پولیس گردی کے ان گنت واقعات آئے روز پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں۔سوشل میڈیا نے تو کمال کر دیا ہے۔جہاں عام شہریوں کے مسائل موبائل کیمرے میں بند ہوتے ہیں تو اس کی آنکھ سے جب پولیس گردی کے واقعات کو روڈز پر ہوتا دکھاتی ہے تو یہ مناظر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی ایک بھونچال کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔گمان گزرتا ہے کہ ہم کیا اسی معاشرے کے فرد ہیں۔جہاں سر عام پولیس گردی ہوتی ہے اور ظلم روا رکھا جاتا ہے۔وہ بھی انسان ہیں جو صرف بیس،تیس ہزار کی چوری یا اس سے بھی کم تر کسی غلطی پر تھانے کے اہلکاروں کے ہاتھوں غیر انسانی سلوک اور ناروا صورتحال سے گزرتے ہیں۔جہاں جرم اگلوانے کے لیئے انہیں مخصوص بیرکوں میں بہیمانہ تشدد کر کے انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔
جو بھی تھانے گنجان آبادی والے علاقوں میں ہیں وہاں کرب میں ڈوبی چیخوں کی آوازیں یہاں کے مکینوں کی عادت بن چکی ہے۔یہ تماشا ہر تھانے کی حدود میں ہر روز ہوتا ہے۔اگرچہ موجودہ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے پچھلے ہفتے لاہور کے چھ تھانوں کے ایس ایچ اوز کو نافرض شناسی، نااہلی،اختیارات سے تجاوز اور رشوت خوری سمیت دیگر الزامات کے تحت معطل کر کے لائن حاضر کیا لیکن یہ کوئی سزا نہیں،دو چار ماہ بعد یہ لوگ پھر لاہور ہی کے کسی تھانے میں ڈیوٹی سرانجام دیتے نظر آئیں گے،ایس ایچ او شپ دوبارہ ان کے پاس ہو گی۔پولیس ٹارچر ہمارے معاشرے کا دہائیوں پرانا بلکہ یوں کہہ لیں کہ مستقل ایشو ہے۔ایسے دلخراش واقعات ریکارڈز پر ہیں جن کی خبریں اور جن سے متعلق فیچرز ہم نے شائع ہوتے دیکھے ہیں۔اب تو نیشنل اور سوشل میڈیا بھی ایسے بہت سے واقعات ایکسپوزکر رہا ہے جو دل ہلا دینے والے اور بہت ہی افسوس ناک ہیں۔ہماری صحافتی تاریخ میں ایسی کتنی ہی مثالیں ملتی ہیں جن میں ہمارے کرائم رپورٹرز نےاخبارات ہوں یاٹی وی،وہ کچھ لکھا،دکھایا اور بتایا کہ تھانوں میں ظلم کی داستانیں کیسےرقم ہوتی ہیں۔دولت منداور بااثر ملزمان تو تھانوں میں پورا پروٹوکول حاصل کرتے ہیں مگر کوئی غریب ان کے ہتھے چڑھ جائے تو اس کی وہ درگت بنائی جاتی ہے،وہ حال کیا جاتا ہے جو شاید کسی جانور کا بھی نہ ہو۔
بعض حکومتیں پولیس گردی کو سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کرتی ہیں۔یہ روایت پچھلی کئی دہائیوں سےیونہی چلی آرہی ہے۔کسی پڑھےلکھے سیاسی رہنما یا کارکن پر تشدد پولیس گردی کی انتہا ہےیہ سب کچھ ہوتا آیا ہے،ہو رہا ہےاور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔کسی ملزم کی گرفتاری کے بعد لازم ہوتا ہے کہ پولیس ملزم کی گرفتاری کے بعد اسے 24 گھنٹوں میں مقامی مجسٹریٹ کے روبرہ پیش کرے،اس کاجسمانی ریمانڈ لے۔قانون کے مطابق عام عدالتیں ملزم کو 14 دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے سکتی ہیں۔چاہے وہ ڈکیتی اور قتل جیسے سنگین جرم کا ہی ملزم کیوں نہ ہو۔کوئی بھی عدالت پولیس کو 14 دن سے زیادہ کا جسمانی ریمانڈ دینے کی مجاز نہیں۔البتہ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات میں انسداد دہشت گردی کورٹ ملزم کا 90 دن کے لئے جسمانی ریمانڈ جاری کر سکتی ہے۔جسمانی ریمانڈ کا ہمارے ہاں اکثر یہ مطلب یا تاثر لیا جاتا ہےکہ پولیس کو جسمانی ریمانڈ کے دوران ملزم پر تشدد کی کھلی چھٹی مل گئی ایسا ہرگز نہیں ہے۔قانون کی کسی شق میں درج نہیں کہ پولیس ریمانڈ کے دوران ملزم پر کسی قسم کا جسمانی تشدد کر سکتی ہے۔ریمانڈ سے مراد پولیس تحویل میں ملزم سے کیس کی بابت تفتیش کرنا ہےجبکہ عام پولیس افسر یا اہلکار جسمانی ریمانڈ کے دوران تشدد کا خوف پیدا کرکےاس کے لواحقین سے رشوت کے طور پر منہ مانگی رقم بھی وصول کرتے ہیں جس کے عوض اکثر ملزمان کو تشدد سے نجات مل جاتی ہے۔ورنہ تھانے کے درودیوار اس کے ساتھ وہ ہوتادیکھتے ہیں جومناظرتاریخ انسانی نےکبھی نہ دیکھے ہوں۔یہ27 اور 28اکتوبر 1995ء کی ایک درمیانی شب کی بات ہے ایک مقامی اخبار کی ٹیم اپنے ایڈیٹر،ڈپٹی اور اسسٹنٹ ایڈیٹرز،ایک کرائم رپورٹر اور دو سٹاف فوٹو گرافرز کے ہمراہ کسی شکایت پر تمام رکاوٹیں عبور کر کے تھانہ باغبانپورہ پہنچی تو ایک ہولناک منظر دیکھا،سامنے رونما اس منظر میں ایس ایچ او صاحب سول کپڑوں میں ملبوس چندباوردی پولیس اہلکاروں کےہمراہ مصروف تفتیش تھے۔ایک شخص (ملزم)چھت کے ساتھ الٹا لٹکا کر بہیمانہ تشدد کیاجا رہاتھا۔اس منظر کو کسی طرح فوٹو گر نے اپنے کیمرے میں محفوظ کرلیا۔یہ سب اتنی جلدی اوراچانک ہوا پولیس تک کو خبر نہ ہوئی کہ طاہر کے کیمرے میں چھپی یہ تصویر چھپ گئی توکیا گل کھلائے گی۔تصویر اگلے روز کے اخبار میں شائع ہوئی تو بڑا شور مچا۔اس وقت کی وزیراعظم بےنظیر بھٹو کو بھی نوٹس لینا پڑا۔نوٹس اتنا بروقت اور شدید تھا کہ کئی پولیس افسر اورماتحت اس کی زد میں آئے اور معطل ہو گئے۔جن کی تنزلیاں بھی ہوئیں لیکن صاحب یہ تماشا تو یہاں ہر روز ہوتا ہے۔پولیس بھی جانتی ہے جسمانی ریمانڈ کا مطلب تشدد نہیں لیکن وہ پھر بھی یہ کرتی ہے۔جو اس سائنٹفک دور میں ایک جابرانہ، ظالمانہ اور ناروا غیر انسانی سلوک ہے جسے اب بند ہو جانا چاہیے۔