یہ خاکسار تو بہت عرصے سے یہ بات لکھتا چلا آ رہا ہے پاکستان کا انگلش نظام تعلیم تباہ حال ہے،حکومت اگر عصری نظام تعلیم کو مزید تباہی وبربادی سے بچانے کے ساتھ ساتھ کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلبا وطالبات کو مہذب بنانا چاہتی ہے تو عصری نظام تعلیم ’’وفاق المدارس العربیہ‘‘ کے اکابرین شیخ اسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور شیخ الحدیث مولانا محمد حنیف جالندھری کے سپرد کر دیا جائے، خدا گواہ ہے کہ اس خاکسار نے یہ مشورہ مذاقاً یا طنزاً نہیں دیا ،جب اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی سے لے کر ،کراچی یونیورسٹی تک،الحاد ازم ، قوم پرستی، سیکولر شدت پسندی اور پاکستان مخالفین کی جنت بن جائیں، تعلیم کے نام پر کروڑوں روپے کے فنڈز ہضم کرنے والی ان یونیورسٹیوں میں جب ’’پاکستان‘‘کی دشمنی پر مبنی نعرے گونجنے لگیں،تو پھر حکمرانوں کو اصلاح احوال کے لئے ہی سہی،عصری نظام تعلیم سے منسلک سکولز،کالجز،اور یونیورسٹیاں اس تعلیمی بورڈ کے اکابرین کے حوالے کرنا چاہیے کہ جس تعلیمی بورڈ کے تحت تیس لاکھ سے زائد طلبا وطالبات میں نہ قوم پرستی کا مرض ہے،نہ الحاد ازم اور نہ ہی پاکستان دشمنی کا کیڑا پایا جاتا ہے،اور وہ واحد تعلیمی بورڈ وفاق المدارس العربیہ پاکستان ہی ہے۔
جامعہ کراچی میں دو طلبہ تنظیموں کے درمیان پیش آنے والا تصادم کے واقعہ ہے نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ پورے صوبے میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ جامعات کو ہمیشہ علم، تحقیق، مکالمے اور برداشت کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن جب ان اداروں میں اختلافِ رائے تشدد میں تبدیل ہونے لگے تو یہ صرف ایک جامعہ کا مسئلہ نہیں رہتا ،بلکہ پورے تعلیمی نظام کے لئے خطرے کی گھنٹی بن جاتا ہے۔حالیہ واقعے کے بعد سندھ حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا۔ وزیر جامعات سندھ محمد اسماعیل راہو نے جامعہ کراچی میں پیش آنے والے واقعے کی ہر پہلو سے شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لیے پانچ رکنی اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی۔ اس کمیٹی کے کنوینر وائس چانسلر شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری ڈاکٹر حسین مہدی مقرر کیے گئے، جبکہ ڈاکٹر غضنفر، ڈاکٹر سرفراز میتلو، پروفیسر ڈاکٹر انتخاب الفت اور پروفیسر ڈاکٹر نائمہ سعید کو بھی کمیٹی کا رکن بنایا گیا۔وزیر جامعات نے واضح ہدایات جاری کیں کہ واقعے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار افراد اور گروہوں کا تعین کیا جائے، انتظامی اور سیکورٹی غفلت کا جائزہ لیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کے لئے سفارشات مرتب کی جائیں۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پندرہ روز کے اندر اپنی رپورٹ محکمہ جامعات و بورڈز سندھ کو پیش کرے، جبکہ جامعہ کراچی سمیت تمام متعلقہ اداروں کو کمیٹی سے مکمل تعاون کا پابند بنایا گیا ہے۔محمد اسماعیل راہو نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ سندھ حکومت جامعات میں پرامن، محفوظ اور سازگار تعلیمی ماحول کے قیام کے لئے پرعزم ہے اور کسی بھی قسم کی تشدد، بدامنی یا قانون شکنی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ موقف اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت اس واقعے کو صرف ایک معمولی جھگڑا نہیں بلکہ ایک سنجیدہ معاملہ سمجھ رہی ہے۔دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے بھی واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ سے فوری رپورٹ طلب کی۔ انہوں نے ہدایت جاری کی کہ یونیورسٹی میں امن و امان ہر صورت یقینی بنایا جائے، واقعے میں ملوث تمام افراد کو، خواہ ان کا تعلق کسی بھی جماعت یا گروہ سے ہو، گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ وزیر داخلہ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ زخمی طلبہ کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور تحقیقات مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں۔
جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے چیئرمین عظیم انور نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ جامعہ کراچی میں بعض قوم پرست عناصر نے ریاست مخالف نعرے لگائے، اور اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں پر حملہ کیا، جسے انہوں نے قابلِ مذمت قرار دیا۔ انہوں نے پولیس انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور جانبداری پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت فوری نوٹس لے، تمام ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے اور تعلیمی اداروں میں امن بحال کرے۔ یہاں ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر جامعات میں ایسے تصادم بار بار کیوں جنم لیتے ہیں؟ طلبہ سیاست میں برداشت کے بجائے محاذ آرائی، نظریاتی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا، انتظامی کمزوریاں، موثر ضابط اخلاق کی عدم موجودگی، سیکورٹی کی خامیاں اور بعض اوقات بیرونی سیاسی اثرات ایسے واقعات کو جنم دیتے ہیں۔ جب اختلافِ رائے کے بجائے طاقت کا استعمال معمول بن جائے تو تعلیمی ماحول بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ جامعات کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو علم، تحقیق، تنقیدی سوچ اور مکالمے کی تربیت دینا ہے۔ اگر انہی اداروں میں خوف، تشدد اور تصادم کا ماحول پیدا ہو جائے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان ان ہزاروں طلبہ کو پہنچتا ہے جو صرف تعلیم حاصل کرنے کے لئے جامعہ آتے ہیں۔ والدین بھی یہی چاہتے ہیں کہ ان کے بچے محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کریں، نہ کہ سیاسی کشمکش یا تشدد کا شکار ہوں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعے کو محض ایک وقتی خبر سمجھ کر فراموش نہ کیا جائے بلکہ اسے ایک موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جامعہ کراچی سمیت تمام سرکاری و نجی جامعات میں سیکیورٹی، نظم و ضبط اور طلبہ تنظیموں کے لئے واضح ضابط اخلاق مرتب کیا جائے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ تمام طلبہ کے لیے یکساں قانون نافذ کرے اور کسی بھی گروہ کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔اسی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی واقعے میں مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں۔ اگر پولیس یا انتظامیہ کی جانب سے جانبداری کا تاثر پیدا ہو تو نہ صرف اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ مزید کشیدگی جنم لیتی ہے۔ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔اس واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی اعلی سطحی کمیٹی اور وزیر داخلہ کی ہدایات اس جانب ایک اہم قدم ہیں، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب رپورٹ کی سفارشات پر بھی پوری سنجیدگی سے عمل کیا جائے، ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔جامعات کسی بھی معاشرے کے فکری مستقبل کی بنیاد ہوتی ہیں۔ اگر ان اداروں میں عدم برداشت، تشدد اور خوف کا ماحول پروان چڑھے گا تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک منتقل ہوں گے۔ اس لئے تمام سیاسی، سماجی، انتظامی اور طلبہ حلقوں کو چاہیے کہ اختلافِ رائے کو مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی روایت کو فروغ دیں اور تشدد کی ہر شکل سے اجتناب کریں۔جامعہ کراچی کا حالیہ واقعہ ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ امن، قانون کی بالادستی اور غیرجانبدار انصاف ہی وہ راستہ ہے جس سے تعلیمی اداروں کا وقار بحال رکھا جا سکتا ہے۔ حکومت، جامعہ انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور تمام طلبہ تنظیمیں اگر اپنی اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کریں تو یقینا جامعات دوبارہ علم، تحقیق، برداشت اور مثبت مکالمے کے حقیقی مراکز بن سکتی ہیں۔ یہی ایک مہذب، تعلیم یافتہ اور مضبوط پاکستان کی ضرورت بھی ہے۔