Search
Close this search box.
بدھ ,15 جولائی ,2026ء

مودی مخالف کروڑوں بھارتیوں کی شہریت کو خطرہ

بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانا پسند کرتا ہے، مگر جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کے دن لمبی قطاروں میں کھڑے لوگوں کے مناظر کا نام نہیں ہوتی۔ جمہوریت اس یقین کا نام ہے کہ ریاست اپنے ہر شہری کو برابر کا انسان سمجھے گی، اس کے عقیدے، زبان، نسل یا ثقافت سے قطع نظر اسے سیاسی عمل میں شریک رہنے کا حق دے گی اور اس کے ووٹ کو اس کی شہریت کے برابر اہمیت حاصل ہوگی۔ لیکن جب ریاست خود ووٹ کو ہتھیار بنا لے اور انتخابی فہرستوں کو سیاسی انجینئرنگ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے لگے تو پھر بیلٹ باکس جمہوریت کی علامت نہیں رہتا بلکہ اقتدار کے کھیل کا ایک اور میدان بن جاتا ہے۔گزشتہ چند برسوں میں بھارت میں جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ ہوا ہے وہ اچانک رونما ہونے والا کوئی واقعہ نہیں بلکہ ایک طویل منصوبہ بندی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ کبھی شہریت کے قوانین کو ہتھیار بنایا گیا، کبھی مساجد اور تاریخی ورثے کو نشانہ بنایا گیا، کبھی گائے کے نام پر ہجوم کو قتل کا لائسنس دیا گیا اور کبھی بلڈوزر کو انصاف کا متبادل بنا دیا گیا۔ اب اسی سلسلے کی ایک نئی کڑی انتخابی فہرستوں سے لاکھوں لوگوں کے نام خارج کرنے کی صورت میں سامنے آئی ہے۔کسی شہری سے اس کا ووٹ چھین لینا صرف ایک انتظامی کارروائی نہیں ہوتی۔ یہ دراصل اس کے سیاسی وجود کو مٹانے کی کوشش ہوتی ہے۔ ووٹ صرف کاغذ کے ایک ٹکڑے پر لگنے والی مہر نہیں بلکہ ریاست کے ساتھ شہری کے تعلق کا اظہار ہوتا ہے۔ جب کسی انسان کا نام ووٹر لسٹ سے غائب کر دیا جاتا ہے تو گویا اسے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ تم اس ریاست کے برابر کے شہری نہیں ہو، تمہاری آواز کی کوئی حیثیت نہیں اور تمہارے مستقبل کے فیصلے تمہارے بغیر بھی کیے جا سکتے ہیں۔
بھارت میں حالیہ انتخابی نظرثانی کے عمل کے دوران کروڑوں افراد کے نام ووٹر فہرستوں سے نکال دیے گئے۔ سرکاری وضاحتیں اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن زمینی حقائق ایک مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔ جن علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے وہاں حذف کیے جانے والے ووٹروں کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ سامنے آئی۔ یہ اتفاق نہیں ہو سکتا کہ ایک مخصوص مذہبی برادری بار بار اور مسلسل انتظامی کارروائیوں کا شکار بنتی رہے اور ہر مرتبہ ریاست اسے محض تکنیکی غلطی قرار دے کر آگے بڑھ جائے۔سوال یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کے نام کے ہجے میں معمولی فرق ہو تو اس کا ووٹ ختم ہو جاتا ہے لیکن اگر کسی شدت پسند ہندو تنظیم کا کارکن کھلے عام نفرت پھیلائے تو اس کے خلاف قانون خاموش کیوں ہو جاتا ہے؟ اگر کسی بزرگ خاتون کے شناختی ریکارڈ میں معمولی غلطی موجود ہو تو اس کی دہائیوں پر محیط شہریت مشکوک ہو جاتی ہے لیکن جب مذہبی بنیادوں پر نفرت کو سیاسی مہم کا حصہ بنایا جاتا ہے تو اسے قوم پرستی کا نام کیوں دیا جاتا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ مودی حکومت کے دور میں بھارت میں جمہوریت کی تعریف تبدیل ہو چکی ہے۔ پہلے جمہوریت کا مطلب اکثریت کی حکومت تھا، اب اکثریت کی بالادستی کو جمہوریت قرار دیا جا رہا ہے۔ پہلے ریاست اقلیتوں کو تحفظ دیتی تھی، اب ان سے اپنی وفاداری کے ثبوت طلب کرتی ہے۔ پہلے ووٹ سیاسی شرکت کا حق تھا، اب یہ ایک ایسا استحقاق بنتا جا رہا ہے جسے حکومت جب چاہے دے اور جب چاہے واپس لے لے۔