Search
Close this search box.
جمعرات ,16 جولائی ,2026ء

قبائلیوں کو نشانہ بنانا گویا ایک خاموش حکمت عملی

بھارت کی سرزمین پر ایک بار پھر نسلی اور قبائلی تناؤ کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔ شمال مشرقی ریاست منی پور، جو قدرتی حسن اور ثقافتی رنگا رنگی کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا، آج مسلسل تین سال سے تشدد کی بھٹی میں جل رہا ہے۔ مئی 2023 سے شروع ہونے والے میتی اور کوکی قبائل کے درمیان اس خونریز تصادم نے سینکڑوں معصوم جانوں کو نگل لیا ہے۔ اعداد و شمار خوفناک ہیں: دو سو ساٹھ سے زائد اموات، ساٹھ ہزار سے زیادہ بے گھر، سیکڑوں دیہات اجڑے ہوئے، گھر جلائے گئے اور خواتین پر ہولناک جنسی تشدد کے واقعات۔ کوکی خواتین جب احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلیں تو لاٹھی چارج، آنسو گیس اور طاقت کے وحشیانہ استعمال کا سامنا کرنا پڑا۔ کسانوں کی ٹارگٹ کلنگ جاری ہے، آگ زنی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لیتا۔
یہ منظر نامہ صرف ایک ریاستی بحران نہیں، بلکہ انسانی ہمدردی کا سوال ہے۔ جہاں ایک طرف قبائلی برادریاں اپنی شناخت، زمین کے لیے لڑ رہی ہیں، وہاں مرکزی حکومت کی خاموشی اور ریاستی انتظامیہ کی مبینہ جانبداری نے زخموں کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت پر الزام ہے کہ وہ میتی مسلح گروہوں کی طرف جھکاؤ رکھتے ہوئے کوکی برادری کو منظم طور پر نظر انداز کر رہی ہے۔ تین سال گزرنے کے باوجود وعدوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔ بے گھر لوگوں کی آہ و بکا، اجڑے دیہاتوں کی ویرانی اور روزانہ ہونے والی ہلاکتوں کے باوجود دہلی کی گلیاروں میں کوئی ہلچل نہیں۔ یہ خاموشی نہ صرف سیاسی ہے بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی عکاسی کرتی ہے۔
منی پور کا درد صرف مقامی نہیں، یہ بھارت کی کثیر الثقافتی fabric کے لیے چیلنج ہے۔ جب قبائلی خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، بچوں کو یتیم کیا جاتا ہے اور پوری برادریاں بے گھر ہو جاتی ہیں تو حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ impartial طور پر مداخلت کرے۔ مگر بدقسمتی سے، ووٹ بینک کی سیاست نے یہاں بھی اپنا سیاہ سایہ ڈال رکھا ہے۔ کوکی قبائل کا کہنا ہے کہ انہیں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے جبکہ میتی کمیونٹی کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ الزامات اگر درست ہوں تو یہ نسل پرستی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو کسی بھی جمہوری ملک کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔
اس آگ کے شعلوں کے ساتھ ہی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو پنجاب کا زخم تازہ ہو جاتا ہے۔ 1984 کے سیاہ دن، جب اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھ برادری پر منظم قتل عام ہوا۔ ہزاروں سکھ بے گناہ جلا دیے گئے، عورتیں بے آبرو کی گئیں اور گھر لوٹ لیے گئے۔ سرکاری اعداد و شمار تو ہزاروں کی بات کرتے ہیں مگر حقیقت کہیں زیادہ تلخ تھی۔ اس کے بعد خالصتان تحریک کے دوران پنجاب میں جبری گمشدگیاں، حراستی تشدد اور ماورائے عدالت قتلوں کا سلسلہ چلا۔ انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا نے شمشان گھاٹوں کے ریکارڈ دیکھ کر ہزاروں لاپتہ افراد کی کہانی سامنے لائی۔ ان کی تحقیقات کے مطابق ہزاروں لاشیں خفیہ طور پر جلائی گئیں۔ 1995 میں کھالڑا خود بھی اسی نظام کا شکار ہو گئے۔
اب جب فلم “ستلج” (سابقہ پنجاب 95) نے ان زخموں کو دوبارہ چھیڑا تو حکومت نے سنسر بورڈ کے ذریعے تین سال روکے رکھا، 130 سے زائد ترامیم کا مطالبہ کیا اور آخر کار OTT پلیٹ فارم سے ہٹا دیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ 1984 اور پنجاب کے سیاہ باب کو مٹانے کی کوشش ہے۔ سکھ برادری آج بھی دنیا بھر کے گردواروں میں احتجاج کر رہی ہے۔ لندن، نیویارک، ٹورنٹو اور پنجاب میں فلم کی نمائش جاری ہے کیونکہ یادداشتیں دبی نہیں جا سکتیں۔ پچیس ہزار کے قریب سکھوں کی ہلاکت اور ان کی خفیہ تدفین کے شواہد کو دبانا متاثرین کی اجتماعی یادداشت پر حملہ ہے۔
مودی حکومت کے دور میں یہ دونوں واقعات ایک پیٹرن کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایک طرف منی پور میں نسلی آگ کو بھڑکنے دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف ماضی کے قتل عام کے شواہد کو دفن کرنے کی کوشش۔ مخالف آوازوں، اقلیتوں اور قبائلیوں کو نشانہ بنانا گویا ایک خاموش حکمت عملی بن چکا ہے۔ جہاں منی پور کی خواتین لاٹھیوں اور آنسو گیس کا شکار ہو رہی ہیں، وہاں پنجاب کی تاریخ کو سنسر کیا جا رہا ہے۔ یہ جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔
ادب کی زبان میں کہیں تو یہ “خاموش تماشائی” کی کہانی ہے۔ جہاں حکومت کو قوم کی آواز سننی چاہیے تھی، وہاں وہ اپنے سیاسی مفادات کی حفاظت میں مصروف ہے۔ منی پور کی ویران گلیوں میں بلکتی مائیں، پنجاب کے شمشانوں میں گمشدہ یادوں کی تلاش اور سکھ برادری کا عالمی احتجاج — یہ سب مل کر ایک سوال اٹھاتے ہیں: کیا بھارت واقعی سب کا ساتھ، سب کا وکاس کا نعرہ صرف انتخابی جلسوں تک محدود ہے؟
تشدد کی مذمت ہر شکل میں ضروری ہے۔ قبائلی تنازعات کو سیاسی رنگ دے کر حل نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو فوری طور پر impartial انکوائری، متاثرین کی بحالی، بے گھر افراد کی واپسی اور امن کمیٹیوں کا قیام کرنا چاہیے۔ پنجاب میں بھی تاریخی انصاف کے لیے شفاف تحقیقات ہونی چاہییں۔ سنسرشپ سے زخم نہیں بھرتے، بلکہ انہیں مزید پیپ دار بنا دیتے ہیں۔
بھارت جیسا عظیم ملک، جو democracy کی مثال بننا چاہتا ہے، کو اندرونی تقسیم کی بجائے اتحاد کی طرف بڑھنا ہوگا۔ منی پور جل رہا ہے تو اس کی آگ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ تاریخ کے سبق بھولنے والے مستقبل کے اندھیروں میں جا کر کھو جاتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ خاموشی توڑی جائے، انصاف دیا جائے اور انسانی جانوں کی قدر کی جائے۔ تب ہی یہ زخم بھر سکیں گے، ورنہ آگ پھیلتی رہے گی اور راکھ کے سوا کچھ نہ بچے گا۔

یہ بھی پڑھیں