نہ جانے یہ جہلم کی مٹی کی تاثیر ہے یا پہلو میں بہتے دریا کی روانی کہ اس شہرِخوش جمال نے برسوں سے علم و ادب اور کتاب دوستی کو اپنی شناخت بنا رکھا ہے۔ اونچے نیچے خوبصورت پہاڑوں میں گھرے اس خطے نے کیسے کیسے معروف ادیب اور سخن وَر دنیا کو دیے جن میں سید ضمیر جعفری، آفتاب اقبال شمیم،کرنل غلام سرور،سراج الدین ظفر،دیپک قمر،سلیم فگار،ستیش بترا، راجہ مہدی علی خان، نانک سنگھ، اور گلزار کا نام قابل ذکر ہے۔ جہلم کو یہ علمی اور عالمی اعزاز بھی حاصل ہے کہ عظیم مسلم سائنسدان البیرونی نے قلعہ نندنہ کی چوٹی کو اپنا مشاہداتی مرکز بنا کر زمین کے رداس((Radius کی پہلی درست پیمائش کی تھی ۔
یہ ان بیتے ہوئے روشن دِنوں کی بات ہے جب گردوپیش کتابوں کی خوشبو رچی بسی ہوتی تھی۔ نہ موبائل ہوتا تھا ، نہ ٹی وی چینلز، فرصت کے لمحات کتابوں کی سنگت میں گزرتے تھے جو بہترین مشغلہ بھی تھا اور ذہنوں کو منور کرنے کا موثر ذریعہ بھی۔ کتب پڑھنے کے لئے لائبریری ہی آسان اور سستا وسیلہ ہوتی تھی۔ ’’لاجپت رائے لائبریری ‘‘ کے ذکرکے بغیر جہلم کی تاریخ، ثقافت اور تہذیب کی تصویر ادھوری ہے۔ 1936ء کی بات ہے جب جہلم کے ایک صاحب ذوق ’’لالہ گورن دتہ مل‘‘ نے اپنے والد ’’ لالہ لدھا ‘ کی یا د میں کتابوں کی دنیا آباد کرنے کا ارادہ کیا۔ایک اور روایت کے مطابق اوتار نارائن گجرال ( بھارت کے سابق وزیر اعظم اِندر کمار گجرال کے والد ) نے بھی اس لائبریری کے قیام میں کردار ادا کیا۔ لائبریری کو آزادی پسند ہیرو ’’لاجپت رائے ‘‘کے نام سے منسوب کیا گیاجو 1928ء میں سائمن کمیشن کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس تشدد سے زخمی ہو کرجان کی بازی ہار گیا تھا۔ کتب خانے کا افتتاح معروف معالج اور سیاسی رہنما ’’ڈاکٹر گوپی چند بھارگو‘‘نے کیا ،جو خود بھی تحریک آزادی کے سرگرم رُکن رہے اور قید وبند کی صعوبتیں بھی کاٹیں۔ تقسیم ہند کے بعد انہیںبھارتی پنجاب کے پہلے وزیر اعلیٰ بننے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ لاجپت رائے لائبریری کُتب بینی کی ایسی سہولت تھی جس سے عام قاری ، اساتذہ اور محققین بھی مستفید ہوتے تھے۔ یہاں اُردو، فارسی ، تاریخ ، فلسفہ ، سماجی اور دینی علوم کی ہزاروں کُتب ہوتی تھیں۔یہ محض ذخیرہ کُتب نہیں بلکہ ادبی نشستوں، علمی مباحثوں اور طلبہ و اہل قلم کی سرگرمیوں کا ایسا مرکز تھا جہاںسے پھوٹتی روشنی نے دور دور تک اپنا دائرہ اثرپھیلایا ۔تقسیم ِ ہندکے بعد جہلم ہی میں موجود اقبال لائبریری کو لاجپت رائے لائبریری میں ضم کردیا گیا۔مجھے 80 کی دہائی کا اپنا بچپن یاد آگیا جب ہم راولپنڈی کے ایک محلے ’’ٹاہلی موہری‘‘ میں رہا کرتے تھے۔ میں گلی کے نکڑ پر کھڑا ہو کر قریب ہی واقع لائبریری کو دیکھتا تھا کہ کھلی ہے یانہیں۔ اس کا دروازہ وہاں سے نظر نہیں آتا تھا، مگر جب وہ کھلی ہوتی تو ایک بورڈ باہررکھ دیا جاتا تھا جس پر جلی حروف میں ’’عروج لائبریری ‘‘ لکھا ہوتا تھا، بورڈ کی عدم موجودگی یہ مایوس کن پیغام دیتی تھی کہ لائبریری ابھی بند ہے۔ پھر رفتہ رفتہ عروج لائبریری تو کیا، لائبریریوں کا عروج ہی زوال پزیر ہوگیا۔ وقت کی گرد نے لاجپت رائے لائبریری کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ عمارت بھی خستہ ہوتی چلی گئی اور کئی دہائیوں تک نہ نئی کتب کا اضافہ ہوا، نہ مناسب دیکھ بھال ہوئی، یہاں تک کہ دانش و فکر کا یہ مرکز ویرانی کی افسوسناک تصویر بن کر رہ گیا۔
