Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

5فروری ۔یوم تجدید عہد

یومِ یکجہتی کشمیر ہر سال 5 فروری کو پاکستان میں اس عزم کی تجدید کے طور پر منایا جاتا ہے کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ یہ دن محض ایک علامتی اظہار نہیں بلکہ ایک طویل سیاسی تنازع، انسانی حقوق کے سوالات اور خطے کے امن سے جڑی حقیقتوں کی یاد دہانی بھی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس دن کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ بدلتے حالات نے اسے مزید حساس اور بامعنی بنا دیا ہے۔مسئلہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کے وقت سے موجود ہے۔ 1947 کے بعد سے یہ خطہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا بنیادی سبب رہا ہے۔ جنگیں بھی ہوئیں، سرحدی جھڑپیں بھی اور سفارتی محاذ آرائی بھی، مگر بنیادی سیاسی مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیری عوام کو رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینے کی بات کی گئی، لیکن عملی پیش رفت نہ ہونے کے باعث یہ مسئلہ آج بھی جوں کا توں کھڑا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی کی بڑی اکثریت مسلمان ہے، خاص طور پر وادی کشمیر میں۔ اس خطے کی سیاست ہمیشہ شناخت، خودمختاری اور حقوق کے گرد گھومتی رہی ہے۔ مختلف ادوار میں وہاں احتجاجی تحریکیں اٹھتی رہی ہیں جن میں سیاسی جماعتیں، سماجی گروہ اور نوجوان شامل رہے۔ بعض ادوار میں حالات پرتشدد بھی ہوئے جس سے جانی نقصان اور انسانی المیے جنم لیتے رہے۔ اس صورت حال نے نہ صرف مقامی آبادی کو متاثر کیا بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن کو بھی خطرے میں رکھا۔
گزشتہ دہائی میں سوشل میڈیا کے بڑھتے اثر نے کشمیر کے نوجوانوں کی سوچ اور اظہار کے طریقے کو بدل دیا۔ کئی نوجوان چہروں نے مزاحمت کی علامت کے طور پر شہرت حاصل کی۔ ان میں بعض ایسے بھی تھے جن کی شہادت کے بعد وادی میں بڑے پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں آیا۔ ان واقعات نے ثابت کیا کہ کشمیر کا مسئلہ محض سرحدی تنازع نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی اور نفسیاتی مسئلہ بن چکا ہے جس میں نئی نسل بھی خود کو براہ راست فریق سمجھتی ہے۔بھارتی حکومت کی جانب سے سکیورٹی پالیسیوں میں سختی، کرفیو، مواصلاتی بندشیں اور بڑے پیمانے پر فوجی موجودگی نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ دوسری طرف بھارت کا مؤقف یہ رہا ہے کہ وہ بدامنی اور مسلح سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ مگر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں بارہا اس بات پر تشویش ظاہر کر چکی ہیں کہ طاقت کے استعمال سے عام شہری بھی متاثر ہوتے ہیں، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔2019 میں بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی ایک بڑا موڑ تھا۔ اس فیصلے سے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی گئی اور اسے براہ راست وفاقی کنٹرول میں لے لیا گیا۔ پاکستان نے اس اقدام کو یکطرفہ اور متنازع قرار دیا جبکہ وادی کے اندر بھی اس پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ طویل لاک ڈاؤن اور انٹرنیٹ بندشوں نے معیشت، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو نقصان پہنچایا۔ مقامی کاروباری حلقوں نے اربوں روپے کے نقصان کی نشاندہی کی۔
کشمیر میں طاقت کے استعمال کے طریقوں پر بھی بحث رہی ہے، خاص طور پر پیلٹ گنز کے استعمال پر۔ متعدد رپورٹس میں بتایا گیا کہ ان ہتھیاروں سے آنکھوں کی بینائی متاثر ہونے کے واقعات پیش آئے۔ بچوں اور نوجوانوں کے زخمی ہونے کی تصاویر عالمی میڈیا میں آئیں جس سے مسئلہ انسانی ہمدردی کے زاویے سے بھی اجاگر ہوا۔ یہ سوال آج بھی موجود ہے کہ سکیورٹی اور انسانی حقوق کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔پاکستان میں 5 فروری کو ریلیاں، سیمینار اور انسانی زنجیریں بنا کر کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کیا جاتا ہے۔ یہ سرگرمیاں عوامی سطح پر حمایت کا اظہار ہیں، لیکن اصل چیلنج سفارتی میدان میں ہے۔ کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں اٹھانا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینا اور عالمی رائے عامہ کو متوجہ کرنا زیادہ دیرپا حکمت عملی سمجھی جاتی ہے۔ صرف جذباتی بیانات کافی نہیں، منظم سفارتکاری ضروری ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ جنوبی ایشیا کے دو ایٹمی ممالک کے درمیان یہ تنازع عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ سیاچین، کارگل اور لائن آف کنٹرول پر وقفے وقفے سے کشیدگی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ معمولی واقعہ بھی بڑے بحران میں بدل سکتا ہے۔ اس لیے مسئلہ کشمیر کا حل صرف کشمیریوں ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔
کشمیر کے تناظر میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہاں کی نئی نسل کا مستقبل کیا ہوگا۔ مسلسل غیر یقینی صورت حال، تعلیم اور روزگار کے مواقع میں رکاوٹیں اور سیاسی بے اعتمادی نوجوانوں میں مایوسی پیدا کرتی ہیں۔ اگر سیاسی عمل، مکالمہ اور اعتماد سازی کے اقدامات نہ ہوئے تو یہ خلا مزید بڑھے گا۔یومِ یکجہتی کشمیر کا اصل پیغام یہی ہونا چاہیے کہ مسئلے کا حل طاقت نہیں بلکہ بات چیت، انصاف اور عوامی خواہشات کے احترام میں ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدہ سفارتی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھائے۔ ساتھ ہی یہ بھی اہم ہے کہ کشمیری عوام کی آواز خود ان کی زبان میں عالمی فورمز تک پہنچے۔دنیا نے دیکھا ہے کہ دیرینہ تنازعات بالآخر مذاکرات ہی سے حل ہوئے ہیں۔ فلسطین اور کشمیر جیسے مسائل اسی وقت آگے بڑھ سکتے ہیں جب فریقین سیاسی جرات کا مظاہرہ کریں۔ کشمیری عوام کی مشکلات کو نظرانداز کرنا مسئلے کو ختم نہیں کرتا بلکہ اسے مزید پیچیدہ بناتا ہے۔5 فروری ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کا سوال ہے۔ یکجہتی کا تقاضا یہ ہے کہ جذبات کے ساتھ ساتھ حکمت، صبر اور سنجیدہ سفارتی کوششیں بھی جاری رکھی جائیں۔ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب انصاف کو بنیاد بنایا جائے اور کشمیری عوام کو ایک باعزت سیاسی حل کی امید ملے۔

یہ بھی پڑھیں