Search
Close this search box.
منگل ,14 جولائی ,2026ء

تاریخ کانیاموڑ

زمانہ کبھی ساکن نہیں رہتا؛تاریخ کاپہیہ ہمیشہ گردش میں رہتاہے،مگربعض ادوارایسے ہوتے ہیں جب اس کی رفتارتیزہوجاتی ہیاور واقعات کی کڑیاں ایک دوسرے سے اس شدت کے ساتھ جڑتی ہیں کہ صدیوں کافاصلہ لمحوں میں سمٹ آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عالمی سیاست کامنظرنامہ ہمیشہ ایک متحرک دریاکی مانند رہا ہے،جس کی لہریں کبھی پرسکون دکھائی دیتی ہیں اورکبھی طغیانی کاروپ دھار لیتی ہیں۔یہ زمانہ محض واقعات کاہجوم نہیں بلکہ معانی کاایک سمندرہے،جس کی تہہ میں اترے بغیراس کی موجوں کاشورسمجھ میں نہیں آتا۔
اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں طاقت کے مراکزنئی ترتیب اختیارکررہے ہیں،آج کی دنیا میں طاقت کی سیاست اپنے روایتی سانچوں کوتوڑ کر نئے قالب اختیارکررہی ہے۔عصرِحاضر کا عالمی منظرنامہ بھی کچھ ایساہی ہیجہاں امریکا،ایران اور اسرائیل کے درمیان کشمکش محض سفارتی اختلاف نہیں بلکہ عالمی نظام کی تشکیلِ نوکاپیش خیمہ دکھائی دیتی ہے۔ان تین ممالک کے درمیان جاری کشمکش اس تغیرکی سب سے نمایاں مثال اورایک ایسی گنجلک داستان بن چکی ہے جس میں صرف عسکری قوت ہی نہیں بلکہ بیانیہ، سفارت کاری اور داخلی سیاست بھی فیصلہ کن کرداراداکر رہی ہے۔یہ صرف تین ریاستوں کامعاملہ نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی نظام کی تشکیل کامرحلہ ہے جس میں پرانے اصول دم توڑرہے ہیں اورنئے اصول ابھی پوری طرح واضح نہیں ہوئے۔
ریاستی نظم میں طاقت کاارتکازہمیشہ خطرے کی گھنٹی سمجھاگیاہے۔امریکی سینیٹ کی حالیہ پیش رفت اس امرکی آئینہ دارہے کہ جدید جمہوریتیں بھی اپنے اندرایک خوداحتسابی کانظام رکھتی ہیں۔ امریکی نظامِ حکومت کی بنیادہی اس اصول پررکھی گئی تھی کہ طاقت کو تقسیم کیاجائے تاکہ کوئی ایک ادارہ مطلق العنان نہ بن سکے۔حالیہ قرارداداسی تاریخی فلسفے کی تجدیدمعلوم ہوتی ہے،جہاں مقننہ نے عاملہ کے دائرہ اختیارپرسوال اٹھایاہے۔ ایران کے خلاف فوجی اقدام کومقننہ کی اجازت سے مشروط کرنادراصل اس تصورکوتقویت دیتا ہے کہ جنگ کافیصلہ فردِواحدکی خواہش نہیں بلکہ اجتماعی شعورکی توثیق سے مشروط ہوناچاہیے۔
امریکی سینیٹ کی کارروائی کواگرمحض ایک سیاسی قدم سمجھاجائے تویہ اس کی معنویت کوکم کردینا ہو گا ۔ امریکی سیاست میں صدارتی اختیارات ہمیشہ سے بحث کامحوررہے ہیں،مگرایران کے خلاف ممکنہ جنگی کارروائی کے تناظرمیں یہ سوال ایک نئی شدت کے ساتھ ابھراہے۔دراصل یہ اقدام اس قدیم بحث کی تجدیدہے کہ کیاجنگ کااختیارایک فردکے پاس ہونا چاہیے یا اجتماعی اداروں کے پاس؟یہاں مسئلہ صرف ایران نہیں بلکہ امریکی جمہوریت کی روح ہے۔یہ سوال اٹھ کھڑاہواہے کہ کیاطاقت کومحدودکرنا خود ریاست کے استحکام کا ذریعہ ہے یااس کی کمزوری کاباعث؟
سینیٹ کی جانب سے منظورکی جانے والی قراردادگویااس امرکی علامت ہے کہ جمہوری نظام میں طاقت کاسرچشمہ محض ایک فرد نہیں بلکہ اجتماعی ادارے ہوتے ہیں۔48کے مقابلے میں50 ووٹوں سے منظور ہونے والی یہ قرارداد محض اعدادکا کھیل نہیں بلکہ ایک فکری کشمکش کامظہرہے،جس میں طاقت اوراحتساب ایک دوسرے کے مدِ مقابل کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔یہ اقدام گویااس یاددہانی کے مترادف ہے کہ جنگ کافیصلہ صرف میدانِ اقتدارکی خواہش نہیں بلکہ قومی شعورکی اجتماعی منظوری کاتقاضابھی کرتاہے۔
