بے گھر کشمیریوں کا سوال، دنیا کب جواب دے گی؟+
ہر سال عالمی یومِ مہاجرین دنیا کو ان کروڑوں انسانوں کی یاد دلاتا ہے جو جنگوں، قبضوں، سیاسی تنازعات اور ریاستی جبر کے باعث اپنے گھروں سے محروم ہوئے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں بے گھر افراد کی اپنی اپنی
ہر سال عالمی یومِ مہاجرین دنیا کو ان کروڑوں انسانوں کی یاد دلاتا ہے جو جنگوں، قبضوں، سیاسی تنازعات اور ریاستی جبر کے باعث اپنے گھروں سے محروم ہوئے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں بے گھر افراد کی اپنی اپنی
بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں رونما ہونے والے واقعات اس دعوے پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف بڑھتی
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم، سخت پابندیوں اور مسلسل دبائو کے باوجود کشمیری عوام کے دلوں میں پاکستان کے لیے محبت اور وابستگی برقرار ہے، جس کا اظہار ایک بار پھر سوشل میڈیا پر
بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور ایک سیکولر ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن وقتاً فوقتاً سامنے آنے والے واقعات اس دعوے کی حقیقت پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ ریاست کرناٹک میں حجاب
عالمی سیاست میں طاقتور ریاستیں اکثر اپنے مفادات کے تحفظ کے نام پر ایسے اقدامات کرتی ہیں جنہیں بعد ازاں قومی سلامتی، انسداد دہشت گردی یا داخلی استحکام کے خوشنما عنوانات کے پیچھے چھپا دیا جاتا ہے۔ تاہم بعض اوقات
(گزشتہ سے پیوستہ) لیکن معاملہ صرف کشمیر تک محدود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج پورے بھارت میں مسلمان اسی خوف، امتیاز اور جبر کا شکار ہیں جس کا سامنا کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے کر رہے ہیں۔ ہندوتوا
بھارت آج جس راستے پر چل پڑا ہے، وہ صرف ایک ملک کی سیاسی تبدیلی کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسی خطرناک فسطائی سوچ کا عروج ہے جو جمہوریت، سیکولرازم، مذہبی آزادی اور انسانی مساوات کے تمام دعوؤں کو روندتی
اے میرے اہلِ کشمیر! اے میرے بیس کیمپ کے مکینو! اے حریت کے نام پر نسلوں سے قربانیاں دینے والو، ذرا رک کر سوچو۔ سازشوں کے جال میں اس طرح نہ الجھ جانا کہ وقتِ عصر روزہ ہی توڑ بیٹھو۔
خاندان کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ہوتا ہے۔ دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں خاندان کو تحفظ، محبت، اعتماد اور سماجی استحکام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ نے بھی خاندان کی اہمیت کو
اے وادیٔ کشمیر! اے زخموں کی سرزمین! تیرے سینے پر لگنے والے یہ گہرے زخم کبھی بھرنے کا نام نہیں لیتے۔ تیس سال بیت گئےمگرجب بھی مئی کی وہ تاریک اورالمناک راتیں یادآتی ہیں توچرار شریف کی ہوا میں اب