Search
Close this search box.
هفته ,11 جولائی ,2026ء

خلافت الٰہی عادلانہ حکمرانی کا نظام

اللہ تعالیٰ کی انسانیت پر عظیم ترین نعمتوں میں سےایک نظامِ خلافت ہے۔ یہ محض ایک سیاسی عہدہ یاحکومتی ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک الٰہی امانت ہےجس کا آغاز خود اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑکی تخلیق کے وقت فرمایا۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:اورجب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا: بےشک میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ (سورہ البقرہ: 30)
اسی اعلان کے ساتھ یہ حقیقت واضح کر دی گئی کہ انسان اپنی خواہشات یا انسانی نظریات کے مطابق نہیں بلکہ اللہ کی ہدایت اور ارشادات کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ حاکمیتِ مطلقہ صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:حکم تو صرف اللہ ہی کا ہے۔(سورہ یوسف: 40)
حج الوداع کےموقع پر اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا:آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا، اپنی نعمت تم پر پوری کر دی، اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔(سورہ المائدہ: 3)
رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد حضرت ابو بکر صدیق ؓپہلے خلیفہ منتخب ہوئے اور یوں خلافتِ راشدہ کا آغاز ہوا، جو بعد میں بنو امیہ، بنو عباس اور خلافتِ عثمانیہ تک مختلف ادوار میں جاری رہی۔ تقریباً تیرہ سو برس تک، حکمرانوں کی بشری کمزوریوں کے باوجود، مسلم تہذیب کا عمومی ڈھانچہ قرآن و سنت کی بنیاد پر قائم رہا۔ خلافت صرف حکومت نہیں تھی بلکہ ایک جامع حکمرانی، قانون و انصاف، اور تمدنی نظام تھا جس میں عدل، بیت المال، زکوٰۃ، قضا، عوامی امانت، معاشرتی فلاح، اور سود سے پاک مالی، تجارتی، اقتصادی اور معاشی اصول ایک دوسرے سے مربوط تھے۔
قرآنِ کریم مسلمانوں کو بار بار وحدت و اتحاد اور بھائی چارے کا حکم دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔(سورہ آل عمران: 103)
اور فرمایا:بے شک تمہاری یہ امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس میری ہی عبادت کرو۔ (سورہ الانبیا: 92)
آج مسلم دنیا سیاسی جماعتوں، نظریاتی فرقہ بازی اور گروہ بندی و فرقہ واریت میں بٹ گئی ہے اور باہم متفرق ہے۔ قومی مفادات اور باہمی اختلافات میں پہلے سے کہیں زیادہ تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ امت کی اجتماعی شناخت بتدریج سیاسی اور مذہبی فرقہ واریوں میں بٹ کر اپنی اپنی وابستگیوں کے پیچھے دھندلا گئی ہے۔اسی طرح قرآنِ مجید سود کے بارے میں نہایت سخت تنبیہ فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:اگر تم باز نہ آئے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو۔(سورہ البقرہ: 279)اور فرمایا:اللہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔(سورہ البقرہ: 276)
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اسلام کا معاشی نظام بینکاری نہیں بلکہ بیت المال، تجارت، زکو، عدل، امانت، معاشرتی ذمہ داری اور سود سے مکمل اجتناب پر قائم ہے۔ عصرِحاضر میں اسلامی بینکاری کے قیام کے لیے کچھ مسلم علماء اور ماہرینِ معاشیات نےکوششیں کی ہیں۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ کیا موجودہ اسلامی بینکاری قرآن کے اس اعلی مقصد کو حاصل کر سکی ہےجس میں ہر شکل اور ہرحقیقت کے اعتبار سے سود کا خاتمہ مطلوب ہے؟ اس موضوع پر مسلم اہلِ علم کے درمیان علمی گفتگو کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے۔
آج مسلم دنیا کے پاس بے شمار قدرتی وسائل، وسیع سرزمین، تقریباً دو ارب آبادی اور غیر معمولی مالی وسائل موجود ہیں لیکن اس کےباوجود امت سیاسی کمزوری، معاشی انحصار، بے برکتی، باہمی نفاق و اختلافات اور عالمی بے اثری کا شکار ہے۔اصل مسئلہ دولت کی کمی نہیں بلکہ برکت کی کمی ہے۔ جب مال حرام سود سے مکس ہو جائے تو برکت اٹھ جاتی ہے۔دولت کے اعداد و شمار بڑھ سکتے ہیں لیکن اگر وہ اللہ کی اطاعت، عدل، دیانت اور حلال کمائی سے وابستہ نہ ہو بلکہ سود کے نظامِ بینک میں گڈ مڈ ہو جائے تو اس میں سکون، اطمینان اور برکت باقی نہیں رہتی۔رسول اللہ ﷺ نے بھی خبر دی کہ ایک زمانہ آئے گا جب میری امت اپنے سے پہلی امتوں کے طریقوں کی پیروی کرے گی۔ یہ تنبیہ ہر دور کے مسلمانوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنے سیاسی، معاشی اور سماجی نظاموں کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھیں۔
مسلم امت کی حقیقی نشاۃثانیہ صرف سیاسی اصطلاحات یا مالیاتی نام تبدیل کرنے سے حاصل نہیں ہوگی بلکہ اس وقت آئےگی جب مسلمان دوبارہ اللہ کے کامل دین کی طرف رجوع کریں، امت کی وحدت کو ہرتقسیم پرمقدم رکھیں،خلافت کو اللہ کی امانت سمجھیں، حقیقی شورائیت کو زندہ کریں، بیت المال کو معاشرتی انصاف کا مرکز بنائیں، ہر قسم کے سود سے مکمل اجتناب اختیار کریں اور اپنی پوری انفرادی و اجتماعی زندگی کو قرآن و سنت کی روشنی میں استوار کریں۔یہ ماضی پرستی کی دعوت نہیں بلکہ اس ابدی ہدایت کی طرف واپسی کی دعوت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے کامل قرار دیا ہے۔
عروج کا راستہ وہی ہے جسے اللہ نے دکھایا ہے۔ دستور قرآن ہے۔ اسو کامل محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ امت ایک ہے،عدل بنیاد ہے، دولت اللہ کی امانت ہے، اور برکت صرف اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو جوڑ دے، ہمیں اپنے کامل دین کی طرف سچا رجوع نصیب فرمائے، امتِ مسلمہ کو دوبارہ عزت، اتحاد، عدل، حکمت اور برکت عطا فرمائے، اور اسے ایک بار پھر پوری انسانیت کے لئے خیر، رحمت اور ہدایت کا ذریعہ بنا دے۔ آمین۔

یہ بھی پڑھیں