع قرار نہ دیا جائے، اور نہ ہی اسے مکمل طور پر عربی ثقافت کا مرہونِ منت کہا جائے۔ تاریخ ایک مسلسل تہذیبی مکالمہ ہے، جہاں علوم مختلف تہذیبوں سے سفر کرتے ہوئے نت نئی شکلیں اختیار کرتے آئے ہیں۔ مغرب نے اسلامی دنیا سے بہت کچھ سیکھا، لیکن بعد میں اس نے انہی علوم کو مزید ترقی دے کر جدید سائنس، سیاسی فلسفے اور صنعتی معاشرے کی صورت میں آگے بڑھایا۔اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’کیا مغرب اسلامی تہذیب کا وارث ہے؟ افریقی مفکرین یہ استدلال کرتے ہیں کہ‘‘ مغرب کی فکری اور سائنسی ترقی مکمل طور پر اپنی پیداوار نہیں تھی بلکہ اس میں عربی۔اسلامی تہذیب نے بنیادی کردار ادا کیا۔اس موقف کے حق میں کئی مضبوط تاریخی دلائل موجود ہیں۔تاریخ کبھی یک رنگ نہیں ہوتی۔ وہ نہ کسی ایک قوم کی جاگیر ہے اور نہ کسی ایک تہذیب کی خود نوشت۔ تہذیبیں ایک دوسرے سے سیکھتی ہیں، ایک دوسرے سے اختلاف کرتی ہیں، ایک دوسرے سے مستعار لیتی ہیں، اور اسی تعامل سے انسانی تمدن کی نئی منزلیں وجود پذیر آہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے جدید دور میں تاریخ کو اکثر طاقت کے ترازو میں تولا گیا۔ فاتح نے اپنی داستان لکھی اور مفتوح کے کردار کو حاشیے پر دھکیل دیا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو صدیوں میں یورپی مرکزیت (Eurocentrism) نے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جس میں جدید دنیا کی تقریبا ہر علمی، سائنسی اور فکری کامیابی کا سرچشمہ مغرب کو قرار دیا گیا، جبکہ ایشیاء، افریقہ اور اسلامی دنیا کو محض خام مواد فراہم کرنے والی تہذیبوں کے طور پر پیش کیا گیا۔تاہم بیسویں صدی کے وسط سے افریقہ، ایشیاء اور لاطینی امریکہ کے متعدد دانشوروں نے اس تصور کو چیلنج کیا۔ ان کے نزدیک انسانی تاریخ کا سفر یک طرفہ نہیں بلکہ ایک مسلسل تہذیبی مکالمہ ہے۔
(جاری ہے)