(گزشتہ سے پیوستہ)
حالیہ پیش رفت اسی روایت کاتسلسل ہے، جو یہ باورکراتی ہے کہ جمہوریت محض انتخابی عمل نہیں بلکہ ادارہ جاتی توازن کا نام ہے۔ امریکی قانون میں جنگی اختیار ات کی جوحدودمتعین کی گئی ہیں،وہ محض قانونی دفعات نہیں بلکہ ایک تاریخی تجربے کانتیجہ ہیں۔یہ حدوداس لیے قائم کی گئیں تاکہ طاقت کااستعمال جذبات کے بجائے تدبرسے ہو۔تاریخ گویااپنے آپ کودہرارہی ہے، مگر نئے کرداروں اور نئے اسلوب کے ساتھ۔ امریکی قانون میں60دن کی حداور30دن کی توسیع کی گنجائش اس بات کی یاددہانی ہے کہ جنگ محض میدانِ کارزارمیں نہیں بلکہ آئینی دفعات میں بھی لڑی جاتی ہیمگرسوال یہ ہے کہ کیاعملی سیاست ہمیشہ ان حدودکی پابندرہتی ہے؟
امریکااوراسرائیل کاتعلق ہمیشہ مضبوط اورمثالی سمجھاجاتارہاہے-ادھردوسری طرف جے ڈی وینس کی تنقیداوراسرائیلی قیادت کی بے چینی اس حقیقت کوآشکار کرتی ہے کہ عالمی اتحادہمیشہ مفادات کے تابع ہوتے ہیں،جذبات کے نہیں۔اگربنیادیں مفادپرہوں تو معمولی اختلاف بھی دراڑبن جاتاہے۔حالیہ اختلافات نے یہ واضح کردیاہے کہ عالمی سیاست میں کوئی رشتہ دائمی نہیں ہوتااورہرتعلق کی بنیاد مفادپرہوتی ہے،اورمفاد بدلتے ہی ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں۔مفادات میں معمولی سابھی فرق پیداہوتاہے تودیرینہ تعلقات بھی آزمائش کا شکارہوجاتے ہیں۔ہراتحادکے اندرایک نازک توازن موجودہوتاہے اور جب یہ توازن بگڑتاہے تومضبوط رشتے بھی کمزورپڑنے لگتے ہیں۔
یہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ جوریاست جتنی زیادہ طاقتورہوتی ہے،وہ اتنی ہی زیادہ اپنے اتحادیوں پرانحصار بھی کرتی ہے۔اسرائیل کی عسکری قوت میں امریکی کرداراس تضادکونمایاں کرتاہے کہ انحصاراورخود مختاری ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں مگرہمیشہ ہم آہنگ نہیں رہتے۔امریکی نائب صدرکابیان ایک پیچیدہ حقیقت کی طرف اشارہ کرتاہے کہ عالمی سیاست میں خودمختاری اورانحصارایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔ یہی کشمکش تعلقات میں تناؤپیداکرتی ہے۔ان کابیان ایک تلخ مگرواضح حقیقت کی عکاسی کرتاہے کہ اسرائیل کی عسکری قوت کابڑا حصہ امریکی وسائل سے جڑاہواہے۔ اسرائیل کی عسکری قوت میں امریکی کرداراس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ طاقت کے ڈھانچے اکثر باہمی تعاون پرقائم ہوتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کاتوازن مسلسل بدل رہاہے،اورہرنیابیان اس تبدیلی کی ایک کڑی بن جاتاہے۔لبنان پراسرائیلی حملوں کے تناظر میں ٹرمپ کاشام کاذکرکرناایک غیرمعمولی اشارہ ہے۔کیایہ خطے میں طاقت کے نئے توازن کی طرف اشارہ ہے؟یایہ محض ایک وقتی بیان؟سیاست میں بعض سوالات جواب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔تاہم لبنان اورشام کے حوالے سے سامنے آنے والے بیانات اس بات کی چغلی کھاتے ہیں کہ مشرقِ وسطی میں ایک نئی حکمت عملی تشکیل پارہی ہے۔یہاں ہراقدام ایک بڑے منصوبے کاحصہ معلوم ہوتاہے اور یہاں ہرقدم ایک نئی بساط بچھاتاہے،جس کامکمل نقشہ ابھی واضح نہیں۔
