افغانستان کا نام آتے ہی ذہن میں صرف ایک ہمسایہ ملک کا تصور نہیں ابھرتا۔ اس کے ساتھ بہت سی اور تصویریں بھی چلنے لگتی ہیں۔ پشاور اور کوئٹہ کے بازار، طورخم اور چمن کی گزرگاہیں، دہائیوں سے ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے خاندان اور وہ لاکھوں افغان جنہوں نے زندگی کا ایک طویل حصہ پاکستان میں گزارا، لہذا پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو محض سفارتی عینک سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ان تعلقات میں گرم جوشی کے موسم بھی آئے اور سرد مہری کے مرحلے بھی مگر رابطے کے ایک دھاگے نےہمیشہ دونوں ملکوں کو جوڑے رکھا۔ جب دونوں کے درمیان کشیدگی کی کوئی خبر سامنے آتی ہے تو معاملہ صرف دو حکومتوں تک محدود نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اس کے اثرات سرحد کے دونوں جانب عوام میںمحسوس کیے جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کی نوعیت بدلتی رہی ہے۔ کبھی سرحدی انتظامات تنازع بنے، کبھی تجارتی راستوں پر سوال اٹھے اور کبھی مہاجرین کے معاملے نےتعلقات میں تناؤ پیدا کیامگر حالیہ برسوں میں ایک مسئلہ ایسا ہے جس نے تقریباً ہر دوسرے اختلاف کو اپنی لپیٹ میں لے لیاہے۔ اسلام آباد اور کابل کے درمیان آج جتنا بھی فاصلہ دکھائی دیتا ہے اس کی جڑ میں وہ سکیورٹی خدشات ہیں جن کا تعلق افغان سرزمین سےپاکستان میں ہونےوالی دہشت گرد کار روائیاں ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے بار دگر طالبان حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، اس کی مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کے خلاف قابل تصدیق اور موثر کارروائی کرے۔ یہ گروہ افغان سرزمین پر سرگرم ہیں اور پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے خطرات پیدا کر رہے ہیں مگر ان کے خلاف وہ اقدامات دکھائی نہیں دے رہے جن کی مسلسل توقع کی جا رہی تھی۔یہ بیان اگر صرف ایک سفارتی موقف ہوتا تو شاید اتنی توجہ حاصل نہ کرتا لیکن اس کےپس منظر میں موجود حقیقت کو نظر انداز کرنا آسان نہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات دوبارہ بڑھ رہے ہیں۔ یہ اضافہ صرف اعداد و شمار میں نہیں فضا میں بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ جب وقفے وقفے سے دہشت گردحملوں کی خبریں آنے لگیں، جب سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں کی اطلاعات معمول بننے لگیں اور جب مختلف علاقوں میں عدم تحفظ کا احساس واپس لوٹنے لگے تو معاملہ محض ایک سکیورٹی رپورٹ کا حصہ نہیں رہتا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب یہ تاثر مضبوط ہونے لگاتھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کٹھن مرحلہ بڑی حد تک عبور کر لیا ہے۔ اس سفر میں فوج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں نے بھاری قیمت ادا کی۔ بے شمار جانیں گئیں، کئی خاندانوں نے ناقابلِ تلافی نقصان اٹھایا اور پورے معاشرے نے ایک مشکل دور کا سامنا کیا۔ اسی لیے آج جب دہشت گردی کی نئی لہر سر اٹھاتی دکھائی دیتی ہے تو تشویش بھی پہلے سے زیادہ گہری محسوس ہوتی ہے۔پاکستان کا موقف یہ ہے کہ اس نئی لہر کو صرف داخلی زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔
اسلام آباد مسلسل یہ کہتا آیا ہے کہ ٹی ٹی پی سمیت مختلف گروہوں کو افغان سرزمین پر موجود نیٹ ورکس، پناہ گاہوں اور روابط سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔ بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کی مجید بریگیڈ کے بارے میں بھی یہی تحفظات بارہا سامنے لائے گئے ہیں۔ داعش خراسان کی موجودگی ایک الگ مسئلہ ہے جبکہ ای ٹی آئی ایم کا ذکر بھی علاقائی سلامتی سے متعلق مباحث کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔ یہاں ایک بات خاص توجہ کی مستحق ہےکہ دہشت گرد تنظیمیں ہمیشہ اپنی تعداد سے نہیں بلکہ اپنے اثر سے جانی جاتی ہیں۔ چند درجن یا چند سو افراد بھی پورے علاقے کا امن متاثر کر سکتے ہیں اگر انہیں نقل و حرکت، منصوبہ بندی اور محفوظ پناہ گاہوں کی سہولت حاصل ہو۔ اسی لیے ریاستیں صرف حملے کو نہیں دیکھتیں، حملے کے پیچھے موجود ماحول کو بھی دیکھتی ہیں۔ پاکستان کی تشویش بھی اسی ماحول کے بارے میں ہے۔2025ء کے دوران پاکستان کو افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے 5300 سے زائد واقعات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 1200 سے زیادہ جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ اعداد سننے میں جتنے مختصر لگتے ہیں، ان کے اثرات اتنے ہی وسیع ہیں۔ کسی بھی دہشت گردحملے کی خبرتو چند سطروں میں سمٹ جاتی ہےلیکن اس کے بعد شروع ہونے والا دکھ برسوں تک ختم نہیں ہوتا۔ ایک شہید کے گھر میں خالی رہ جانے والی کرسی، ایک بچے کے ذہن میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جانے والی یاد اور ایک ماں کی آنکھوں میں ٹھہر جانے والا انتظار کسی سرکاری جدول میں نظر نہیں آتا۔
طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہےلیکن مسئلہ یہ ہے کہ انکار اور اطمینان دو الگ چیزیں ہیں۔ پاکستان کا اطمینان صرف بیانات سے بحال نہیں ہو سکتا۔ اسے ایسے اقدامات درکار ہیں جو دکھائی بھی دیں اور جن کے نتائج بھی سامنے آئیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد اب یہ معاملہ صرف دوطرفہ ملاقاتوں میں نہیں بلکہ عالمی فورمز پر بھی مسلسل اٹھا رہا ہے۔دیکھا جائے تو افغانستان کے لیے بھی یہ مسئلہ غیر اہم نہیں۔ کوئی حکومت اس وقت تک مکمل اعتماد حاصل نہیں کر سکتی جب تک اس کے بارے میں یہ سوال موجود رہے کہ اس کی سرزمین پر سرگرم مسلح گروہوں کے بارے میں اس کی پالیسی کیا ہے۔ سرمایہ کاری، علاقائی روابط اور بین الاقوامی قبولیت کا تعلق صرف سیاسی فیصلوں سے نہیں بلکہ سلامتی کی صورتحال سے بھی ہوتا ہے۔ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ رابطے کا دروازہ بند نہیں کیا۔ قطر، ترکی، سعودی عرب اور چین سمیت کئی ممالک نے اعتماد سازی کی کوششوں میں کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد اب بھی ایک ایسے افغانستان کا خواہاں ہے جو اپنے پاؤں پر کھڑا ہو، معاشی استحکام حاصل کرے اور خطے کے لیے مثبت کردار ادا کرےلیکن اس خواہش کے ساتھ ایک مطالبہ بھی جڑا ہوا ہے اور وہ یہ کہ افغان سرزمین کو ایسے عناصر کے لیے جگہ نہ بننے دیا جائے جو دوسروں کے امن کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں جب بھی کہیں کوئی دہشت گردی کا واقعہ پیش آتا ہے تو لوگ جواب ڈھونڈتے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ برسوں کی قربانیوں کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ کیوں سر اٹھا رہا ہے۔ آج ریاست بھی یہی سوال اٹھا رہی ہے۔ اسی لیے پاکستان کی توجہ صرف اپنے اندر موجود خطرات پر نہیں بلکہ ان عوامل پر بھی ہے جو سرحد کے اُس پار بیٹھ کر ان خطرات کو زندگی دیتے ہیں اور یہی ’’دوسری سمت کا خطرہ‘‘ ہے۔ ایک ایسا خطرہ جو باڑ کے ایک طرف کھڑے سپاہی سے زیادہ ان فیصلوں سے وابستہ ہے جو باڑ کی دوسری جانب کیے جاتے ہیں۔ اگر باڑ کے دوسری سمت دہشت گرد گروہوں کو جگہ ملتی رہے گی تو اس کے اثرات پاکستان میں بھی محسوس ہوتے رہیں گے اور اگر ان کے خلاف واقعی فیصلہ کن کارروائی ہوتی ہے تو اس کا فائدہ صرف پاکستان کو نہیں افغانستان کو بھی ہوگاکیونکہ امن کبھی ایک طرفہ نہیں ہوتا۔ وہ سرحد کے دونوں طرف ایک ساتھ مضبوط ہوتا ہےاور ایک ساتھ کمزور بھی پڑتا ہے۔