پھونکوں سے یہ چراغ بھجایا نہ جائے گا
تحریک آزادی کشمیر کی مقامی نوعیت کو مسخ کرنے کے لئے بھارتی فوج اور پولیس نے مقامی کشمیری نوجوانوں کوغیر ملکی عسکریت پسند قرار دے کر اور عوامی مقامات پر ان کے پوسٹر چسپاں کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر میں
تحریک آزادی کشمیر کی مقامی نوعیت کو مسخ کرنے کے لئے بھارتی فوج اور پولیس نے مقامی کشمیری نوجوانوں کوغیر ملکی عسکریت پسند قرار دے کر اور عوامی مقامات پر ان کے پوسٹر چسپاں کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر میں
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں صحافت کی آزادی ایک بار پھر شدید دباؤ کی زد میں ہے۔ حالیہ دنوں میں آئمہ کرام اور مساجد کی پولیس پروفائلنگ سے متعلق رپورٹس شائع کرنے والے صحافیوں کو
مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ، ناجائز، غیر قانونی اور غیر اخلاقی قبضہ آج بھی جاری ہے، مگر اسے ختم کرانے کی جدوجہد آزادی میں لاکھوں کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ ان خونِ شہیدوں کی بدولت ہی یہ
مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات ایک بار پھر اس سمت جا رہے ہیں جہاں تسلط کی ایک نئی کہانی رقم کی جا رہی ہے ۔ الجزیرہ کی حالیہ رپورٹ نے ایک ایسے عمل کو بے نقاب کیا ہے جس
یومِ یکجہتی کشمیر ہر سال 5 فروری کو پاکستان میں اس عزم کی تجدید کے طور پر منایا جاتا ہے کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ یہ دن محض ایک علامتی اظہار نہیں بلکہ
بی جے پی حکومت کی طرف سے5 اگست 2019 کو بندوق کی نوک پر دفعہ 370 اور 35A کی غیر قانونی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور مظالم میں خطرناک حد تک اضافہ
بھارت میں مہلک نیپاہ وائرس کے تصدیق شدہ کیسز سامنے آنے کے بعد ایشیا کے متعدد ممالک نے احتیاطی اقدامات سخت کر دیے ہیں اور ہوائی اڈوں پر اسکریننگ اور نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ خطے میں وائرس کے پھیلا
کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریآج 26 جنوری کو بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منارہے ہیں جس کا مقصدعالمی برادری کوباورکرانا ہے کہ بھارت کشمیریوںکو ان کا ناقابل تنسیخ حق،
پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے فیصلے نے پاکستان کی آبی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لئے ایک غیر معمولی بحران پیدا کردیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے
حقوقِ انسانی کے مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں ایک بار پھر وسیع دہشت گردی کے کالے قوانین اور مبہم الزامات کے ذریعے مسلمانوں کو بدنام کرنے اور آن لائن اظہارِ رائے کو جرم قرار دینے کی پالیسی پر