آپریشن ہارڈ بال ،بھارتی بیانیے کا دھڑن تختہ
آپریشن ہارڈ بال کی سب سے اہم جہت شاید یہ ہے کہ اس نے بھارت کے اس دیرینہ بیانیے کو ایک نئے عالمی تناظر میں لا کھڑا کیا ہے جس کے مطابق وہ خود کو صرف سرحد پار دہشت گردی
آپریشن ہارڈ بال کی سب سے اہم جہت شاید یہ ہے کہ اس نے بھارت کے اس دیرینہ بیانیے کو ایک نئے عالمی تناظر میں لا کھڑا کیا ہے جس کے مطابق وہ خود کو صرف سرحد پار دہشت گردی
ہر شہر کی ایک آواز ہوتی ہے۔ کہیں یہ آواز پرندوں کے شور میں گھل جاتی ہے، کہیں گاڑیوں کے ہارن میں اور کہیں انسانوں کی خاموشی میں۔ خاموشی بھی ہمیشہ سکون کی علامت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہ اس
کبھی کبھی سانحہ محض چند لمحوں کی غفلت کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ برسوں سے جمع ہوتی ہوئی انتظامی بے حسی، ترجیحات کے الٹ پھیر اور ریاستی ذمہ داریوں سے تدریجی دست برداری کا نوحہ بن جاتا ہے۔ لاہور کے
غم بھی شاید قوموں کی قسمت میں مختلف انداز سے لکھا جاتا ہے۔ کچھ معاشرے خوش حالی کے درمیان کبھی کبھار کسی سانحے سے دوچار ہوتے ہیں مگر ہمارے ہاں دکھ گویا روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ ابھی
اگر کسی معاشرے میں لوگ عدالت کے فیصلے سے زیادہ ایک پولیس مقابلے کی خبر پر مطمئن ہونے لگیں تو سمجھ لیجیے مسئلہ صرف جرائم کا نہیں رہا۔سرگودھا 7 سالہ منتہا زہرا کے ریپ اور قتل کا معاملہ بھی کچھ
گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کامسلسل یہ موقف رہاہے کہ افغان سرزمین مختلف دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اسلام آباد کا کہنا رہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان
بحیرۂ روم کی موجیں دنیا کے بہت سے لوگوں کے لیے حسن، سیاحت اور رومان کی علامت ہوں گی مگر پاکستان کے بے شمار خاندانوں کے لیے یہی سمندر خوف کی علامت بن چکا ہے۔ جب کسی کشتی کے ڈوبنے
افغانستان کا نام آتے ہی ذہن میں صرف ایک ہمسایہ ملک کا تصور نہیں ابھرتا۔ اس کے ساتھ بہت سی اور تصویریں بھی چلنے لگتی ہیں۔ پشاور اور کوئٹہ کے بازار، طورخم اور چمن کی گزرگاہیں، دہائیوں سے ایک دوسرے
ایک لمحے کے لیےفرض کرلیجئے کہ کل کی صبح پاکستان یہ اعلان کر دے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں کوئی سفارتی مہم نہیں چلائے گا، کسی عالمی فورم پر اس کا تذکرہ نہیں کرے گا، اقوام متحدہ کی
آزاد جموں و کشمیر میں جنم لینے والی حالیہ کشیدگی کو محض ایک مقامی سیاسی تنازع نہیں سمجھا جا سکتا۔اس کے گرد بنائے جانے والے بیانیے، سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہمات اور بعض حلقوں کی جانب سے اختیار