Search
Close this search box.
بدھ ,15 جولائی ,2026ء

شہادت کا کوئی پے سکیل نہیں!

اگر خاکم بدہن کل پاکستان پر جنگ مسلط ہو جائے تو کیا ہم اپنے بچوں سے کہیں گے کہ بیٹا سرحد پر مت جانا،تم تنخواہ نہیں لیتے اگر1965ء میں سیالکوٹ اور لاہور کے دیہاتوں کے لوگ یہ کہہ دیتے کہ ’’یہ فوج کا کام ہے، ہم تنخواہ نہیں لیتے‘‘ ۔اگر کارگل میں خون دینے والوں کے لئے پورا ملک یہ کہتا کہ ’’یہ ان کی نوکری ہے۔‘‘ اگر پشاور کے لوگوں نے دہشت گردوں کے خلاف ریاست کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ہوتا کہ ’’یہ فوج کا مسئلہ ہے ‘‘ تو کیا پاکستان آج اسی شکل میں موجود ہوتا؟قومیں صرف فوجوں سے نہیں بچتیں، قومیں اس وقت بچتی ہیں جب ان کا آخری شہری بھی یہ سمجھتا ہے کہ یہ جنگ میری بھی ہے۔ سیاست میں اختلاف کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔ حکومتیں آتی ہیں، جاتی ہیں۔ جماعتیں بنتی ہیں، ٹوٹتی ہیں۔ بیانات دئیے جاتے ہیں، واپس لئے جاتے ہیں مگر چند اقدار ایسی ہیں جنہیں سیاست کی منڈی میں خرید و فروخت کا موضوع نہیں بننا چاہیے۔ شہادت انہی اقدار میں سے ایک ہے۔ جو قوم اپنے شہدا ء کی حرمت کو لفظوں کی ترازو میں تولنے لگے، وہ صرف اپنی تاریخ سے نہیں، اپنے ضمیر سے بھی دور ہو جاتی ہے۔مولانا فضل الرحمن پاکستان کی سیاست میں نووارد نہیں ، زیرک سیاستدان ہیں۔ان کی عمر، تجربہ، مذہبی مقام اور سیاسی وزن اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ان کے ہر لفظ میں ٹھہرائو، احتیاط اور احساس کی گہرائی ہو۔ ان کی زبان سے ادا ہونے والا یہ جملہ کہ فوجی شہید ہوتے ہیں تو وہ تنخواہ لیتے ہیں یہ صرف ایک سیاسی بیان نہیں، ایک ایسا اظہار ہے جس نے ہزاروں شہداء کے خاندانوں کے دلوں کو سوگوارکر دیاہے۔ اصل بحث فوج نہیں شہادت ہے۔ یہ سوال بھی نہیں کہ فوج کو تنخواہ ملتی ہے یا نہیں۔ ظاہر ہے کہ ہر ریاست اپنے سپاہیوں کو تنخواہ دیتی ہے لیکن کیا کسی فوجی کی تنخواہ اس کی جان کی قیمت ہے؟ کیا کسی ماں کو اس کے شہید بیٹے کا معاوضہ ماہانہ تنخواہ کی صورت میں مل جاتا ہے؟ کیا کسی بچے کے سر سے اٹھ جانے والے باپ کی جگہ سرکاری تنخواہ لے سکتی ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے اور یقینا نفی میں ہے تو پھر شہادت کو تنخواہ کے ساتھ جوڑنے والا ہر جملہ اخلاقی لحاظ سے کمزور اور انسانی لحاظ سے بے حس محسوس ہوگا۔یہ کہنا بالکل درست ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
کسی سیاسی جماعت یا عام شہری سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ریاست کی جگہ لے لے لیکن اگر کسی قبائلی علاقے کے عمائدین، مشران اور عوام اپنی مرضی سے، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے، دہشت گردی کے خلاف ریاست اور سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا فیصلہ کریں تو اس میں حرج کیا ہے؟ آخر دہشت گرد سب سے پہلے انہی بستیوں کے امن، انہی گھروں کے سکون اور انہی بچوں کے مستقبل پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ اگر مقامی آبادی دہشت گردوں کی نشاندہی کرے، ان کے لئے زمین تنگ کرے اور اپنے علاقے کو شدت پسندی سے بچانے میں ریاست کی معاون بنے تو اسے قومی ذمہ داری سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ اس جذبے کو یہ کہہ کر رد کر دیا جائے کہ یہ صرف تنخواہ لینے والوں کا کام ہے۔ قومیں اسی وقت محفوظ ہوتی ہیں جب ریاست اور عوام ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں۔جنگیں تنخواہوں سے نہیں، عزم سے لڑی جاتی ہیں۔ سپاہی تنخواہ کے لئے بھرتی ضرور ہوتا ہے لیکن گولی کھانے کے لئے نہیں، وہ جانتا ہے کہ وطن کی حفاظت اس کے روزگار سے کہیں بڑی ذمہ داری ہے۔ اگر صرف تنخواہ ہی کسی کو جان قربان کرنے پر آمادہ کر سکتی تو دنیا کی ہر فوج میں شہادت معمولی بات ہوتی حالانکہ ہر قوم اپنے شہدا ء کو اس لئے سلام پیش کرتی ہے کہ انہوں نے وہ قربانی دی جس کا کوئی مالی بدل نہیں۔
ایک لمحے کے لئے ذرا ان گھروں کا تصور کیجیے جہاں دروازے پر فوجی گاڑی رکی، جہاں ایک افسر نے دستک دی، جہاں ماں نے چہرہ دیکھتے ہی خبر پڑھ لی، جہاں بچوں نے پہلی بار شہید کا مطلب اپنے باپ کی خاموش تصویر سے سیکھا۔ ان گھروں میں اگر کوئی جا کر یہ کہے کہ وہ تو تنخواہ لیتے تھے، تو کیا یہ الفاظ ان کے زخموں پر نمک نہیں ہوں گے؟رہنمائوں کے الفاظ عام آدمی کے الفاظ نہیں ہوتے۔ ان کے ایک جملے سے بیانیہ بنتا ہے، سوچ بنتی ہے، معاشرے کا مزاج تشکیل پاتا ہے۔ اسی لئے ان پر ذمہ داری بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اختلاف کریں، ضرور کریں۔ ریاستی اداروں پر تنقید کریں، ضرور کریں۔ آئینی حدود کی بات کریں، ضرور کریں لیکن شہداء کو دلیل کا ایندھن نہ بنائیں۔ ان کے لہو کو سیاسی بحث کی سیاہی میں نہ ڈبوئیں۔اس ملک کی مٹی میں صرف سیاست دانوں کی جدوجہد شامل نہیں، اس میں ان جوانوں کا خون بھی شامل ہے جنہوں نے اپنے آج کو ہماری کل پر قربان کر دیا۔ ان میں ہر مکتب فکر، ہر زبان، ہر علاقے اور ہر طبقے کے لوگ شامل ہیں۔ ان کی قبروں پر جماعتوں کے جھنڈے نہیں لگے ہوتے، وہاں صرف پاکستان کا پرچم لہراتا ہے۔اگر مولانا فضل الرحمن کے بیان کا مفہوم وہ نہیں تھا جو عوام نے سمجھا، تو انہیں بلا تردد وضاحت کرنی چاہیے اور اگر الفاظ کا انتخاب واقعی نامناسب تھا تو معذرت کر لینا سیاسی شکست نہیں، اخلاقی کامیابی ہوگی۔ بڑے لوگ وہ نہیں ہوتے جو کبھی غلطی نہ کریں ، بڑے وہ ہوتے ہیں جو اپنی غلطی کو انا کا مسئلہ نہیں بناتے۔
پاکستان کے شہداء کسی جماعت کی ملکیت نہیں۔ وہ اس قوم کی مشترکہ میراث ہیں۔ ان کے نام پر سیاست بھی نہیں ہونی چاہیے اور ان کی قربانی کو معمولی بنانے والے الفاظ بھی استعمال نہیں ہونے چاہئیں۔ اختلاف زندہ قوموں کی علامت ہے لیکن اختلاف کی بھی ایک تہذیب ہوتی ہے۔ جب یہ تہذیب ختم ہوتی ہے تو سب سے پہلے احترامِ شہادت مجروح ہوتا ہے اور جب شہادت کا احترام کمزور پڑ جائے تو قومیں اپنے محافظوں سے پہلے اپنا اخلاق ہار جاتی ہیں۔شہادت کا تعلق تنخواہ سے نہیں، عہد سے ہوتا ہے۔ تنخواہ روزگار کا حق ہے، شہادت تاریخ کا اعزازہے۔ ان دونوں کے درمیان فرق مٹانے کی کوشش اس احساس کو مجروح کرنے کی کوشش ہے جس پر ہر قوم اپنی بقا ء کی عمارت کھڑی کرتی ہے۔لفظوں کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے اور جب موضوع شہداء ہوں تو ہر لفظ ادا کرنے سے پہلے خود اپنے دل سے پوچھنا چاہیے کہ کہیں یہ لفظ کسی شہید کی ماں کے آنسوئوں کی بے حرمتی تو نہیں کر رہا۔

یہ بھی پڑھیں