بعض اوقات سیاست میں وہ فیصلے جو ظاہر غیرموثردکھائی دیتے ہیں،درحقیقت گہرے اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ بعض قرارداد یں اپنے قانونی اثرسے زیادہ اپنے اخلاقی وزن کے باعث اہم ہوجاتی ہیں۔یہ اقدام بھی ایک طرح کی پارلیمانی سرگوشی ہے،جو ظاہرمدھم سہی مگراپنے اندرایک گونج رکھتی ہے۔یہ گویاایک ایساچراغ ہے جواندھیرے کومکمل ختم نہ کرے مگراس کے وجود کوچیلنج ضرورکرے۔
اگرچہ یہ قراردادقانونی حیثیت سے محروم اور بظاہربے اثرسہی،مگراس کاوجودایک خاموش احتجاج کی صورت میں سامنے آیاہے۔ سیاست میں بعض اوقات علامتیں حقیقت سے زیادہ طاقتوراوران کاوجود ایک مضبوط اورہلا دینے والاسیاسی اشارہ ہوتاہے جیسے کسی خاموش دریاکے نیچے بہاتیز ہو ، ویسے ہی یہ اقدام امریکی سیاست کے اندرونی تنائو کو ظاہرکرتاہے۔یہ گویا یک ایسا پیغام ہے جوالفاظ سے زیادہ اپنی موجودگی سے اثرانداز ہوتا ہے۔
ایوانِ نمائندگان سے اس کی منظوری اس امرکا اعلان ہے کہ امریکی سیاسی اشرافیہ کے اندرایک واضح تقسیم موجودہے۔یہ قراردادگویا ایک خاموش احتجاج ہے ایسااحتجاج جوقانون کی زبان میں نہیں بلکہ سیاسی اشاروں میں اپنی بات کہتاہے۔گویا ایوان نے یہ پیغام دیاہے کہ اختلاف رائے جمہوریت کاحسن ہے،اور اختلاف ہی وہ قوت ہے جوطاقت کوبے لگام ہونے سے روکتی ہے۔
صدرٹرمپ کاردِعمل اس قراردادپرایک ایسے متکبررہنماکاردِعمل ہے جوخودکو تاریخ کے دھارے کا معماراورایک ایسے قائدکی تصویر پیش کرتاہے جواپنی حکمت عملی کوکامیابی کے قریب سمجھتاہے۔ان کے بیانات میں جہاں ایک فاتحانہ لہجہ جھلکتا ہے، وہاں ان کے الفاظ میں ایک فاتح کی خوداعتمادی اورایک سیاستدان کی خفگی دونوں جھلکتی ہیں۔ان کے بیانات میں جوشدت اور اعتماد جھلکتا ہے،وہ دراصل جدید سیاست کے اس رجحان کا مظہر ہے جہاں بیانیہ حقیقت پرغالب آجاتاہے۔ وہ خودکو ایک ایسے کردارکے طورپرپیش کرتے ہیں جو تاریخ کا دھار اموڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جس میں یہ تاثر دیا گیا کہ اگررکاوٹ نہ ڈالی جاتی تونتیجہ یکسر مختلف ہوتا۔
یہ اسلوبِ بیان دراصل سیاسی نفسیات کاحصہ ہے،جہاں فرضی کامیابی کاتصورخوداپنی دلیل توبن جاتاہے لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ان کے الفاظ میں ایک ایسی یقین دہانی ہے جو حقیقت سے زیادہ تصورپرمبنی ہوتی ہے۔وہ ایک ایسے منظرکی تصویر کشی کرتے ہیں جہاں کامیابی ان کے قدم چومنے کو تھی، مگرسیاسی رکاوٹوں نے اسے روک دیا۔وہ ایران کو شکست کے دہانے تک پہنچانے کادعوی کرتے ہیں، گویا یہ معرکہ صرف عسکری نہیں بلکہ شخصی وقارکامسئلہ بھی تھامگرسیاست میںاگراورمگرکی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔تاریخ اکثر ان دعوئوں کوکسوٹی پرپرکھتی ہے۔
امریکی تاریخ میں جنگی اختیارات کامسئلہ ہمیشہ حساس رہا ہے اورامریکی آئین کی روح میں طاقت کی تقسیم ایک بنیادی اصول ہے۔ 1973ء کے بعداب ایک نئی بحث نے جنم لیاہے،جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ وقت گزرنے کے باوجود بنیادی سوالات اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔1973ء کے وار پاورزریزولوشن کے بعدیہ پہلا موقع ہے کہ کانگریس نے اس نوع کی اجتماعی آوازبلندکی ہے۔یہ تسلسل اس حقیقت کامظہرہے کہ جمہوریت ایک مسلسل مکالمہ ہے،نہ کہ کوئی حتمی فیصلہ۔ (جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں