انسان کی زندگی میں کچھ جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں وہ صرف چند دن قیام کرتا ہے، خوبصورت یادیں سمیٹتا ہے اور پھر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔ لیکن کچھ مقامات ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں انسان صرف اپنے جسم کے ساتھ نہیں بلکہ اپنی روح کے ساتھ بھی ہمیشہ کے لئے آباد ہو جاتا ہے۔ وقت گزر جاتا ہے، مگر اس شہر کی خوشبو، اس کی فضاء ، اس کے پتھر اور اس کی دیواریں دل میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔میرے لئے استنبول کے تاریخی علاقے فاتح میں واقع سوڈے کوناک ہوٹل ایک ایسی ہی منفرد اور دلنشین جگہ ہے۔تقریبا ًدس برس سے ہر موسم گرما میں میرے قدم دوبارہ اسی دروازے پر آتے ہیں۔ اب یہاں آنا محض ایک سفر نہیں رہا، بلکہ میری روح کی ایک خاموش پکار کا جواب بن چکا ہے۔ یہ صرف ایک ہوٹل نہیں بلکہ میرا دوسرا گھر ہے، جہاں میرا قلم نئی زندگی پاتا ہے، خیالات پختگی اختیار کرتے ہیں اور الہام خاموشی سے دل پر اترتا ہے۔اس بے مثال ماحول کا سب سے بڑا سہرا ہوٹل کے مالک سلچوک پریک کے سر جاتا ہے۔ ان کی شرافت، فیاضی اور محبت ترک مہمان نوازی کی بہترین مثال ہے۔ ان کی قیادت میں کام کرنے والا خوش اخلاق، محنتی اور مخلص عملہ ہر آنے والے کو پہلے ہی لمحے سے خاندان کے فرد کی طرح خوش آمدید کہتا ہے۔اسی لئے میں نے کبھی اپنے آپ کو یہاں ایک عام مہمان محسوس نہیں کیا۔ ان کی محبت اور احترام نے ہمیشہ یہ احساس دیا کہ گویا میں اپنے ہی گھر، بلکہ اپنے ہی ہوٹل میں مقیم ہوں۔ یہی خلوص ہر سال مجھے دوبارہ استنبول کھینچ لاتا ہے۔جب صبح کی پہلی روشنی میں میں ہوٹل کی خوبصورت چھت پر بیٹھتا ہوں تو ایک بار پھر محسوس کرتا ہوں کہ استنبول دنیا کے دلکش ترین شہروں میں کیوں شمار ہوتا ہے۔ٹھنڈی صبح کی ہوا چہرے کو چھوتی ہے، ہاتھ میں خوشبودار ترک کافی کا گرم پیالہ ہوتا ہے اور سامنے ایک سفید کاغذ۔ اسی لمحے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ شہر اپنی صدیوں پرانی داستانیں خاموشی سے میرے کانوں میں سنانا شروع کر دیتا ہو۔میرے سامنے افق پر ایا صوفیہ کا عظیم الشان گنبد صبح کی پہلی سنہری کرنوں میں سونے کی مانند جگمگا رہا ہوتا ہے۔
بے شمار سلطنتوں، تہذیبوں اور نسلوں کا گواہ یہ شاہکار آج بھی پوری شان سے تاریخ کا خاموش محافظ بنا کھڑا ہے۔اس کے میناروں کو دیکھتے ہوئے مجھے صرف پتھر نہیں بلکہ وقت کی مسلسل روانی دکھائی دیتی ہے۔ ایاصوفیہ میرے لئے صرف ایک عمارت نہیں بلکہ ماضی اور حال کے درمیان قائم ایک خاموش پل ہے۔دائیں جانب گھنے سبز درختوں کے درمیان گورنر ہاس دکھائی دیتا ہے اور اس کے ساتھ ہی توپ کاپی محل کی عظیم فصیلیں۔ صدیوں تک سلطنتِ عثمانیہ کا دل انہی دیواروں کے اندر دھڑکتا رہا، جہاں فیصلے ہوئے، فتوحات کی منصوبہ بندی ہوئی اور تاریخ نے نئی کروٹیں لیں۔جب میں ان قدیم دیواروں کو دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے جیسے عثمانی عظمت ایک بار پھر میری آنکھوں کے سامنے زندہ ہو گئی ہو، اور تاریخ کے بند اوراق دوبارہ کھل گئے ہوں۔بائیں جانب نیلگوں باسفورس پوری شان کے ساتھ پھیلا ہوا ہے۔ جب سورج کی کرنیں اس کے پانیوں پر رقص کرتی ہیں تو ہر قطرہ ایک قیمتی ہیرے کی مانند چمک اٹھتا ہے۔ باسفورس صرف دو براعظموں کو ملانے والا آبی راستہ نہیں بلکہ صدیوں سے تہذیبوں، ثقافتوں اور انسانوں کو جوڑنے والا ایک زندہ پل ہے۔اسے دیکھتے ہوئے انسان کی سوچ وسیع ہو جاتی ہے، قلم آزاد ہو جاتا ہے اور روح لامحدود وسعتوں کا احساس ہوتا ہے
آسمان پر محوِ پرواز سفید بگلے اور سیاہ کوے استنبول کی صبحوں کو ایک منفرد شاعرانہ حسن عطا کرتے ہیں۔ بگلے باسفورس کی لہروں سے بلند ہو کر نیلے آسمان کی وسعتوں میں گم ہو جاتے ہیں، جبکہ کوئوں کی مخصوص آواز اس قدیم شہر کی پہچان بن کر فضا میں گونجتی ہے۔ انہیں دیکھ کر دل گواہی دیتا ہے کہ زندگی مسلسل سفر کا نام ہے اور آزادی روح کی سب سے بڑی نعمت۔میرے سامنے روایتی ترک ناشتے کی دلکش دسترخوان سجی ہوتی ہے۔ تازہ پنیر کی اقسام، زیتون، شہد، سرخ ٹماٹر، کھیرے، موسمی پھل اور تازہ گرم روٹی۔ ساتھ ہی باریک شیشے کے روایتی گلاس میں خوشبودار ترک چائے اور اس کے پہلو میں اپنی منفرد خوشبو بکھیرتی ہوئی ترک کافی۔یہ صرف ناشتا نہیں بلکہ ترک تہذیب، ذوق اور مہمان نوازی کا جیتا جاگتا اظہار ہے۔سوڈے کوناک کے خوش اخلاق اور مسکراتے ہوئے کارکن ہر چیز انتہائی محبت، نفاست اور خلوص سے پیش کرتے ہیں۔ یہاں انسان صرف خدمت نہیں پاتا بلکہ خود کو ایک معزز اور عزیز مہمان محسوس کرتا ہے۔ یہی اخلاص ہر لقمے کا ذائقہ کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ سوچنے، لکھنے اور اپنی روح کی آواز سننے کے لئے اس سے بہتر جگہ کا تصور کرنا مشکل ہے۔ فاتح کی تاریخ سے معطر گلیوں کے اوپر، باسفورس سے آنے والی ہلکی ٹھنڈی ہوا کے ساتھ، الفاظ بغیر کسی کوشش کے خودبخود کاغذ پر اترنے لگتے ہیں۔یہاں تاریخ کتابوں کے صفحات میں قید کوئی پرانی کہانی نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ ساتھی بن کر انسان کے ساتھ چلتی ہے۔ جب میرا قلم حرکت کرتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے استنبول بھی میرے ساتھ ساتھ لکھ رہا ہو۔زندگی میں مجھے دنیا کے بے شمار ممالک، شہر اور ہوٹل دیکھنے کا موقع ملا، لیکن بہت کم مقامات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کی روح پر ہمیشہ کے لئے اپنا نقش چھوڑ دیتے ہیں۔ میرے لئے سوڈے کوناک ہوٹل انہی نایاب مقامات میں سے ایک ہے۔یہاں کی ہر صبح مجھے سکون عطا کرتی ہے اور ہر شام شکرگزاری کا سبق دیتی ہے۔ جب بھی یہاں سے رخصت ہوتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ میرے دل کا ایک حصہ استنبول میں رہ گیا ہے، اور میں اگلے سال دوبارہ لوٹ آنے کی شدید خواہش اپنے ساتھ لے جاتا ہوں۔استنبول صرف دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک نہیں بلکہ وہ شہر ہے جہاں تاریخ، تہذیب، روحانیت اور انسانیت ایک ہی دل میں جمع ہو جاتی ہیں۔اللہ تعالی اس عظیم شہر، اس خوبصورت ہوٹل، اس کے معزز مالک سلچوک پریک اور ان تمام مخلص کارکنوں کو، جنہوں نے اس جگہ کو گھر جیسی محبت عطاء کی ہے، ہمیشہ صحت، امن، برکت اور خوشیوں سے نوازے۔دعائوں کے ساتھ۔