یہ محض انتخابی بے ضابطگی نہیں بلکہ ایک نظریاتی منصوبے کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔ ہندوتوا کی سیاست کا بنیادی مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ بھارت کی ریاستی شناخت کو ازسرنو تشکیل دینا ہے۔ اس نظریے میں بھارت ایک کثیرالثقافتی اور کثیرالمذہبی معاشرہ نہیں بلکہ ایک ہندو ریاست ہے جہاں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو برابر کے شہری کے بجائے برداشت کیے جانے والے گروہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔اسی سوچ نے “غیر قانونی تارکین وطن” اور اندرونی دشمن” جیسے تصورات کو جنم دیا۔ اسی سوچ نے مسلمانوں کی شہریت کو بار بار سوالیہ نشان بنایا۔ اسی سوچ نے انتخابی عمل کو بھی ایک ایسی جنگ میں تبدیل کر دیا جہاں مخالف سیاسی جماعتوں سے زیادہ ایک مخصوص مذہبی برادری کو شکست دینا اصل مقصد بن گیا۔جمہوریت میں ریاست کی اصل طاقت اس کے ٹینک، میزائل یا فوجی پریڈ نہیں ہوتے بلکہ اس کے شہریوں کا اعتماد ہوتا ہے۔ جب شہری یہ محسوس کرنے لگیں کہ قانون ان کے لیے اور ہے اور اکثریت کے لیے اور، تو ریاست کے ادارے اپنی اخلاقی ساکھ کھونا شروع کر دیتے ہیں۔ بھارت میں آج یہی بحران جنم لے رہا ہے۔ وہاں کے مسلمان صرف اپنے مذہبی تشخص کے باعث شک کی نگاہ سے دیکھے جا رہے ہیں اور ریاستی اداروں کی غیر جانبداری مسلسل سوالات کی زد میں ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی ملک نے اپنے شہریوں کو دیوار سے لگا کر استحکام حاصل نہیں کیا۔
جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کا نظام ٹوٹ گیا، امریکہ میں سیاہ فام شہریوں کے حقوق کی تحریک کامیاب ہوئی اور دنیا کے مختلف حصوں میں امتیازی قوانین بالآخر تاریخ کے کوڑے دان میں جا گرے۔ ریاستیں طاقت کے زور پر خوف تو پیدا کر سکتی ہیں لیکن پائیدار وفاداری حاصل نہیں کر سکتیں۔مودی حکومت شاید یہ سمجھتی ہے کہ انتخابی اعداد و شمار میں ردوبدل، انتظامی اختیارات کا استعمال اور قوم پرستی کے نعروں کی گونج اسے ہمیشہ کے لیے سیاسی برتری دے دے گی، مگر تاریخ کا فیصلہ بیلٹ پیپر سے زیادہ بے رحم ہوتا ہے۔ تاریخ ہمیشہ یہ سوال پوچھتی ہے کہ طاقت رکھنے والوں نے کمزوروں کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔آج بھارت کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ کتنے ووٹر فہرستوں سے خارج ہوئے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اپنے ہی شہریوں پر اعتماد کھو بیٹھی ہے؟ کیا ایک ارب چالیس کروڑ آبادی والے ملک کی ریاست کو اپنے اقتدار کے لیے چند کروڑ ووٹ اتنے خطرناک محسوس ہونے لگے ہیں کہ انہیں خاموش کر دینا ضروری سمجھا جا رہا ہے؟اگر جمہوریت صرف اکثریت کے غلبے کا نام ہے تو پھر دنیا کی بہت سی آمریتیں بھی خود کو جمہوریت کہلانے کا حق رکھتی ہیں۔ لیکن اگر جمہوریت کا مطلب ہر شہری کا برابر کا حق، برابر کی عزت اور برابر کی سیاسی حیثیت ہے تو پھر بھارت کو اپنے آئین کے سامنے دوبارہ کھڑا ہو کر خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ کیا وہ واقعی اس راستے پر چل رہا ہے جس کا وعدہ اس نے اپنی آزادی کے وقت کیا تھا؟مودی سرکار شاید اس حقیقت کو نظرانداز کر سکتی ہے، مگر تاریخ نہیں کرے گی۔ ووٹ چھیننے سے آوازیں خاموش نہیں ہوتیں، فہرستوں سے نام مٹانے سے شناختیں ختم نہیں ہوتیں اور ریاستی طاقت کے بل پر حقائق کو زیادہ دیر تک دفن نہیں رکھا جا سکتا۔ جمہوریت کی اصل طاقت شمولیت میں ہوتی ہے، اخراج میں نہیں۔ جو ریاست اپنے شہریوں کو گنتی سے نکالنا شروع کر دے، وہ ایک دن خود تاریخ کی گنتی سے بھی نکل جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں