Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

حقیقی فتح

اس سے قبل کئی مرتبہ راقم اپنی تحریروں میں اس بات کو اجاگر کر چکا ہے کہ میں اور آپ جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں وہ ایک جاگیردارانہ اور تنگ نظر قبائلی سوچ اور ذہنیت رکھنے والا معاشرہ ہے۔ تعلیم کا فقدان تو ایک وجہ ہے ہی مگر ہماری انفرادی اور اجتماعی تربیت اور ماحول نے بھی ہمارے اس طرز عمل کو ’’چار چاند‘‘ لگا دیئے ہیں۔ راقم پر اگر منفی سوچ کا الزام نہ لگے تو یہ بات کھل کر کہنے کی جسارت کروں گا کہ ہمارے سیاسی ، ریاستی اور معاشرتی و سماجی ماحول اور تربیت نے ہمیں یہ سکھلایا ہے کہ خود تعریفی اور ذاتی تشہیر کو کس انداز میں عملی جامہ پہنانا ہے اور اپنے آپ کو دوسروں سے برتر، ذہین ، زیادہ قابل، بہادر اور صاحب علم کیسے ثابت کرنا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔ انفرادی سطح کے علاوہ یہ فریضہ ریاستی سطح پر جس ’’خوش اسلوبی‘‘ ، تن دہی‘‘، ’’خلوص‘‘ اور ’’لگن‘‘ کے ساتھ سرانجام دیتا جاتا ہےوہ عوام کیلئے قابل تقلید ہے۔۔۔۔
دراصل جب مقصد مذکورہ بالا ’’اہداف‘‘کا حصول ہو تو پھر قومی سطح پر ترقی اور عام شہریوں کی فلاح ایک ایسا خواب بن کر رہ جاتا ہے جس کی تعبیر بھی ایک خواب ہوتی ہے۔
نجانے کیوں راقم اس بات پر راسخ بلکہ ایمان کی حد تک یقین کامل رکھتا ہے کہ جب تک ہم انفرادی، اجتماعی، معاشرتی اور بالخصوص ریاستی سطح پر ایک ایسا ماحول تشکیل نہیں دیں گے جس میں ذات کی نفی ، پڑھا لکھا مہذب رویہ اور سوچ، اعلیٰ اخلاقی اقدار، ذاتی محاسبہ، اجتماعی ذمہ داری، سادگی سے بھرپور سیدھی سادی سوچ، اور خلوص نیت نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔ تب تک ہم اسی طرح ایک پس ماندہ قوم کی طرح محض زندگی کے دن ہی پورے کرتے رہیں گے۔
قارئین کرام !یقین جانئے گزشتہ چند سالوں کے عملی تجربہ سے یہ بات میں پورے یقین اور وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ عام سے جڑے ریاستی محکموں میں جس قدر بدانتظامی ، بدعنوانی اور لاقانونیت محض دارالحکومت اسلام آبادمیں پائی جاتی ہے وہ یقیناً افریقہ اور تیسری دنیا کے کسی بھی پرلے درجے کے ملک سے بھی بدتر ہے ۔۔۔۔۔۔ آپ حیران ہوں گے کہ میں نے اتنی بڑی بات اتنے وسوخ سے کیسے کہہ ڈالی؟ ۔۔۔۔۔۔ اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو خدانخواستہ کسی فوجداری مقدمہ میں ایف آئی آر کا مدعی یا ملزم بن کر آپ اس تجربہ سے گزر سکتے ہیں اور پھر بھی آپ کی تسلی نہ ہو تو آپ اپنی گاڑی رجسٹر کروانے ایکسائز کے دفتر جا سکتے ہیں اور اگر پھر بھی یقین نہ آئے تو اسلام آباد کے کسی بھی سرکاری ہسپتال، پولی کلینک یا پمز میں بطور مریض داخل ہو جائیں آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ہم ریاستی سطح پر کتنے ’’چیمپئن‘‘ ملک ہیں۔
آزمائش شرط ہے۔۔۔۔۔۔ اور قارئین کرام میں نے آپ کو مذکورہ بالا عوامی مقامات کا تجربہ حاصل کرنے کے لئے جنوبی پنجاب کے کسی دور افتادہ شہر یا پھر بلوچستان کے کسی پس ماندہ علاقہ یا پھر سندھ کے کسی صحرائی خطے یا پھر خیبرپختونخوا کے پہاڑی گائوں کی مثال نہیں دی بلکہ آپ کی سہولت کے لئے وطن عزیز کے دارالحکومت ہی کے چند مقامات کا ذکر کیا ہے جو کہ اقتدار کے ایوانوں کے عین سائے میں Stonthrow فاصلے پر واقع ہیں اور عوام کی ’’درگت‘‘ میں ’’دن رات‘‘ ایک کئے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔
قارئین کرام! مذکورہ بالا مثالوں کا مقصد محض یہ ہے کہ ہمیں کامیاب ریاست اور ریاستی سطح پر ’’کامیابی‘‘ کا معیار بدلنا ہوگا، ترجیحات پر نظرثانی کرنی ہوگی۔۔۔۔۔۔
یہ بات زیادہ تلخ اور سخت انداز میں بھی کہی جا سکتی تھی مگر راقم کا مقصد اصلاح ہے اور بات سمجھانی ہے۔ لہٰذا ’’مقتدر حلقوں‘‘ کو اپنا مدعا جس قدر شائستہ انداز میں پہنچایا جائے وہ زیادہ پرتاثیر ہوگا۔ ویسے بھی مقصد محض تنقید نہیں ہے بلکہ تنقید برائے انفرادی اور ریاستی محاسبہ اور اصلاح ہے کیونکہ اب ریاست کو بطور ادارہ اور ’’مقتدر حلقوں‘‘ کا مثبت اور تعمیری محاسبہ کے عمل سے گزرنا ناگزیر ہو گیا ہے اور اس کا ہدف بین الاقوامی یا ملکی سطح پر برتری ہرگز نہیں ہے بلکہ مقصد عوام کی حالت زار کو بہتر بنا کر ان کے دلوں کو فتح کرنا ہے۔۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں