اسلام آباد: اسکالرشپ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے نجی تعلیمی ادارے کو جاری کیے گئے پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کے نوٹس کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت اور پیرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے زعفران الٰہی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کا سیکٹر آئی-10 میں نجی تعلیمی ادارہ ہے، جہاں پیرا نے 11 جون کو نوٹس جاری کرکے 10 فیصد مستحق طلبہ کو دی جانے والی اسکالرشپ سے متعلق تفصیلات طلب کی تھیں۔
درخواست گزار کے مطابق اسکالرشپ کیس میں جاری کیا گیا یہ نوٹس بنیادی حقوق سے متصادم ہے، اس لیے اسے کالعدم قرار دیا جائے۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ نوٹس کو معطل کیا جائے کیونکہ اس سے ادارے کے قانونی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔
دلائل سننے کے بعد عدالت نے 11 جون کا نوٹس آئندہ سماعت تک معطل کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کو نوٹس جاری کر دیے۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو آئندہ سماعت پر اپنا مؤقف پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ کیس کی مزید سماعت اگست 2026 کے پہلے ہفتے میں ہوگی، جہاں عدالت فریقین کے دلائل کی روشنی میں مزید کارروائی کرے گی۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس مقدمے کا فیصلہ نجی تعلیمی اداروں میں مستحق طلبہ کے لیے مختص اسکالرشپ پالیسی اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار کے حوالے سے اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

