خواتین کا پاکستانی سیاست میں اہم کردار رہا ہے۔مادرِ ملت فاطمہ جناح سے بے نظیر بھٹو اور اب مریم نواز تک کوئی بھی خواتین کے سیاست میں رول سے انکار نہیں کر سکتا۔موجودہ دور ایسا ہی دور ہے جس میں بہت سی خواتین سیاست میں اپنا کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔فیصلہ سازی ہو، قانون سازی، معاشرتی ترقی یا پھر سیاست ،خواتین کی ان میں شمولیت ناگزیر ہے- ان کی شمولیت سے ناصرف جمہوریت مستحکم ہوتی ہے بلکہ تعلیم، صحت اور فلاح و بہبود جیسے بنیادی مسائل پر بھی مثبت اثرات پڑتے ہیں۔پارلیمنٹ میں خواتین کی موجودگی، صنفی مساوات کے قوانین، ہراسیت کے خاتمے اور خاندانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے- جبکہ فیصلہ سازی میں بھی اعلیٰ حکومتی عہدوں تک خواتین کا جامع کردار ہے جو حکومتی پالیسیاں تشکیل دینے میں مددگار ثابت ہوتا ہے،جس سے معاشرے کے تمام طبقات کی ضروریات پورا ہونے میں مدد ملتی ہے۔اپوزیشن میں بھی خواتین بڑی تعداد میں موجود ہیں جن کا ہمیشہ سے سیاست میں ایک مثبت رول رہا ہے۔ناصرف سیاست میں ہر مقام پر اپنی اہمیت کو اجاگر کیا ہے بلکہ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو خواتین کی سیاسی شرکت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، تاہم کئی روائتی سماجی رکاوٹیں اب بھی ان کی راہ میں حائل ہیں۔ان رکاوٹوں کو دور کرنیکی ضرورت ہے۔جس کے لئے آگاہی مہم اور خواتین کی عملی تربیت انتہائی اہمیت کی حامل ہے-دیگر شعبوں کی طرح سیاست میں بھی پڑھی لکھی خواتین کی شمولیت ہمارے لئے نیک شگون اور خوش بختی کی علامت ہے-14اگست 1947 ء کو آزادی کے بعد سے، خواتین پارلیمانی سیاست میں سرگرم اور اس میں حصہ لیتی رہی ہیں۔اگرچہ ابتدا میں دستور ساز اسمبلیوں میں ان کی نمائندگی کم رہی- تاہم آئین پاکستان میں ترمیم کے بعد ان کی نشستوں میں اضافہ کر دیا گیا2002 ء کے بعد سے، خواتین سیاست دانوں کو وفاق کے ساتھ ساتھ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں بھی نمایاں نمائندگی حاصل ہے۔ اپوزیشن کے بغیر سیاست کسی کام کی نہیں۔حکومت مثبت پالیسیاں بناتی ہے اور سید ھے کام کرتی ہے تو وہ سب اچھے کام اپوزیشن ہی کے مرہون منت ہوتے ہیں۔
موجودہ حکومت میں اگرچہ ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق) اور تحریک استحکام پاکستان شامل ہیں۔تاہم پیپلز پارٹی حکومت کی حمایت کے باوجود حکومت کا حصہ نہیں۔حزب اختلاف میں بھی اگرچہ کئی جماعتیں شامل ہیں- جن میں پی ٹی آئی صف اول کی جماعت ہے جبکہ جمعیت علماء اسلام (ف) عوامی نیشنل پارٹی۔محمود خاں اچکزئی اور اختر مینگل کی پارٹیاں بھی اپوزیشن کا حصہ ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی نے سیاست میں جو بدعملی پھیلائی اور سیاسی کلچر کو بدتہذیبی کے جس دہانے پر پہنچایا، وہ سب کے لئے حشر کا سامان ہے،جو ہو رہا ہے۔کچھ نہ پوچھئے قابل شرم ہے۔بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خاں نے سوشل میڈ یا پر جو گالی گلوچ بریگیڈ چھوڑ رکھا ہے اس نے تہذیب و تمدن ہی نہیں،باقی چیزوں کا بھی ستیاناس کر دیا ہے۔کہا جاتا رہا، علیمہ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،وہ سیاست نہیں کر رہیںلیکن کیا کسی کو شک ہے کہ وہ سیاست میں نہیں اور سیاست نہیں کر رہیں۔