لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
بھارت آج جس راستے پر چل پڑا ہے، وہ صرف ایک ملک کی سیاسی تبدیلی کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسی خطرناک فسطائی سوچ کا عروج ہے جو جمہوریت، سیکولرازم، مذہبی آزادی اور انسانی مساوات کے تمام دعوؤں کو روندتی
بھارت آج جس راستے پر چل پڑا ہے، وہ صرف ایک ملک کی سیاسی تبدیلی کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسی خطرناک فسطائی سوچ کا عروج ہے جو جمہوریت، سیکولرازم، مذہبی آزادی اور انسانی مساوات کے تمام دعوؤں کو روندتی
اے میرے اہلِ کشمیر! اے میرے بیس کیمپ کے مکینو! اے حریت کے نام پر نسلوں سے قربانیاں دینے والو، ذرا رک کر سوچو۔ سازشوں کے جال میں اس طرح نہ الجھ جانا کہ وقتِ عصر روزہ ہی توڑ بیٹھو۔
خاندان کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ہوتا ہے۔ دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں خاندان کو تحفظ، محبت، اعتماد اور سماجی استحکام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ نے بھی خاندان کی اہمیت کو
اے وادیٔ کشمیر! اے زخموں کی سرزمین! تیرے سینے پر لگنے والے یہ گہرے زخم کبھی بھرنے کا نام نہیں لیتے۔ تیس سال بیت گئےمگرجب بھی مئی کی وہ تاریک اورالمناک راتیں یادآتی ہیں توچرار شریف کی ہوا میں اب
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاست آج پورے بھارت کو خوف، نفرت اور عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔ ہندوتوا نظریے کے نام پر جو سیاست گزشتہ چند برسوں میں بھارت پر
22اپریل 2025 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام بیسرن پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ اس عرصے کے دوران یہ معاملہ نہ صرف خطے کی سیاست بلکہ پاک بھارت تعلقات میں
جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی واقعات کی نوعیت گزشتہ ایک دہائی میں واضح طور پر تبدیل ہوئی ہے۔ اب یہ محض حادثات یا روایتی نوعیت کے حملے نہیں رہے بلکہ ایک وسیع تر سیاسی اور بیانیاتی کھیل کا حصہ بنتے جا
جب تاریخِ ظلم کے صفحات کھلتے ہیں تو ان پر سب سے گہرے داغ وہ ہوتے ہیں جو آزادی کی آواز کو خاموش کرنے کے لیے لگائے جاتے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر آج بھی ایک ایسا کھلا زخم ہے
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی تازہ رپورٹ نے ایک دل دہلا دینے والا اعلان کیا ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری عسکری کشیدگی، جو اب عالمی سطح پر ایک آگ کی صورت اختیار کر چکی ہے، بھارت جیسے ترقی
یہ ڈیجیٹل دور کا سب سے گھناؤنا جرم ہے کہ ایک ملک، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا جھوٹا تاج پہنتا پھرتا ہے، دراصل انٹرنیٹ کا قاتل بن چکا ہے۔ بھارت نے انٹرنیٹ کو ایک خونریز