Search
Close this search box.
بدھ ,15 جولائی ,2026ء

امریکہ،ایران جنگ میں خلیجی ریاستوں اور امتِ مسلمہ کا امتحان

یہ ایک معروضی حقیقت ہے کہ جب بھی بڑی طاقتیں آمنے سامنے آتی ہیں تو میدانِ جنگ صرف ان کے درمیان محدود نہیں رہتا بلکہ اس کی شعلے ارد گرد کے ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں ضرور لیتے ہیں ۔ طاقت کی سیاست کا ایک بے رحم اصول یہ بھی ہے کہ کمزور ریاستیں اکثر اپنی مرضی سے نہیں بلکہ حالات کے جبر کے تحت فیصلے کرتی ہیں، اور پھر ان فیصلوں کی قیمت بھی انہیں چکانا پڑتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اس تلخ حقیقت کی زندہ تصویر ہے، جہاں گزشتہ نصف صدی سے جنگ، عدم استحکام اور عالمی طاقتوں کی رقابت نے امن کو ایک خواب بنا دیا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی داستان نہیں۔ 1979 ء کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل تنائو کا شکار رہے ہیں۔ پابندیاں، سفارتی محاذ آرائی، پراکسی تنازعات اور عسکری دھمکیاں اس تعلق کی مستقل خصوصیات رہی ہیں۔ جب بھی اس کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو خلیجی ممالک خود کو ایک نازک دوراہے پر کھڑا پاتے ہیں، کیونکہ ان کے ایک طرف امریکہ کے ساتھ دفاعی اور معاشی تعلقات ہیں اور دوسری طرف ایران ان کا ہمسایہ بھی ہے اور خطے کی ایک اہم طاقت بھی۔اسی تناظر میں ابو ظہبی اور متحدہ عرب امارات کا کردار بھی زیرِ بحث آتا ہے۔ امارات نے برسوں سے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو اپنی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا ہے۔ اس تعاون کے نتیجے میں امریکی افواج اور عسکری سہولیات کی موجودگی خطے میں ایک حقیقت بن چکی ہے۔ لیکن طاقتور دوستیاں ہمیشہ آسان نہیں ہوتیں۔ اگر کسی ریاست کی سرزمین یا تنصیبات کسی عالمی طاقت کے عسکری مقاصد کے لئے استعمال ہوں تو مخالف فریق اسے بھی تنازع کا حصہ تصور کر سکتا ہے۔ یہی وہ خدشہ ہے جس نے ابو ظہبی کو ایک حساس اور پیچیدہ صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے۔یہ کہنا آسان ہے کہ قصور صرف ابو ظہبی کا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ہر ریاست اپنے دفاع، سلامتی اور معاشی مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتی ہے۔
خلیجی ممالک کے لئے ایران کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ بھی ایک تشویش کا باعث رہا ہے، جبکہ امریکہ ان کے لیے ایک اہم دفاعی شراکت دار ہے۔ اس لئے ان کی خارجہ پالیسی صرف جذبات نہیں بلکہ سلامتی، معیشت اور علاقائی توازن جیسے عوامل سے تشکیل پاتی ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ طاقتور اتحادیوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار بعض اوقات کسی ریاست کو ایسے تنازعات کے منجدھار لاکھڑا کرتا ہے جن کی قیمت نہتے عوام کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ایران کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اگر اس کے خلاف کسی حملے میں کسی دوسرے ملک کی سرزمین یا فضائی حدود استعمال ہوں تو وہ اس ملک کو محض غیر جانبدار تماشائی نہیں سمجھے گا۔ یہی سوچ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں صرف فوجی اہداف ہی نہیں بلکہ سرمایہ کاری، تجارت، سیاحت، توانائی اور عام شہریوں کا اعتماد بھی پارہ پارہ ہوتا ہے۔خلیج کی خوش حالی ہمیشہ امن سے وابستہ رہی ہے۔ دبئی، ابو ظہبی، دوحہ اور دیگر ریاستیں اس لیے خوشحالی کا چہرہ دیکھنے میں کامیان رہیں کہ دنیا نے انہیں محفوظ معاشی مراکز سمجھا۔ اگر جنگ کا سایہ ان ریاستوں پر منڈلانے لگے تو سب سے پہلے سرمایہ دار خوفزدہ ہوتا ہے۔ کیونکہ سرمایہ کبھی بارود کے سائے میں پروان نہیں چڑھتا۔ ایک میزائل صرف ایک عمارت کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ برسوں میں قائم ہونے والے معاشی اعتماد کو بھی تہہ وبالا کر دیتا ہے۔اس پوری صورتِ حال کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ نقصان پھر امت مسلمہ ہی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ایک طرف مسلمان ریاستیں ایک دوسرے کے بارے میں بداعتمادی کا شکار ہوتی ہیں، دوسری طرف عالمی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے مطابق صف بندیاں کرتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ امتِ مسلمہ مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے کے بجائے مختلف بلاکوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ یہ تقسیم نہ صرف سیاسی کمزوری پیدا کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی اجتماعی آواز کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔
قرآن کریم بار بار مسلمانوں کو اتحاد، عدل اور باہمی اصلاح کی تعلیم دیتا ہے۔ اختلافات ہر معاشرے میں ہوتے ہیں، لیکن ان کا حل جنگ نہیں بلکہ مکالمہ، تدبر اور انصاف ہے۔ اگر مسلمان ممالک اپنے باہمی تنازعات کے حل کے لیے مضبوط علاقائی سفارتی نظام قائم کریں تو بیرونی طاقتوں پر انحصار بھی کم ہو سکتا ہے اور تصادم کے امکانات بھی معدوم ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خلیجی ریاستیں، ایران اور دیگر علاقائی ممالک اپنی سلامتی کو صرف عسکری طاقت کے زاویے سے نہ دیکھیں بلکہ اعتماد سازی، اقتصادی تعاون اور مسلسل سفارتی رابطوں کو بھی اہمیت دیں۔ جدید دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو جنگ کے بجائے معیشت، تعلیم، تحقیق اور علاقائی تعاون کو اپنی ترجیح بناتی ہیں۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جنگیں شروع کرنا آسان لیکن ختم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ایک بار نفرت کی آگ بھڑک جائے تو اس کی لپیٹ میں ایک نہیں کئی نسلیں آ جاتی ہیں۔ عراق، شام، یمن اور لیبیا اس حقیقت کی دردناک مثالیں ہیں کہ جنگ کا اختتام صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتا بلکہ وہ برسوں تک معاشروں کی نفسیات، معیشت اور تہذیب کو زخمی رکھتی ہے۔متحدہ عرب امارات خصوصا ابو ظہبی کے لئے بھی یہی لمح فکر ہے کہ وہ اپنی سفارتی حکمتِ عملی کو اس انداز میں آگے بڑھائے جس سے اس کی سلامتی بھی محفوظ رہے اور خطے میں کشیدگی بھی کم ہو۔ اسی طرح ایران پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے تحفظات کے اظہار میں ایسے راستے اختیار کرے جو پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف نہ دھکیلیں۔ امریکہ سمیت تمام بڑی طاقتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے ذریعے قائم ہونے والا امن عارضی ہوتا ہے، جبکہ پائیدار امن انصاف، احترامِ خودمختاری اور مکالمے سے جنم لیتا ہے۔آخرکار سوال صرف امارات ، ابو ظہبی یا ایران کا نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا ہے۔ اگر یہ خطہ مسلسل عالمی طاقتوں کی کشمکش کا کھیت بنا رہا تو ترقی کے خواب بار بار ٹوٹیں گے۔ لیکن اگر علاقائی قیادت نے دانش، تحمل اور دوراندیشی کا راستہ اختیار کیا تو یہی خطہ، جو آج بارود کی بو سے پہچانا جاتا ہے، کل علم، تجارت، سیاحت اور تہذیبی ہم آہنگی کا مرکز بھی بن سکتا ہے۔تاریخ کا سبق یہی ہے کہ طاقت ہمیشہ باقی نہیں رہتی، مگر دانشمندانہ فیصلے قوموں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ مسلمان دنیا کو بھی اب یہی فیصلہ کرنا ہے کہ وہ مستقل محاذ آرائی کے راستے پر چلتی رہے گی یا باہمی اعتماد، انصاف اور تعاون کے ذریعے اپنی آئندہ نسلوں کے لئے ایک زیادہ پرامن اور مستحکم مستقبل تعمیر کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں