Search
Close this search box.
منگل ,14 جولائی ,2026ء

مالیاتی اداروں کی دریوزہ گری سے کب جان چھوٹے گی ؟

نئے برس کا بجٹ آجانے کے بعد آمدنی اور اخراجات کے تازہ اعداد و شمار کے بعد ،فوراً آئی ایم ایف کے قرضے کا بوجھ ، ریاست کی حالت زار کا آئینہ بھی ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کی نگاہ میں سب سے قیمتی چیز کیا ہے؛ اقتدار، مراعات، یا انسان؟ افسوس کہ ہمارے ہاں ہر نیا بجٹ ایک ایسے نوحے کی صورت سامنے آتا ہے جس میں اعداد و شمار تو بڑھتے ہیں مگر انسان چھوٹا ہوتا جاتا ہے۔ خسارہ کم نہیں ہوتا، قرضے ختم نہیں ہوتے، مگر عوام کے صبر کا سرمایہ ضرور ختم ہونے لگتا ہے۔عجیب منظر ہے۔ ریاست کہتی ہے کہ خزانہ خالی ہے، وسائل کم ہیں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط سخت ہیں، اس لئے عوام کو قربانی دینا ہوگی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ قربانی ہمیشہ وہی کیوں دے جس کے پاس قربان کرنے کے لئے کچھ باقی ہی نہیں؟ مزدور کی مزدوری پہلے ہی مہنگائی کی نذر ہو چکی ہے، پنشن یافتہ بزرگ اپنی دواں اور روٹی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں، اور سفید پوش متوسط طبقہ اپنا بھرم قائم رکھنے کی تگ و دو میں ہے جب بھی بجٹ آتا ہے، ٹیکسوں کی ایک نئی فصل اگ آتی ہے۔ بجلی مہنگی، گیس مہنگی، پٹرول مہنگا، تعلیم مہنگی، علاج مہنگا، حتی کہ سانس لینا بھی دو بھر محسوس ہونے لگتا ہے۔ لیکن اسی بجٹ میں اقتدار کے ایوانوں کی روشنی مدھم نہیں ہوتی۔ سرکاری گاڑیاں ویسے ہی دوڑتی رہتی ہیں، پروٹوکول کے قافلے ویسے ہی سڑکوں پر راج کرتے ہیں، اور مراعات کے دروازے ویسے ہی مخصوص طبقات کے لئے کھلے رہتے ہیں۔کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس ملک میں دو پاکستان آباد ہیں۔ ایک وہ پاکستان جہاں بجٹ کا ہر لفظ خوف کی علامت ہے، اور دوسرا وہ جہاں بجٹ صرف ایک رسمی کارروائی ہے۔
ایک طرف وہ لوگ ہیں جو آٹے، چینی، دودھ، ادویات اور بچوں کی فیس کے حساب میں الجھے رہتے ہیں اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کے لئے سرکاری خزانہ ایک ایسی نہر ہے جس کا پانی کبھی پایاب نہیں ہوتا۔کہا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط بہت سخت ہیں۔ یقینا ہوں گی۔ مگر کیا ان شرائط میں کہیں یہ بھی لکھا ہے کہ حکمران اپنی مراعات برقرار رکھیں؟ کیا وہاں یہ درج ہے کہ سرکاری اخراجات میں عوام کا حصہ کم اور اشرافیہ کا حصہ زیادہ رکھا جائے؟ کیا کسی معاہدے میں یہ شرط شامل ہے کہ عام آدمی کی جیب خالی کر دی جائے لیکن اقتدار کے ایوانوں کی آسائشوں پر کوئی آنچ نہ آئے؟اصل دکھ قرضہ نہیں، قرض کی غیر مساوی تقسیم ہے۔ قرض قوم کے نام پر لیا جاتا ہے مگر اس کی اقساط قوم کا غریب آدمی ادا کرتا ہے۔ ٹیکس وہ دیتا ہے جس کی تنخواہ پہلے ہی محدود ہے۔ مہنگائی وہ سہتا ہے جس کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہوتا۔ لیکن جن کے اثاثے بیرون ملک ہیں، جن کے سرمایہ کی منزل قومی بینک نہیں بلکہ غیر ملکی مالیاتی مراکز ہیں، وہ اس ساری تکلیف سے تقریباً محفوظ رہتے ہیں۔ہمارے ہاں دولت کا سفر بھی عجیب ہے۔ رزق اس مٹی سے حاصل کیا جاتا ہے مگر دولت کسی اور سرزمین کی تجوریوں میں جا کر آرام کرتی ہے۔ یہاں کارخانے بند ہوتے ہیں، وہاں فارم ہاس آباد ہوتے ہیں۔ یہاں نوجوان بے روزگار پھرتے ہیں، وہاں نئی جائیدادیں خریدی جاتی ہیں۔ یہاں بچے سرکاری سکولوں کی خستہ حال عمارات میں بیٹھتے ہیں، وہاں حکمران خاندانوں کی نئی نسل دنیا کے مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں مستقبل کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔اور پھر کچھ قلم بھی ہیں۔ وہ قلم جو سوال نہیں اٹھاتے بلکہ قصیدے لکھتے ہیں۔ وہ سچائی کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے اقتدار کی پیشانی پر تعریفوں کے پھول سجاتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ خاموشی اور وفاداری کے بھی انعام ہوتے ہیں۔ انہیں بہترین تقریبات، بہترین دعوتیں اور بہترین آسائشیں میسر آتی ہیں۔ لیکن تاریخ کا المیہ یہی ہے کہ دربار کے شاعر ہمیشہ اپنے عہد کے ساتھ دفن ہو جاتے ہیں، جبکہ سچ لکھنے والے قلمکار تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔آج اگر کسی کے گھر میں سب سے زیادہ خاموشی ہے تو وہ متوسط طبقے کا گھر ہے۔ وہ نہ احتجاج کر سکتا ہے، نہ بھیک مانگ سکتا ہے۔ اس کی ساری زندگی عزت کی ایک باریک لکیر پر چلتے ہوئے گزرتی ہے۔
ہر مہینے کی پہلی تاریخ امید لے کر آتی ہے اور آخری ہفتہ اضطراب کا پیغام، بچوں کی خواہشیں، والدین کی دوائیں، بجلی کا بل، کرائے کا مکان اور مہنگی ہوتی زندگی، سب مل کر اس کی روح پر بوجھ بنتے جاتے ہیں۔ دہاڑی دار مزدور کی حالت اس سے بھی زیادہ دردناک ہے۔ صبح سویرے وہ رزق کی تلاش میں نکلتا ہے مگر شام کو اکثر خالی ہاتھ لوٹتا ہے۔ اس کے لیے بجٹ کی تقریر میں استعمال ہونے والی معاشی اصطلاحات بے معنی ہیں۔ اسے صرف اتنا معلوم ہے کہ آج آٹا کل سے مہنگا ہے، دال کی قیمت بڑھ گئی ہے اور بچوں کے دودھ میں پھر کمی کرنا پڑے گی۔قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور بلند عمارتوں سے نہیں بنتیں۔ قومیں انصاف سے بنتی ہیں۔ جب انصاف کمزور پڑ جائے تو ترقی کے سارے دعوے کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔ اگر ریاست اپنے کمزور شہری کو تحفظ نہ دے سکے تو اس کے معاشی اشارئیے خواہ کتنے ہی خوبصورت کیوں نہ ہوں، تاریخ انہیں کامیابی نہیں مانتی۔آج ضرورت صرف نئے ٹیکس لگانے کی نہیں بلکہ نئے ضمیر جگانے کی ہے۔ سب سے پہلے ریاست کو اپنی شاہانہ روز زندگی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ حکمران طبقہ اگر واقعی قوم سے قربانی مانگتا ہے تو اسے قربانی کی ابتدا اپنے گھر سے کرنی ہوگی۔ مراعات کم ہوں، فضول اخراجات ختم ہوں، احتساب بلاامتیاز ہو، اور قومی دولت کو قومی خدمت پر خرچ کیا جائے۔یہ ملک وسائل سے خالی نہیں، دیانت سے محروم ہے۔ یہاں زمین زرخیز ہے، دریا بہتے ہیں، نوجوان باصلاحیت ہیں، مگر نظام ایسا ہے جو محنت کرنے والوں کو نہیں بلکہ طاقتوروں کو نوازتا ہے۔ جب تک اس اصول کو نہیں بدلا جائے گا، ہر بجٹ عوام کے لیے ایک نئی سزا بن کر اترے گا۔وقت گزر جاتا ہے۔ اقتدار بدل جاتے ہیں۔ ایوانوں کے مکین بدل جاتے ہیں۔ مگر مزدور کے ہاتھوں کی سختی، کسان کے ماتھے کا پسینہ اور متوسط طبقے کی خاموش آہیں تاریخ کے صفحات پر باقی رہتی ہیں۔ وہ حکمران جنہوں نے قوم کے دکھ کو محسوس نہیں کیا، ان کے نام صرف سرکاری فائلوں میں رہ جاتے ہیں، لیکن جنہوں نے انسان کو مرکز بنایا، انہیں قومیں مدتوں یاد رکھتی ہیں۔اس لیے آج سوال بجٹ کا نہیں، ریاست کے اخلاق کا ہے۔ سوال خسارے کا نہیں، ترجیحات کا ہے۔ سوال قرضے کا نہیں، انصاف کا ہے۔ اگر قربانی صرف کمزور کا قوم کی تقدیر نہیں بدل سکیں گے اور شاید آنے والی نسلیں یہ ضرور پوچھیں گی کہ اس سرزمین میں سب سے زیادہ قیمت کس چیز نے ادا کی تھی؟ جواب یہی ہوگا: نہ اشرافیہ نے، نہ مقتدرہ نے، بلکہ وہ خاموش انسان جس نے ہر بجٹ کے بعد اپنی خواہشوں کا ایک اور چراغ بجھا دیا ، ہاں مگر حکمرانوں خو اپنی اور اپنے بہی خواہوزں کی مراعات کے لئے آئی ایم ایف نے ساڑھے تین ارب ڈالر دینے کا عندیہ دے دیا ہے ۔ اور عوام کے منہ میں صرف اس امید کی چوسنی کہ شاید اگلا سال اس کے بچوں کے لئے کچھ بہتری لے آئے۔

یہ بھی پڑھیں