Search
Close this search box.
بدھ ,08 جولائی ,2026ء

کیا پنجاب میں تمام ٹیوشن سینٹرز بند ہو رہے ہیں؟ اصل حقیقت سامنے آگئی

لاہور: پنجاب ٹیوشن سینٹرز سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے نے والدین، اساتذہ اور طلبہ میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے تمام ٹیوشن سینٹرز بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، تاہم حکومتی وضاحت نے اس تاثر کی نفی کر دی ہے۔

یہ دعویٰ لاہور میں ایک ٹیوشن سینٹر کی عمارت گرنے کے افسوسناک حادثے کے بعد سامنے آیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد پوسٹس میں کہا گیا کہ رہائشی علاقوں میں قائم تمام ٹیوشن اکیڈمیوں کو بند کیا جا رہا ہے۔ بعض پوسٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بغیر اجازت چلنے والے ٹیوشن سینٹرز کے خلاف سخت کارروائی اور جرمانے کیے جائیں گے۔

تاہم پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے واضح کیا ہے کہ پنجاب ٹیوشن سینٹرز پر مکمل پابندی لگانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق کارروائی صرف ان غیر رجسٹرڈ اکیڈمیوں کے خلاف ہوگی جو حکومتی قواعد و ضوابط، حفاظتی معیار یا فٹنس سرٹیفکیٹ کی شرائط پوری نہیں کریں گی۔

وزیر تعلیم نے مزید بتایا کہ ستمبر سے صرف وہی ٹیوشن اکیڈمیاں بند کی جائیں گی جو رجسٹریشن مکمل نہیں کریں گی یا مطلوبہ حفاظتی تقاضوں پر پورا نہیں اتریں گی۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کا عمل متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے مکمل کیا جائے گا اور اس سلسلے میں صوبہ بھر میں سروے جاری ہے۔

صوبائی وزیر کے پبلک ریلیشنز آفیسر نور الہدیٰ نے بھی سوشل میڈیا پر وائرل دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے تمام ٹیوشن سینٹرز بند کرنے کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔

دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق اب تک ایسا کوئی نوٹیفکیشن، پریس ریلیز یا باضابطہ حکومتی اعلامیہ جاری نہیں ہوا جس میں پنجاب بھر کے تمام ٹیوشن سینٹرز بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہو۔

اس لیے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا دعویٰ درست نہیں۔ پنجاب حکومت صرف غیر رجسٹرڈ اور حفاظتی معیار پر پورا نہ اترنے والی اکیڈمیوں کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ قانونی تقاضے پورے کرنے والے ٹیوشن سینٹرز معمول کے مطابق اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں