Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

پہلگام: ایک فالس فلیگ

جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی واقعات کی نوعیت گزشتہ ایک دہائی میں واضح طور پر تبدیل ہوئی ہے۔ اب یہ محض حادثات یا روایتی نوعیت کے حملے نہیں رہے بلکہ ایک وسیع تر سیاسی اور بیانیاتی کھیل کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ پہلگام کا واقعہ اسی بدلتی ہوئی حقیقت کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آیا، جہاں ایک سانحے کو فوری طور پر ایک مخصوص رخ دے کر نہ صرف پاکستان کے خلاف استعمال کیا گیا بلکہ داخلی سطح پر بھی اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔پہلگام میں پیش آنے والا واقعہ شروع ہی سے کئی سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ سب سے پہلے وہ غیر معمولی رفتار جس کے ساتھ ذمہ داری کا تعین کیا گیا۔ عام طور پر اس نوعیت کے واقعات میں تفتیشی عمل دنوں یا ہفتوں پر محیط ہوتا ہے، مگر یہاں چند گھنٹوں کے اندر اندر نہ صرف ملزمان کا تعین ہو گیا بلکہ پورے ملک میں ایک منظم بیانیہ بھی پھیلایا گیا۔ یہ عجلت محض انتظامی کارکردگی نہیں بلکہ ایک پہلے سے تیار شدہ حکمت عملی کا تاثر دیتی ہے۔اس واقعے کا سب سے اہم اور متنازع پہلو سیکیورٹی انتظامات میں اچانک اور غیر معمولی خلا ہے۔ جس علاقے تک عام شہریوں کو پہنچنے کے لیے سخت ترین چیکنگ سے گزرنا پڑتا تھا، وہاں حملے کے روز سیکیورٹی کا اچانک غائب ہونا ایک بنیادی سوال ہے۔ اگر وہی نظام جو روزانہ معمول کے مطابق کام کر رہا تھا، عین اس دن غیر مؤثر ہو جائے تو اسے محض اتفاق قرار دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ یا تو سنگین غفلت ہوئی یا پھر جان بوجھ کر خلا پیدا کیا گیا۔مزید حیران کن بات یہ ہے کہ حملہ ایک طویل وقت تک جاری رہا مگر قریبی سیکیورٹی اداروں کی بروقت مداخلت دیکھنے میں نہیں آئی۔ اگر قریب ہی فوجی اور پولیس تنصیبات موجود تھیں تو ردعمل میں تاخیر کیوں ہوئی؟ یہ سوال محض تکنیکی نہیں بلکہ پورے واقعے کی نوعیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
واقعے کے فوراً بعد جو ردعمل سامنے آیا، وہ بھی غیر معمولی شدت کا حامل تھا۔ وادی بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، سینکڑوں افراد کی گرفتاریاں، اور گھروں کی مسماری نے اس تاثر کو مزید تقویت دی کہ اصل مقصد صرف ذمہ داران تک پہنچنا نہیں بلکہ ایک وسیع تر پیغام دینا تھا۔ اس طرز عمل میں سزا اور شواہد کے درمیان توازن نظر نہیں آتا، جو خود انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔پہلگام کے بعد سب سے اہم محاذ میڈیا کا تھا۔ بھارتی میڈیا نے بغیر کسی قابلِ تصدیق شواہد کے فوری طور پر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا اور اس بیانیے کو اس شدت سے پھیلایا کہ متبادل آراء کے لیے جگہ تقریباً ختم ہو گئی۔ یہ وہی طرز عمل ہے جس میں میڈیا محض خبر دینے والا ادارہ نہیں رہتا بلکہ ایک فعال سیاسی کردار ادا کرتا ہے۔یہ تمام عوامل مل کر اس تاثر کو جنم دیتے ہیں کہ پہلگام کا واقعہ محض ایک سیکیورٹی ناکامی نہیں بلکہ ایک “فالس فلیگ” جیسے خدشات کو تقویت دیتا ہے۔ یعنی ایسا واقعہ جسے اس انداز میں استعمال کیا جائے کہ اس کا الزام کسی بیرونی فریق پر ڈال کر سیاسی اور سفارتی مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔ اس طرح کے خدشات محض جذباتی ردعمل نہیں بلکہ ان تضادات سے جڑے ہیں جو اس واقعے کے ہر مرحلے میں نظر آتے ہیں۔مزید اہم پہلو سیاسی وقت بندی ہے۔ جنوبی ایشیا کی تاریخ میں بارہا یہ دیکھا گیا ہے کہ سیکیورٹی بحران ایسے اوقات میں سامنے آتے ہیں جب سیاسی ماحول کو کسی بڑے بیانیے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس تناظر میں پہلگام کو دیکھیں تو یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ آیا یہ محض اتفاق تھا یا ایک سوچا سمجھا مرحلہ۔پہلگام کے بعد بھارت کی جانب سے کیے گئے اقدامات نے بھی اس تاثر کو مضبوط کیا کہ واقعے کو ایک وسیع تر حکمت عملی کے تحت استعمال کیا گیا۔ سفارتی سطح پر کشیدگی میں اضافہ، سرحدی حالات کا بگاڑ، اور پانی جیسے حساس معاملے کو بھی تنازع میں شامل کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک واقعے کو کئی محاذوں پر استعمال کیا گیا۔پانی کے معاملے کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا خاص طور پر تشویشناک ہے۔ سندھ طاس معاہدہ جیسے انتظامات دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان ایک مستحکم فریم ورک فراہم کرتے رہے ہیں۔ اگر ایسے معاہدوں کو بھی وقتی سیاسی فائدے کے لیے چیلنج کیا جائے تو اس کے اثرات نہ صرف ریاستی سطح پر بلکہ عام لوگوں کی زندگیوں پر بھی پڑتے ہیں۔اس پورے معاملے میں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے، اور وہ ہے داخلی اختلافی آوازوں کا دباؤ میں آنا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے امن کی بنیاد صرف طاقت نہیں بلکہ سچ، شفافیت اور ذمہ داری پر قائم ہوتی ہے۔ جب تک یہ اصول نظرانداز کیے جاتے رہیں گے، پہلگام جیسے واقعات صرف تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ مستقبل کا خطرہ بھی بنے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں