Search
Close this search box.
بدھ ,08 جولائی ,2026ء

ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ، متعدد اہم دعوے بھی سامنے آگئے

واشنگٹن: ٹرمپ ایران حملہ وارننگ سے متعلق بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس معاملے پر کسی بھی ممکنہ اقدام کے لیے تیار ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتحال کو وہ جنگ نہیں بلکہ ایران کی “ڈی نیوکلیئرائزیشن” قرار دیتے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ٹرمپ ایران حملہ وارننگ کے دوران امریکی صدر نے سابق صدر باراک اوباما کی ایران پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ماضی میں کیے گئے جوہری معاہدے امریکا کے مفاد میں نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔

ٹرمپ نے روس اور یوکرین کی جنگ پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے مسلسل رابطے میں ہیں اور جنگ بندی کے امکانات پر مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں مناسب وقت پر یوکرین کا دورہ کر سکتے ہیں۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا یوکرین کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنا رہا ہے، جبکہ پیٹریاٹ میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی سے متعلق بھی اہم پیش رفت ہو رہی ہے۔

ایران سے متعلق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے مزید کئی دعوے کیے، جن میں ایرانی فوجی تنصیبات اور دیگر اہداف سے متعلق بیانات بھی شامل تھے۔ تاہم ان بیانات کی فوری طور پر کسی آزاد یا سرکاری ذریعے سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔

عالمی مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے، اس لیے ایسے بیانات خطے میں سفارتی اور سیکیورٹی ماحول پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے لیے متعلقہ ممالک کے سرکاری مؤقف اور آزادانہ تصدیق کا انتظار ضروری ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں