Search
Close this search box.
هفته ,11 جولائی ,2026ء

آپریشن ہارڈ بال ،بھارتی بیانیے کا دھڑن تختہ

آپریشن ہارڈ بال کی سب سے اہم جہت شاید یہ ہے کہ اس نے بھارت کے اس دیرینہ بیانیے کو ایک نئے عالمی تناظر میں لا کھڑا کیا ہے جس کے مطابق وہ خود کو صرف سرحد پار دہشت گردی کا نشانہ بننے والی ریاست کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ جب امریکی وزارتِ انصاف اور دیگر مغربی تحقیقاتی ادارے بھارت سے منسلک ایسے نیٹ ورکس کی نشان دہی کریں جن پر بیرون ملک قتل، بھتہ خوری، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ نیزخوف و ہراس پھیلانے جیسے سنگین الزامات عائد ہوں تو معاملہ صرف افراد کا نہیں بلکہ ریاستی سرپرستی میں ان نیٹ ورکس کی آشیرباد کا ہوتا ہے۔ مقدمات اپنی قانونی منزل ابھی طے نہیں کرسکے اور ان کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے لیکن ان کی موجودگی ہی بھارت کے لیے ایسے سنجیدہ سوالات پیدا کر چکی ہے جنہیں سفارتی مؤقف یا سیاسی بیانات سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اب بحث صرف اس نکتے تک محدود نہیں رہے گی کہ بھارت دہشت گردی کا ہدف رہا ہے بلکہ اس پہلو کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ اس کی سرزمین اور اس کے اداروں سے وابستہ عناصر پر سرحدوں سے ماورا مجرمانہ سرگرمیوں کے الزامات کیوں اور کیسے سامنے آئے۔بھارت کے بیانیے اور زمینی حقائق کے درمیان موجود فاصلوں نے بھارت کو عالمی کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہےاور بھارت کے لیے اصل چیلنج بھی اب یہی ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایک عدالتی دستاویزگولی سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ کسی ریاست کو مجرم قرار دے دیتی ہے بلکہ اس لیے کہ وہ ایسے سوالات کو جنم دیتی ہے جن کے جواب سفارتی بیانات سے نہیں، ریاستی اداروں کی ساکھ سے دیئے جاتے ہیں۔ امریکی وزارت انصاف کی جانب سے آپریشن ہارڈ بال کے تحت سامنے آنے والی فرد جرم بھی اسی نوعیت کی ایک دستاویز ہے۔ اس نے صرف چند افراد پر مقدمات قائم نہیں کیے بلکہ بھارت کے بیانیے کو بھی آزمائش میں ڈال دیا ہے جسے وہ گزشتہ دو دہائیوں سے عالمی سفارت کاری کا مرکزی ستون بنائے ہوئے ہے۔ بھارت کا مؤقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ سرحد پار دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے اور دنیا کو اسی تناظر میں اس کے سکیورٹی خدشات کو سمجھنا چاہیے لیکن جب دنیا کی ایک بڑی جمہوریت کا محکمۂ انصاف یہ ثبوت دنیا کے سامنے رکھ دے کہ بھارت سے منسلک بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورکس امریکہ، کینیڈا اور یورپ تک پھیلے ہیں، قتل، بھتہ خوری، منشیات، اسلحے کی اسمگلنگ اور بیرون ملک خوف پھیلانے جیسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں تو سوال لازماً پیدا ہوتا ہےکہ کیا یہ گینگ کرائم بھارتی سرکار کی پشت پناہی میںہیں؟امریکی استغاثہ نے جن تین بڑے نیٹ ورکس،بشنوئی انٹرپرائز، بھگوان پوریا انٹرپرائز اور دھندا نیٹ ورک کا ذکر کیا ہے، ان کے بارے میں سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ نہیں کہ ان کے ارکان مختلف ملکوں میں سرگرم تھے بلکہ یہ ہے کہ فردِ جرم کے مطابق مرکزی کردار بھارت کی جیلوں میں قید ہونے کے باوجود مبینہ طور پر اپنے نیٹ ورکس کو ہدایات جاری کرتے رہے۔ اگر جیل کی دیواریں کسی مبینہ مجرمانہ نیٹ ورک کی سرگرمیوں کو روکنے کے بجائے اس کا رابطہ مرکز بن جائیں تو پھر دنیا صرف مجرموں کو نہیں دیکھتی، وہ اس ملک کے طرز حکمرانی پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔بشنوئی نیٹ ورک کے بارے میں امریکی الزامات اس لیے بھی غیر معمولی ہیں کہ ان میں مجرمانہ سرگرمیوں کے ساتھ ایک سماجی اور سیاسی پہلو بھی موجود ہے۔ یہاں قوم پرستی، مذہبی شناخت اور عوامی مقبولیت کے تاثر کو نئی بھرتیوں اور اثرورسوخ کے لیے استعمال کیا گیا۔اس مقدمے کا ایک اور حساس رخ کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل سے متعلق الزامات ہیں۔ اس کے ساتھ گرپتونت سنگھ پنوں کے خلاف مبینہ قتل کی سازش کا مقدمہ بھی سامنے آ چکا ہے۔ دونوں مقدمات اگرچہ الگ الگ قانونی حیثیت رکھتے ہیں لیکن ان کے درمیان ایک قدرِ مشترک ضرور دکھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ سرحد پار اختلافی آوازوں کو نشانہ بنانے کے لئے بھارت نے ان نیٹ ورکس کو استعمال کیا۔ اس موضوع کو مغربی ممالک اب محض دوطرفہ سفارتی تنازع نہیں سمجھتے بلکہ ’’ٹرانس نیشنل ریپریشن‘‘ یعنی سرحد پار دباؤ اور خوف کی ایک نئی شکل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔بھگوان پوریا نیٹ ورک سے متعلق امریکی دعوئوں میں ایک اور پہلو بھی خاصا اہم ہےکہ بدعنوان اہلکاروں سے روابط کے ذریعے جھوٹے مقدمات قائم کرانے اور بھتہ خوری کے لیے ریاستی ڈھانچے کے کچھ حصوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔ ان الزامات کا سامنے آنا ہی بھارت کے لیے باعث تشویش ہونا چاہیے،اگر منظم جرائم، سیاسی تشدد اور بیرونِ ملک سرگرم نیٹ ورکس ایک دوسرے سے جڑتے دکھائی دیں تو پھر مسئلہ محض مقامی پولیسنگ کا نہیں ہوتا۔ شاید اسی لیے کینیڈا نے بشنوئی گینگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ یہ فیصلہ صرف ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی ہے کہ اگر کوئی مجرمانہ نیٹ ورک سرحدوں سے ماورا ہو کر خوف، تشدد اور جبر کو بطور ہتھیار استعمال کرے تو اسے روایتی گینگ کرائم کی تعریف میں محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک بھی اپنی قانونی جانچ کے بعد اسی سمت میں بڑھتے ہیں یا نہیں۔امریکی فرد جرم میں اگرچہ بھارتی ریاست کے براہِ راست ملوث ہونے کا الزام شامل نہیں لیکن اگر ایسے نیٹ ورکس جو برسوں تک سرگرم رہیں، جیلوں سے ہدایات جاری ہوتی رہیں تو ایسا ہوناکسی سرپرستی کے بغیر ممکن ہی نہیں، ریاست کی پشت پناہی کے بغیر ایسے نیٹ ورکس نہیں پنپتے۔امریکہ اور کینیڈا کی عدالتوں میں مقدمات زیرِ سماعت ہیں ان کا منطقی انجام عدالتی عمل ہی طے کرے گا لیکن پاکستان کو بین الاقوامی احتساب، آزاد تحقیقات اور سرحد پار جرائم کے خلاف مشترکہ تعاون کی حمایت کرنی چاہیے کیونکہ پاکستان نے بھارت کی شرپسندی کو براہ راست بھگتا ہے۔ آپریشن ہارڈ بال کا فیصلہ عدالتیں سنائیں گی لیکن اس نے بھارت کی اصلیت کا پردہ ضرور چاک کر کے رکھ دیا ہے۔ بھارت کے ادارے، اسکی جیلیں، اس کا نظامِ احتساب اور اس کی سرزمین سے وابستہ سرگرمیاں بھارت کی ساکھ پر ایسا دھبہ ہیں جسے وہ دھو نہیں سکے گا۔ دیکھتے ہیں نئی دہلی سے کیاتاویل پیش ہوتی ہے۔
آپریشن ہارڈ بال نے صرف چند مبینہ مجرمانہ نیٹ ورکس پر سوال نہیں اٹھائے بلکہ بھارت کے اس بیانیے کو بھی چیلنج کیا ہےجس کے ذریعے بھارت طویل عرصے سے خود کو دہشت گردی کا واحد نشانہ بنا کر پیش کرتا رہا ہے۔ اگر ایک ریاست دنیا سے دہشت گردی کے خلاف تعاون کا مطالبہ کرے لیکن اس سے وابستہ عناصر پر بیرونِ ملک قتل، منظم جرائم، منشیات اور خوف کی سیاست کو فروغ دینے کے الزامات سامنے آئیں تو پھر معاملہ محض جرائم پیشہ گروہوں تک محدود نہیں رہتا۔
یہ مقدمات بھارت کے لیےایک مشکل سفارتی مرحلہ ہیں۔ ایک طرف نئی دہلی مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ وہ دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور اس کے خلاف عالمی تعاون ضروری ہے، دوسری طرف امریکی فرد جرم اور دیگر عدالتی کارروائیوں نے ایسے سوالات پیدا کیے ہیں جن کا جواب اب بھارت صرف بیانات سے نہیں دے سکتا۔

یہ بھی پڑھیں