ان کے سیاست میں آنے کے بعد پی ٹی آئی کی باقی قیادت پیچھے چلی گئی ہے۔ آن سکرین صرف علیمہ خاں ہیں،جن کا خاندان تین بہنوں اور ایک بھائی پر مشتمل ہے۔ ایک فیمس اور پڑھے لکھے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔والد اکرام اللہ خاں سول انجینئر تھے جبکہ والدہ شوکت خانم گھریلو خاتون تھیں۔ علیمہ کے بھائی عمران خاں کو کرکٹ کے حوالے سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔پاکستان میں بھی اگر اپنی پہچان بنائی تو کرکٹ اور شوکت خانم کے حوالے سے بنائی۔شوکت خانم لاہور میں کینسر کے مریضوں کا ایک بڑ ااور جدید ہسپتال ہے30سال پہلے عمران خاں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا تو پاکستان تحریک انصاف بنائی۔اسی پلیٹ فارم سے اپنی سیاست کا آغاز کیا۔ ابتدا میں چند مخصوص لوگ ان کے ساتھ تھے،پھر کچھ مہربانوں کے باعث قافلہ بنتا گیا۔
تحریک انصاف ایک بڑی جماعت میں تبدیل ہو گئی۔جنرل فیض اور جنرل باجوہ کی مدد سے اقتدار بھی ملا لیکن پونے چار سال کے عرصے میں وقت نے کروٹ بدلی اور خاں صاحب کی حکومت تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں برخاست ہو گئی۔بقول عمران خاں وہ صرف ایک ڈائری کے ساتھ ایوان وزیراعظم سے نکلے،پھر مشکلات میں ایسے گھرے کہ وہ مشکلیں اب تک پیچھا نہیں چھوڑ رہیں۔پچھلے تین برسوں سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں،فیملی ارکان سمیت بعض سرکردہ رہنمائوں کا کہنا ہے کہ بانی کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔عالم یہ ہے کہ گزشتہ تین ماہ سے ملاقاتوں پر سخت پابندی ہے۔ان کے ووٹر، سپورٹر اور رہنما پتہ نہیں کہاں رہ گئے۔سہیل آفریدی بھی وزیراعلیٰ ہائوس تک محدود ہیں۔ خاں صاحب کو بڑا مان تھا کہ علی امین گنڈاپور کی جگہ سہیل آفریدی بحیثیت وزیراعلیٰ آئے تو وفاق کے ناک میں دم کر دیں گے۔ وفاقی حکومت ان کے غیض و غضب کے سامنے ٹھہر نہیں پائے گی،مگر ایسا نہ ہو سکا۔سہیل آفریدی سڑکوں پر آئے۔نا ووٹرز اور سپورٹرز نے ہی کوئی بڑا احتجاج کیا۔ کارکنان بھی کہیں دبک گئے۔کسی نے بھی باہر نکلنے کا خطرہ مول نہیں لیا۔ ایسے میں واحد علیمہ خاں ہیں جو، اپنا سیاسی رول نبھا رہی ہیں۔ اگرچہ یہ رول پارٹی اور پارٹی رہنمائوں کو ادا کرنا چاہیے تھا۔علیمہ خاں ہر ہفتے اڈیالہ کے باہر ورکرز اور رہنمائوں کو آنے کی دعوت دیتی ہیں تاکہ احتجاج کیا جا سکے،لیکن شومئی قسمت کہ کوئی نہیں آتا- اڈیالہ کے باہر کی سڑکیں ویران اور سنسان پڑی رہتی ہیں۔پی ٹی آئی کارکناں اور رہنماں کی بے حسی کا نوحہ پڑھتی دکھائی دیتی ہیں- علیمہ خاں کو ضرور کریڈٹ جاتا ہے کہ اپنے بھائی کے لئے یہ جنگ لڑ رہی ہیں۔اگرچہ کال کے باوجود کوئی نہیں آتا لیکن تن تنہا یا کبھی کبھار اپنی دوسری دونوں بہنوں کے ہمراہ اڈیالہ کے باہر موجود ہوتی ہیں۔علیمہ خان کی اپنے مقید بھائی کی رہائی کے لیئے کوششیں بار آور ہوتی ہیں یا نہیں، یہ وقت ہی بتائے گا، لیکن ان کی اپنے بھائی کی رہائی کے لیے جدوجہد مسلسل جاری ہے- وہ اکیلی ہوں یا دو چار ساتھی مل جائیں، ہفتے میں ایک بار وہ اڈیالہ کے باہر آتی ہیں، چلچلاتی دھوپ میں اپنا احتجاج ریکارڈ کراتی ہیں اور چلی جاتی ہیں،پتہ نہیں، پی ٹی آئی رہنمائوں کو کیا ہو گیا ہے کہ بلانے کے باوجود نہیں آتے۔