آج کی دنیا میں جہاں انسان عقیدے، ثقافت اور رویوں کی بنیاد پر تقسیم ہو چکا ہے، وہاں ایک ایسی بنیادی سچائی بھی موجود ہے جو پوری بنی نوع انسان کو ایک لڑی میں پروتی ہے۔ مٹی سے ہمارا قالب ڈھالنے، ہمیں گوشت پوست کا لباس پہنانے اور اس مادی دنیا میں بھیجنے سے بہت پہلے، ہر انسانی روح ایک خالص روحانی حالت میں موجود تھی۔ اس نورانی عالم میں ایک ایسا مقدس اور عالمگیر واقعہ پیش آیا جو ہماری اصل شناخت کا تعین کرتا ہے اور ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے۔عہدِ الست، الست بِربِکم اس ابدی حقیقت کا ذکر قرآنِ کریم کی سورہ الاعراف (آیت 172) میں نہایت خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے بھی پہلے، رب ذوالجلال نے کائنات کے آغاز سے لے کر قیامت تک آنے والی تمام انسانی روحوں کو ایک جگہ جمع کیا۔ اس عظیم الشان خدائی اجتماع میں، کائنات کے مالک نے انسانیت کی اجتماعی روح سے ایک گہرا اور انقلابی سوال پوچھا ’’کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟‘‘ ُالست بِربِکم؟) تمام روحوں نے بلا جھجھک یک زبان ہو کر جواب دیا۔’’کیوں نہیں، ہم سب اس کی گواہی دیتے ہیں‘‘( قالوا بلی)اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے، کائنات کا ہر انسان اس ایک وحدہ لاشریک رب پر یقین رکھنے والا ہے۔ ہم سب اس مادی دنیا میں آنے سے پہلے خدا کی بارگاہ میں کھڑے ہو چکے ہیں، اس کی ربوبیت کا مشاہدہ کر چکے ہیں اور اس سے وفاداری کا عہد کر چکے ہیں۔ اب اس مختصر دنیوی زندگی میں کوئی شخص چاہے کسی بھی راستے کا انتخاب کرے یا اس کا کوئی بھی عقیدہ ہو، اس کی روح کی گہرائی میں اس ازلی عہد کی مہر لگی ہوئی ہے۔
اشرف المخلوقات اور احترامِ انسانیت کا فریضہ اسی مقدس آغاز کی بدولت، باری تعالیٰ نے انسان کو کائنات میں سب سے بلند روحانی مرتبہ عطا کیا۔ قرآنِ پاک میں واشگاف الفاظ میں اعلان کیا گیا ہے کہ بنی آدم کو معزز اور مکرم بنایا گیا ہے، جس سے انسان کائنات کا تاج (اشرف المخلوقات)قرار پاتا ہے۔جب خود خالقِ کائنات نے ہر انسانی روح کو یہ ذاتی عزت اور وقار بخشا ہے، تو ہمارے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اس کی توہین کریں؟ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم ہر انسان کا احترام کریں، قطع نظر اس کے کہ اس کا موجودہ رویہ، عقیدہ یا خامیاں کیا ہیں۔ جب ہم کسی دوسرے انسان کو دیکھیں، تو ہمیں اس کے ظاہری دنیاوی رویے سے بالاتر ہو کر اس کی اس پاکیزہ روح کو دیکھنا چاہیے جس نے کبھی خدا کے سامنے کھڑے ہو کر ’’ہاں‘‘کہا تھا۔ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے:
ہم جج(منصف)نہیں ہیں، انسانوں پر فیصلہ کرنے کا اختیار صرف اور صرف اللہ رب العالمین کا ہے۔ وہی خالق ہے، وہی مالک ہے اور وہی سب کے معاملات کا حساب لینے والا ہے۔ کسی دوسرے انسان کے ایمان یا عمل پر حتمی فیصلہ صادر کرنا، دراصل اس خدائی اختیار میں مداخلت کے مترادف ہے جو صرف اللہ کا حق ہے۔
ہمیں سخت مزاج نہیں ہونا چاہیے، سچا ایمان کبھی بھی تکبر، تلخی یا خود پسندی کا نام نہیں ہے۔ چونکہہر انسان اسی ایک رب کی تخلیق ہے، اس لئے کسی بھی انسان کی تذلیل کرنا دراصل اس خالق کی تخلیق اور کاریگری کی توہین ہے۔نرم کلامی کا الٰہی حکم ہمارے لئے دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور شفقت کا مظاہرہ کرنا اس بات پر مشروط نہیں ہے کہ دوسرے ہمارے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں یا ان کا عقیدہ کیا ہے۔ قرآنِ مجید ہمیں واضح طور پر ہدایت دیتا ہے کہ تمام انسانوں کے ساتھ گفتگو میں اخلاق اور نرمی کا اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھیں، خواہ ان کے الفاظ، اعمال یا رویے کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ اس خدائی معیار کی سب سے بڑی مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے میں ملتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی اور حضرت ہارون علیہما السلام کو فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا، تو وہ ایک ایسے سرکش جابر سے مخاطب ہو رہے تھے جو ظلم کی انتہا کو پہنچ چکا تھا اور جس نے نمرودیت کی حد پار کرتے ہوئے یہ دعوی ٰکیا تھا کہ ’’میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں‘‘ اس کے باوجود، ذرا غور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو اس سرکش بادشاہ کے پاس بھیجتے وقت کیا ہدایت دی۔’’تم دونوں فرعون کے پاس جا، بیشک وہ سرکش ہو گیا ہے۔ پس تم اس سے نرمی سے بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کر لے یا(اپنے انجام سے)ڈر جائے۔‘‘ (سورہ طہ، آیات 43-44) اگر خدا کے جلیل القدر پیغمبروں کو ایک ایسے ظالم سے بھی نرمی، شائستگی اور اخلاق کے ساتھ بات کرنے کا حکم تھا جو خود رب ہونے کا دعویٰ کرتا تھا، تو پھر آج ہم میں سے کسی کے لیے یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے کسی ساتھی انسان کے ساتھ سخت، تلخ یا توہین آمیز رویہ اختیار کرے؟
حاصلِ کلام: عہدِ الست اور فروغِ محبت
عہدِ الست ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت ایک ہی خوبصورت روحانی خاندان کا حصہ ہے۔ اسی حقیقت کو شیخ سعدی شیرازی ؒنے یوں بیان فرمایا:
بنی آدم اعضائے یک دیگرند
کہ در آفرینش زیک گوہرند
جبکہ مولانا الطاف حسین حالی ؒ نے اس قرآنی تصور کو یوں پیش کیا:
ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا
وہی دوست ہے خالقِ دو جہاں کا
لہٰذا، ہمارا مقصد دنیا پر فتوے لگانا نہیں، بلکہ الٰہی رحمت کا عکس بننا ہے۔ جب ہم ہر فرد کو بلا تفریق عزت دیتے ہیں، نرمی سے بات کرتے ہیں، اور فیصلے اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں، تو ہم اپنے ازلی عہد کی لاج رکھتے ہیں اور خدا کے اس پورے ’’کنبے‘‘ کے لئے شفقت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
