Search
Close this search box.
بدھ ,08 جولائی ,2026ء

ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ، اسٹاک مارکیٹیں بھی متاثر

انقرہ: عالمی تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے متعلق حالیہ بیان قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے بیان کے بعد عالمی توانائی اور مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں اور سرمایہ کاروں کے رجحانات پر فوری اثرات مرتب ہوئے۔

نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کی بنیاد بننے والا مفاہمتی فریم ورک اب مؤثر نہیں رہا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران اور امریکا کے درمیان نئی فوجی کشیدگی اور حملوں کے تبادلے کی اطلاعات بھی گردش کر رہی تھیں۔

ٹرمپ کے اس بیان کے بعد عالمی تیل کی قیمت میں تقریباً 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر تقریباً 78 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ میں ممکنہ کشیدگی کے باعث تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کا اظہار کیا۔

صرف تیل کی منڈی ہی نہیں بلکہ عالمی مالیاتی مارکیٹوں پر بھی اس کے اثرات دیکھنے میں آئے۔ یورپی اسٹاک مارکیٹوں کے اہم اشاریے تقریباً 1.6 فیصد تک گر گئے، جبکہ امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ اور حکومتی بانڈز کی منافع بخش شرح میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور مہنگائی کے دباؤ میں شدت آنے کا امکان ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز مشرق وسطیٰ کی صورتحال عالمی منڈیوں کی سمت کا تعین کرے گی۔ اگر خطے میں فوجی یا سفارتی پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے براہِ راست اثرات تیل، اسٹاک مارکیٹوں اور عالمی سرمایہ کاری پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں