Search
Close this search box.
هفته ,11 جولائی ,2026ء

خیبر پختونخوا کی ریاست مدینہ

پی ٹی آئی نے ہمیشہ تبدیلی کا نعرہ لگایا عوام کو ایک نئی ریاست مدینہ کا خواب دکھایا جہاں حکمران سادہ زندگی گزارتے ہوئے عوام کے خادم بنتے ہیں مگر خیبر پختونخوا اسمبلی میں حال ہی میں پاس ہونےوالےدو قوانین نے اسی خواب پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایک قانون اراکین اسمبلی کی مراعات میں بےپناہ اضافہ جبکہ دوسرا صحافیوں پر سخت پابندیاں عائد کرتا ہے۔ یہ دونوں قوانین نہ صرف پاکستان کے بنیادی قوانین کےخلاف ہیں بلکہ عوامی توقعات اور پارٹی کے اپنے اعلان کردہ اصولوں سے بھی ٹکراتے نظر آتے ہیں۔جس وقت یہ قوانین وجود میں آئے اس وقت صوبہ غربت بے روزگاری اور دہشت گردی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ اراکین اسمبلی کے لیے پاسپورٹ وی آئی پی لاؤنجز اسلحہ کے لائسنس سیکورٹی کی اپ گریڈیشن اور گرفتاری سے استثنیٰ جیسی سہولیات دینا ایسے اقدامات ہیں جو عام شہری کے ذہن میں سوالات پیدا کرتے ہیں کہ کیا عوامی نمائندے عوام سے الگ تھلگ ایک مخصوص طبقہ بن چکے ہیں؟ تحریک انصاف نےہمیشہ وی آئی پی کلچر کی مذمت کی تھی۔ عمران خان نےباربارکہا تھا کہ سیاستدان عوام کےلیےنمونہ ہوں نہ کہ مراعات کے شوقین۔ مگر یہ قانون انہی مراعات کو قانونی تحفظ دیتا ہے۔اس قانون کے تحت اراکین اور ان کے شریک حیات کو آفیشل پاسپورٹ ملنا ہے۔ ایئرپورٹس پروی آئی پی لاؤنجز کا استعمال ہوگا۔ شریک حیات کو اسمبلی کےشناخت نامے جاری کیےجائیں گےجو پولیس اور دیگر اداروں کےلیے تسلیم شدہ ہوں گے۔ اسلحہ کے آٹھ لائسنس دیے جائیں گے جن میں سے چار مفت ہوں گے۔ سیکورٹی کیٹیگری بی سے اے تک اپ گریڈکی جاسکتی ہےاور یہ سیکورٹی پورے ملک میں برقرار رکھی جاسکتی ہے۔گرفتاری کے لیے مکمل استثنیٰ دیا گیا ہے۔یہ سب کچھ پاکستان پر عرصہ دراز سے قابض چند سیاسی پارٹیوں کے دور کی یاد دلاتا ہےجن کے خلاف تحریک انصاف نے احتساب کا نعرہ لگایا تھا۔
عوام سوچ رہےہیں کہ جب حکمران خودمراعات میں مصروف ہوں توترقیاتی کاموں صحت تعلیم اور عوامی فلاح کیسے ممکن ہوگی۔ یہ قوانین اراکین کو عام لوگوں سے الگ تھلگ کر دیتےہیں۔ جہاں ایک عام شہری عدالتوں اورپولیس کے سامنے بے بس ہوتا ہے وہاں نمائندوں کو خصوصی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ یہ بات ریاست کے بنیادی اصول یعنی قانون کی برابری کےخلاف ہے۔تحریک انصاف کا نظریہ ریاست مدینہ پر مبنی تھا جہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے حکمران خود احتساب کے لیے تیار رہتے تھے۔ عمران خان نے کئی بار کہا تھا کہ ہم اشرافیہ کےخلاف لڑیں گےمگر کے پی کے میں انہی اراکین کی مراعات کو بڑھانا پارٹی کے اندربھی تنقید کا باعث بنا ہے۔ کچھ رہنماؤں نےاسے عمران خان کے ویژن کے خلاف قرار دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نےخود ان مراعات کاجائزہ لینے کاحکم دیا ہےجو اس دباؤکااعتراف ہے۔اب دوسرا قانون صحافیوں سےمتعلق ہے۔ یہ قانون اسمبلی کی کارروائی کی رپورٹنگ پر سخت کنٹرول رکھتا ہے۔ اسپیکر کو اختیاردیا گیاہےکہ وہ کسی بھی صحافی کو اسمبلی کی کارروائی کور کرنےسے روک سکے۔ کارروائی کی نشر و اشاعت پر پابندی لگا سکے۔ خلاف ورزی پر چھ ماہ قیداوردس لاکھ روپےجرمانہ ہوسکتا ہے۔ غلط رپورٹنگ پر تین سال قید اور تین لاکھ جرمانہ۔ اسپیکر پر تنقید یا bias کا الزام لگانے پر بھی سزا کا حکم ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ قبل ازوقت شائع کرنےپر تین ماہ قید۔یہ قانون اظہار رائے کی آزادی پر واضح حملہ ہے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل انیس میں اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اصول بھی اس کی حمایت کرتے ہیں۔ صحافت احتساب کا اہم ذریعہ ہے۔ اگر صحافیوں کو ڈرایا جائے گا تو عوام کو درست معلومات کیسے ملیں گی۔ تحریک انصاف نے میڈیا کی آزادی کی باتیں کی تھیں مگرخیبر پختونخوا میں اقتدار میں آکر ایسا قانون پاس کرنا پارٹی کی پوری پوزیشن سے متصادم ہے۔یہ دونوں قوانین ایک ہی دن پاس ہوئے اور کئی ماہ تک عوام سے چھپائے رکھےگئے۔اس سے شفافیت کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ تحریک انصاف کا دعویٰ تھا کہ وہ سٹیٹس کو کےخلاف ہےمگر یہ قوانین سٹیٹس کو کومضبوط کرتےہیں۔ اشرافیہ کی عیاشی جاری رکھتےہیں۔ جب عوام مہنگائی اور مسائل سے نڈھال ہے تو نمائندوں کی مراعات بڑھانا عوامی جذبات کو مجروح کرتا ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی جماعتیں اکثر اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کر لیتی ہیں۔ تحریک انصاف بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رہی۔ عمران خان کی گرفتاری اور پارٹی پر دباؤ کے باوجود کے پی حکومت کے یہ فیصلے پارٹی کی ساکھ کو متاثر کررہے ہیں۔ حامی کہتے ہیں کہ یہ عملی حکمرانی ہےمگر ناقدین اسے منافقت قرار دیتے ہیں۔
سیاست میں نظریاتی بلندی اور عملی حقیقت کا ٹکراؤ عام ہےمگر جو پارٹی تبدیلی کا دعویٰ کرتی ہو اسے اپنے اعمال سے مثال قائم کرنی چاہیے۔ مراعات ختم کرنے کی بجائے انہیں بڑھانا اور میڈیا پر پابندیاں لگانا عوام کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔ یہ قوانین صوبائی سطح پر پاس ہوئے ہیں مگر ان کا اثر قومی سیاست پر پڑتا ہے۔ وفاق اور دوسرے صوبوں میں بھی ایسی مراعات موجود ہیں مگر تحریک انصاف نے ہمیشہ الگ راستہ دکھانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اب جب وہ خود اس راستے پر چل پڑی ہے تو سوالات پیدا ہو رہے ہیں کہ کیا تبدیلی کا نعرہ صرف انتخاب کےلیےتھایاواقعی عوام کی فلاح مقصود تھی۔عوام نے تحریک انصاف کو اس لیےووٹ دیاتھا کہ وہ پرانی سیاست سے ہٹ کرکچھ کرے گی۔ وی آئی پی کلچر ختم کرے گی۔ احتساب لائے گی۔ میڈیا کو آزاد رکھے گی مگر یہ قوانین اس کے برعکس ہیں۔ عام عوام کو کمتر ثابت کرتے ہیں، صحافیوں کو ڈراتے ہیں۔ نتیجتاً پارٹی کا نظریہ دھندلا سا نظر آتا ہے۔ تاہم یہ کہنا غلط ہوگا کہ تحریک انصاف کا نظریہ مکمل طور پر مر گیا ہے۔ پارٹی کے اندر اب بھی بہت سے لوگ ہیں جو اصل وژن پر یقین رکھتے ہیں۔ عمران خان اپنی قیادت میں پارٹی کے بہت سے عام اور نئے نوجوانوں کو سیاست میں لائے اور یہ توقعات اب بھی زندہ ہیں۔ اگر پارٹی ان غلطیوں سے سبق سیکھےاوردرست سمت میں آئے تو دوبارہ عوام کا اعتماد حاصل ہو سکتاہے۔ یہ بات واضح ہے کہ سیاست صرف نعروں کی نہیں اعمال کی ہوتی ہے۔ مراعات اور پابندیوں والے قوانین عوامی فلاح کے بجائے خود غرضی کی عکاسی کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کو سوچنا چاہیے کہ کیا وہ واقعی تبدیلی لانا چاہتی ہے یا پرانی سیاست کا حصہ بننا چاہتی ہے۔ عوام دیکھ رہے ہیں اور وقت آنے پر درست فیصلہ بھی کریں گے۔اس ساری قانون سازی میں سب سےحیرت انگیز بات یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بھی مکمل طور پر خاموش ہیں جس سے ظاہرہوتا ہے کہ یہ سب اپنی مراعات پرخوش ہیں اورصحافیوں کےخلاف پابندیوں کا بھی ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ رویہ دراصل سٹیٹس کو کی بقا کو یقینی بناتا ہے جہاں تمام سیاسی طبقے ایک دوسرے کی مراعات کی حفاظت کرتے ہیں اور عوام کے مفادات کو نظراندازکردیتے ہیں۔یہ صورت حال پاکستان کی سیاست کے لیے سبق ہے۔ کوئی پارٹی کامل نہیں ہوتی مگر جو پارٹی اصولوں پر قائم رہے وہی تاریخ میں زندہ رہتی ہے۔ تحریک انصاف کے پاس اب بھی موقع ہےکہ وہ ان قوانین پر نظرثانی کرےاورعوام کی توقعات پوری کرے۔ تب ہی اس کا نظریہ زندہ رہے گا۔ ورنہ یہ مراعات اور پابندیاں صرف ایک اور سیاسی جماعت کی کہانی بن کر رہ جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں