Search
Close this search box.
بدھ ,08 جولائی ,2026ء

خواتین کی خوش اخلاقی کو رضامندی کا اشارہ سمجھنے والے خبردار۔۔۔ انسدادِ ہراسانی عدالت نے فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد(رانا فرخ سعید): وفاقی محتسب ہراسگی فیصلہ میں ایک نجی کمپنی کے پانچ عہدیداروں پر مجموعی طور پر 27 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔ فیصلے کے مطابق جرمانے کی رقم میں سے 5 لاکھ 40 ہزار روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے جائیں گے، جبکہ 21 لاکھ 60 ہزار روپے شکایت گزار خاتون کو بطور معاوضہ ادا کیے جائیں گے۔

دستاویزات کے مطابق شکایت گزار، جو ایک نجی کیمیکل کمپنی میں اسسٹنٹ پراڈکٹ ڈویلپمنٹ منیجر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں، نے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسگی میں درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کمپنی کے مختلف عہدیداروں نے ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا، غیر پیشہ ورانہ گفتگو کی، دفتر سے باہر ملاقات کی دعوت دی اور ایک موقع پر پروڈکٹ سیمپل دکھاتے ہوئے ان کا ہاتھ پکڑا۔

شکایت میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا کہ بعض عہدیداروں نے شکایت کو آگے بڑھانے سے روکنے، سی سی ٹی وی ریکارڈ محفوظ نہ رکھنے، ادارے میں قانونی تقاضوں کے مطابق انسدادِ ہراسگی کمیٹی تشکیل نہ دینے اور بعد ازاں مبینہ طور پر دھمکی آمیز رویہ اختیار کرنے جیسے اقدامات بھی کیے۔

وفاقی محتسب ہراسگی فیصلہ میں کہا گیا کہ شکایت گزار کی شخصیت، لباس یا سماجی رویے کو مقدمے کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ خوش اخلاقی یا شائستہ رویے کو رضامندی تصور نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ملازمت جاری رکھنے یا شکایت درج کرانے میں تاخیر کو بھی شکایت کے خلاف دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔

فیصلے کے مطابق ملزمان نے تمام الزامات کی تردید کی، تاہم وفاقی محتسب نے دستیاب شواہد، گواہوں کے بیانات اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ہراسگی اور انتقامی کارروائی کے الزامات کو ثابت قرار دیا۔

وفاقی محتسب نے متعلقہ کمپنی کو ہدایت کی ہے کہ 15 روز کے اندر شکایت گزار کو تجربہ نامہ، کلیئرنس، تنخواہ اور دیگر واجبات ادا کیے جائیں، جبکہ 30 روز کے اندر ادارے میں انسدادِ ہراسگی کمیٹی کو قانون کے مطابق ازسرِ نو تشکیل دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں