گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کامسلسل یہ موقف رہاہے کہ افغان سرزمین مختلف دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اسلام آباد کا کہنا رہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، داعش اور دیگردہشت گرد گروہوں کو نہ صرف افغانستان میں موجود رہنے کی گنجائش حاصل ہے بلکہ انہیں ایسے حالات اور سہولتیں بھی میسر ہیں جنہوں نے ان کی تنظیمی صلاحیت اور عملی قوت میں اضافہ کیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے یہ بھی بارہا کہا گیا کہ اگر اس مسئلے کا بروقت اور سنجیدگی سے تدارک نہ کیا گیا تو اس کے اثرات کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی ایک مستقل خطرہ بن جائیں گے۔طویل عرصے تک اس موقف کو بعض بین الاقوامی حلقوں میں علاقائی سیاست، دوطرفہ اختلافات یا سرحدی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق نے اس بحث کو ایک نئے رخ پر لا کھڑا کیا ہے۔ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں، سرحد پار سے منظم حملے اور شدت پسند گروہوں کی بڑھتی ہوئی جرات نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ آخر ان عناصر کو قوت، وسائل اور پناہ کہاں سے حاصل ہو رہی ہے۔ آج اس سوال کا جواب عالمی سطح پر بھی تلاش کیا جا رہا ہے۔
برطانیہ کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان رچرڈ لنڈسے کا حالیہ انٹرویوموجودہ دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ رچرڈ لنڈسے کوئی عام مبصر نہیں بلکہ برطانوی دفتر خارجہ کے تجربہ کار سفارت کار ہیںجو جنوبی ایشیا اور افغانستان کے معاملات پر طویل عرصے سے کام کرتے رہے ہیں۔ ان کے خیالات کو اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ وہ ان پالیسی حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو افغانستان کی موجودہ صورت حال اور اس کے علاقائی اثرات کا قریب سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔اپنے انٹرویو میں رچرڈ لنڈسے نے اس جانب واضح اشارہ کیا ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان سے معاونت حاصل ہے اور کابل و قندھار میں موجود حکام پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے فیصلہ کن اقدامات کریں۔ ان کا یہ بیان محض ایک سفارتی تبصرہ نہیں بلکہ اس امر کا اظہار ہے کہ اب بین الاقوامی برادری بھی افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کی سرگرمیوں کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور پاکستان اسی ایک نقطے پربرسوں سے زور دیتا آیا ہے۔
رچرڈ لنڈسے نے دہشت گردی کے مسئلے کو صرف نظریاتی یا نفسیاتی حمایت تک محدود نہیں رکھا بلکہ تربیتی مراکز، مالی معاونت، ہتھیاروں کی فراہمی اور محفوظ پناہ گاہوں جیسے سنجیدہ عوامل کو بھی اس مسئلے کا حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اگر کوئی ملک دہشت گرد عناصر کے لیے محفوظ ٹھکانہ بن جاتا ہے تو اس کے اثرات لازماً پڑوسی ممالک کی سلامتی پر مرتب ہوتے ہیں۔یہ بات اس لئے درست ہے کہ اسی دہشت گردی کاسامنا پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے کر رہا ہے اور جس کی طرف وہ مسلسل عالمی توجہ مبذول کرواتا رہا ہے۔
افغان طالبان کی عبوری حکومت نے اگرچہ متعدد مواقع پر یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ انکی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی لیکن زمینی صورتحال پر اٹھنے والے سوالات اب صرف پاکستان تک محدود نہیں رہے۔ جب بین الاقوامی سفارت کار، علاقائی ماہرین اور عالمی ادارے بھی انہی خدشات کا اظہار کرنے لگیں تو اس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ مسئلہ محض بیانیے کا نہیں بلکہ عملی حقائق کا ہے جنہیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ دہشت گردی کبھی سرحدوں کی پابند نہیں ہوتی۔ جب دہشت گردگروہوں کو کسی خطے میں پنپنے، منظم ہونے اور اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کا موقع ملتا ہے تو ان کے اثرات رفتہ رفتہ پوری دنیا تک پہنچتے ہیں۔ افغانستان کی گزشتہ چار دہائیوں کی تاریخ دیکھ لیجیے۔لہذا پاکستان کا یہ موقف کہ دہشت گردی کا خطرہ صرف اس کی داخلی سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر بین الاقوامی چیلنج ہےاب زیادہ قابل فہم اور قابل توجہ محسوس ہونے لگا ہے۔رچرڈ لنڈسے نے پاکستان کے حق دفاع کی بھی توثیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد پار سے جنم لینے والے خطرات کے مقابلے میں ہر ریاست کو اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کارروائی کا حق حاصل ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے عام شہریوں کے تحفظ پر بھی زور دیاہے۔
دنیا اب دہشت گردی کے مسئلے کو محض بیانات اور سفارتی وضاحتوں کی حد تک محدود رکھنے کے لیے تیار نہیں دکھائی دیتی۔ بین الاقوامی برادری کی توقع ہے کہ افغانستان میں موجود حکام عملی اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کریں کہ ان کی سرزمین کسی بھی شدت پسند گروہ کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بن سکتی۔ اگر یہ توقع پوری نہیں ہوتی تو اس کے اثرات صرف علاقائی سیاست تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی اعتماد اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی مرتب ہوں گے۔
پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے کہ وہ خدشات جنہیں وہ برسوں سے عالمی فورمز پر اجاگر کرتا رہاہے اب انہیں بین الاقوامی سطح پر بھی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔کسی مسئلے کا ادراک ہونا اگرچہ اس کے حل کی جانب پہلا قدم ہےتاہم صرف مسئلے کی نشاندہی کافی نہیں ہوتی اور نہ ہی محض نشاندہی سے مسئلے حل ہوتے ہیں۔ آج بین الاقوامی سطح پراگر یہ تسلیم کیا جارہاہے کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے خطرات جنم لے رہے ہیںتو اگلا اور ناگزیر مرحلہ اس مسئلے کا عملی حل ہے۔ افغان طالبان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں سے مکمل طور پر پاک کریں اور یہ ثابت کریں کہ افغانستان کسی بھی صورت دہشت گردی کا مرکز یا محفوظ پناہ گاہ نہیں بنے گا۔ عالمی اعتراف اپنی جگہ اہم ہےلیکن اس کی اصل معنویت اسی وقت ہوگی جب افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ بننے سے روکا جائے۔