جب ایک ریاست دوسری کومسلسل مددفراہم کرے تواس کے بدلے میں توقعات بھی جنم لیتی ہیں۔ یہی توقعات بعض اوقات اختلاف اور تنازع کاباعث بنتی ہیں،کیونکہ یہی توقعات بعض اوقات خود داری کے جذبے سے ٹکراجاتی ہیں۔جیساکہ حالیہ بیانات سے ظاہرہوتاہے۔ ٹرمپ کااسرائیل کوشکرگزاری کی تلقین کرنادراصل ایک بڑے سفارتی بیانیے کاحصہ ہے۔یہ بیان اس بڑھتی ہوئی خلیج کااظہارہے جسے ماہرین اب کھل کربیان کرنے لگے ہیں۔
جنگ بندی کے باوجودجاری جھڑپیں اس حقیقت کوعیاں کرتی ہیں کہ معاہدے اکثرزمینی حقائق کے تابع ہوتے ہیں۔جب تک بنیادی مسائل حل نہ ہوں، امن ایک عارضی وقفہ ہی رہتاہے۔جنوبی لبنان میں ہلاکتیں اس حقیقت کاثبوت ہیں کہ معاہدے کاغذپرہوتے ہیں،جبکہ جنگیں زمین پر۔یہ جھڑپیں اس حقیقت کونمایاں کرتی ہیں کہ کاغذی معاہدے زمینی حقائق کوہمیشہ تبدیل نہیں کرسکتے۔اصل طاقت میدانِ عمل میں ہی نظرآتی ہے۔گویاحزب اللہ اوراسرائیلی افواج کے درمیان جاری کشمکش اس خطے کی پیچیدگی کومزیدگہراکرتی ہے۔ یادرہے کہ جنگ بندی کامطلب ہمیشہ امن نہیں ہوتا۔اکثریہ محض ایک وقفہ ہوتاہے،جس میں دونوں فریق اپنی طاقت کومجتمع کرتے ہیں۔لبنان میں جاری صورتحال اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔
حزب اللہ اوراسرائیل کے بیانات ایک ایسے تصادم کی عکاسی کرتے ہیں جس میں دونوں فریق اپنے موقف پرڈٹے ہوئے ہیں۔اسرائیل کا افواج نہ نکالنے کافیصلہ ایک ایسے تصادم کی بنیادرکھتاہے جس کاانجام ابھی دھندمیں لپٹاہواہے۔دوسری طرف حزب اللہ کا موقف اس بات کی علامت ہے کہ مزاحمت محض عسکری حکمت عملی نہیں بلکہ ایک نظریاتی وابستگی بھی ہوتی ہے، جوحالات سے زیادہ عقیدے سے جنم لیتی ہے۔یہ نظریہ ہی اسے دوام بخشتاہے اوریہ استقامت ہی اس تنازع کو طول دیتی ہے۔
نیتن یاہو پراندرونی دبائواس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ ہربیرونی جنگ کے پیچھے ایک داخلی سیاست بھی ہوتی ہے،اورعوامی رائے اورسیاسی مخالفین کادبائو اکثر فیصلوں کارخ بدل دیتا ہے۔نیتن یاہو کی صورتحال اس حقیقت کوواضح کرتی ہے کہ عالمی فیصلے اکثر داخلی دبائو کے زیرِاثرہوتے ہیں۔ایک رہنماکو نہ صرف بیرونی خطرات کاسامناہوتاہے بلکہ داخلی مخالفت کا بھی۔عوامی رائے اورسیاسی بقاایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں جواکثرزیادہ فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔
(جاری ہے)