بلال اظہر کیانی جہلم سے مسلم لیگ(ن) کے انتہائی متحرک رُکن قومی اسمبلی ہیں جن کے پاس خزانہ اور ریلوے کے وزیرمملکت کا قلم دان بھی ہے۔ حلقے کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے فلاحی منصوبوں کا جال بچھایا ہوا ہے جن میں لِلہ جہلم روڈ، عارضہ قلب کے مریضوں کے لئے کیتھ لیب اور الیکٹرک بسوں کے منصوبے نمایاں ہیں۔ ان کی علم وادب سے دوستی نے سیاست کے وہ رنگ ڈھنگ بھی بحال کردیئے ہیںجو کبھی ہمارے سیاسی نظام کا بانکپن ہوا کرتے تھے۔ سیاست میں ایسے خوش ذوق لوگوں کی آمد سے ہمیشہ تہذیب ، اقدار اور اُجلی روایات کو بھی ایک نئی زندگی ملتی ہے ۔ایسے پُرعزم اصحاب جن کی فکری آبیاری کتابوں نے کی ہو، وہ کتابوں کی طرف اسی طرح کھچے چلے آتے ہیں۔ لائبریری کے احیاء کے لئے بھی انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا اور مقامی شہریوں، ادیبوں اور علم دوست شخصیات کو ساتھ لے کر اس تاریخی ورثہ کی حفاظت کے لئے آگے بڑھے۔یہ محض لائبریری کی بحالی نہیں، علم و ادب سے محبت اور ان زمانوں کی واپسی ہے جب کتاب کو سرمایہ حیات کی طرح عزیز رکھا جاتا تھا۔ ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن نے بھی اس90 سالہ قدیم تاریخی ورثہ کی بحالی میں جس محنت اور دلچسپی سے کام کیا وہ لائق ِ تحسین ہے۔ امید ہے کہ وہ اسے محض لائبریری نہیں بلکہ تاریخی سیاحتی مقام کے طور پر بھی متعارف کروائیں گے ۔ جہلم کو کتاب اور علم و ادب کا گہوارا بنائے رکھنے میں ’’ بُک کارنر‘‘ کے گگن شاہد اور امر شاہد کا بہت اہم کردار ہے ۔ کتاب کو زندہ رکھنے کے لئے ان کی محنت اور ریاضت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ اُن کے لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کتابوں کا عہد ایسے بے لوث لوگوں کے ہوتے کبھی مٹ نہیں سکتا۔
اصحابِ علم وادب کے لئے وہ دن باعث مسرت تھا جب بلال اظہر کیانی نے بعد از بحالی لاجپت رائے لائبریری کا 90 برس بعد پھر افتتاح کیا جسے نئی کُتب، فرنیچر اور دیگر سہولتوں کے ساتھ عوام کے لیے کھول دیاگیاہے ۔ اس کے تمام اخراجات پنجاب حکومت نے برداشت کئے۔ خستہ عمارت کا نہ صرف قدیمی حسن بحال کیا گیا بلکہ اس میں ۵۰۰ نئی کتب بھی رکھی گئی ہیں۔ بلال کیانی کا کہنا تھا کہ مستقبل میں کل وقتی لائبریرین کا تقرر بھی کیا جائے گا، اورپہلے کی طرح علمی زعما کو مدعو کر کے ادبی نشستیں رکھی جائیں گی۔کیانی صا حب ،ممتاز شخصیات پر مشتمل ایک بورڈ بھی تشکیل دے رہے ہیں جو جہلم کی درخشاں تاریخ، تہذیبی و ثقافتی ورثے، ہیروز، شاعروں، ادیبوں اور داستانوں کو فروغ دینے میں اہم قدم ثابت ہو گا۔
کیانی صاحب نے دینہ کی اُس گلی کو بھی معروف شاعرگلزار کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا ہے، جہاں گلزار تقسیم ہند سے قبل رہا کرتے تھے۔ اس حوالے سے انہوں نے سرحد پار گلزار سے گفتگوبھی کی۔گلزارکی تحریروں میں اس خطے کی مہک اور ثقافت بھی نظر آتی ہے اور اپنی گلیوں سے دُوری کا دَرد بھی۔ ’’ گلزار گلی ‘‘ نہ صرف جہلم کے باسیوں، صاحبانِ قلم اور گلزار کے لئے باعث ِ افتخار ہو گی بلکہ اردو علم وادب سے والہانہ لگائو کی علامت بھی ہو گی۔ امید ہے کہ ہم عنقریب گلزار صاحب کو بلال اظہر کیانی کے ہمراہ اس کا افتتاح کرتے دیکھ سکیں گے۔ گلزار نے کتابوں کی کم ہوتی اہمیت پر نظم لکھی تھی ’’ کتابیں جھانکتیں ہیں بند الماری کے شیشوں سے‘‘۔ امید ہے کہ لائبریری کی طرح ذوقِ کتب بینی کی بحالی کے لئے بھی اقدامات ہوں گے تاکہ کتابیں بند الماریوں سے باہر نہیں بلکہ لوگ کتابوں کے اندر جھانکنا شروع کریں۔لاجپت لائبریری کی بحالی مجھے اپنے ماضی کی گلی میں لے گئی ، جس کے نکڑ پر میں کھڑا ہوںاور سامنے بورڈ پر جلی حروف میں لکھا ہوا ہے ،’’ عروج لائبریری‘‘۔ لائبریری کا دروازہ جب بھی کھلتا ہے قوموں پر تہذیب ، تاریخ ، علم وادب اور شعور کے دریچے بھی کھل جاتے ہیں۔ یہ دروازہ کھولنے کا شکریہ۔