Search
Close this search box.
بدھ ,08 جولائی ,2026ء

ایران کی امریکا کے حامی ممالک کو سخت وارننگ، فوجی اڈوں سے متعلق بڑا بیان

تہران: ایران امریکا کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایرانی مسلح افواج نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی ملک، فوجی اڈے یا مقام نے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں سہولت فراہم کی تو اسے ایرانی افواج کی جانب سے “جائز ہدف” تصور کیا جا سکتا ہے۔

ایرانی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی میں امریکی فوج کی کسی بھی قسم کی معاونت ناقابل قبول ہوگی۔ بیان کے مطابق ایسے تمام مقامات، جہاں سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں مدد فراہم کی جائے گی، ایرانی مسلح افواج کی نظر میں ممکنہ ہدف تصور کیے جائیں گے۔

ایران امریکا کشیدگی کے تناظر میں یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد تناؤ دوبارہ بڑھ گیا ہے۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ امریکا کی حالیہ کارروائیاں پہلے سے موجود مفاہمتی فریم ورک کی خلاف ورزی ہیں، جبکہ واشنگٹن ایران پر جنگ بندی کی شرائط توڑنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے اس بیان کو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور ان ممالک کے لیے اہم پیغام قرار دیا جا رہا ہے جہاں امریکی افواج تعینات ہیں۔ تاہم ایرانی حکام نے واضح نہیں کیا کہ یہ وارننگ کن ممالک یا مخصوص فوجی تنصیبات کے لیے دی گئی ہے۔

ادھر علاقائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے اور سفارتی کوششوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ بندر ماہشہر کے قریب امریکی ڈرونز کے ساتھ مبینہ جھڑپ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں