مودی تباہی کا دیوتا
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاست آج پورے بھارت کو خوف، نفرت اور عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔ ہندوتوا نظریے کے نام پر جو سیاست گزشتہ چند برسوں میں بھارت پر
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاست آج پورے بھارت کو خوف، نفرت اور عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔ ہندوتوا نظریے کے نام پر جو سیاست گزشتہ چند برسوں میں بھارت پر
22اپریل 2025 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام بیسرن پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ اس عرصے کے دوران یہ معاملہ نہ صرف خطے کی سیاست بلکہ پاک بھارت تعلقات میں
جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی واقعات کی نوعیت گزشتہ ایک دہائی میں واضح طور پر تبدیل ہوئی ہے۔ اب یہ محض حادثات یا روایتی نوعیت کے حملے نہیں رہے بلکہ ایک وسیع تر سیاسی اور بیانیاتی کھیل کا حصہ بنتے جا
جب تاریخِ ظلم کے صفحات کھلتے ہیں تو ان پر سب سے گہرے داغ وہ ہوتے ہیں جو آزادی کی آواز کو خاموش کرنے کے لیے لگائے جاتے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر آج بھی ایک ایسا کھلا زخم ہے
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی تازہ رپورٹ نے ایک دل دہلا دینے والا اعلان کیا ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری عسکری کشیدگی، جو اب عالمی سطح پر ایک آگ کی صورت اختیار کر چکی ہے، بھارت جیسے ترقی
یہ ڈیجیٹل دور کا سب سے گھناؤنا جرم ہے کہ ایک ملک، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا جھوٹا تاج پہنتا پھرتا ہے، دراصل انٹرنیٹ کا قاتل بن چکا ہے۔ بھارت نے انٹرنیٹ کو ایک خونریز
اسلام آباد امن مذاکرات نے بھارت میں مودی حکومت کا جنازہ نکال دیا ہے اور کشمیری نہال ہورہے ہیں، کئی کشمیری شہری بھارتی تسلط کو نظر انداز کرتے ہوئے ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر رہے ہیں ، جن
(گزشتہ سےپیوستہ) ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی اس فالس فلیگ منصوبہ بندی کا مقصد صرف پاکستان پر الزام عائد کرنا نہیں تھا بلکہ عالمی اداروں، میڈیا اور دیگر ممالک کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان خطے میں
کوٹیلہ چانکیہ کی سازشی پالیسیوں کا اسیر مودی کا بھارت پورے خطے بلکہ عالمی امن کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے ، اسرائیئل کے بعد یہ واحد ملک ہے ، جو دہشت گردی کو ریاستی پالییس کے طور پر
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں آئمہ کرام اور مساجد کی پولیس پروفائلنگ کی رپورٹنگ پر صحافیوں کی تھانو ں میں طلبی کی مقامی اور بین الااقوامی صحافتی تنظیموں کی طرف سے بھر پور مذمت کی جا