ہر عہدکی تاریخ کاایک ایساباب ضرور ہوتا ہےجسے مرخ قلم کو اپنے لہو میں ڈبو،کے لکھتاہے، آہوں سے رقم کرتا ہے۔ اس باب کے اوراق پر تاریخ کی روشنائی نہیں، انسان کے خوابوں کا لہو بکھرا ہوتا ہے۔ سلطنتیں جب اپنے ہی شہریوں سے خوف کھانے لگیں، جب محلات کی فصیلیں بازاروں کی آواز سے لرزنے لگیں، جب سوال جرم اور خاموشی وفاداری قرار پائے، تو سمجھ لیجیے کہ ریاست اپنے وجود کے سب سے نازک دور میں داخل ہو چکی ہے۔
ریاست آخر ہے کیا؟
چند عمارتیں، چند دفاتر، چند وردیاں، چند کرسیوں پر بیٹھے ہوئے لوگ؟ یا وہ اجتماعی عہد جس کے تحت عوام اپنی آزادی کا ایک حصہ اس امید پر ریاست کے سپرد کرتے ہیں کہ انہیں انصاف، تحفظ اور عزتِ نفس ملے گی؟ اگر اس عہد کی روح مجروح ہو جائے تو ریاست باقی رہتی ہے مگر اس کی اخلاقی بنیادیں ریت کی دیوار کی طرح بکھرنے لگتی ہیں۔ ریاست اس امر سے کسی طرح آگاہ ہو جائے تو تحفظ کا وعدہ کرتی ہےاور قوم سے اس کے بدلے اطاعت کا مطالبہ کرتی ہے مگرجب یہ سب تاویلیں خاک ٹھہریں اور سوالوں کا سیلاب تھم نہ پائے تو سوال کرنےوالوں سے خوف کھانے لگتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ریاست اور جبر کے درمیان فاصلہ کم ہونے لگتا ہے۔پاکستان کی تاریخ بھی ایسے ہی کئی موسموں سے گزری ہے۔ یہاں آئین بھی لکھا گیا، امیدیں بھی بوئی گئیں، خواب بھی دکھائے گئے مگر ہر چند برس بعد ایک ایسا طوفان آیا جس نے آرزو کے سب گھروندے مسمار کردیئے۔ کبھی قانون کمزور پڑ گیا، کبھی ادارے ایک دوسرے کے لئے میدان کار زار بنے، کبھی سیاست انتقام کی زبان بولنے لگی، کبھی اختلاف رائے کو دشمنی سمجھ لیا گیا۔ریاستی جبر صرف قید و بند کا نام نہیں ہوتا۔ کبھی یہ خاموشی کی ایسی دیوار تعمیر کرتا ہے جس کے دوسری طرف سچ اپنی آواز خود نہیں سن پاتا۔ کبھی یہ خوف کی ایسی فضا پیدا کرتا ہے کہ لوگ اپنی ہی سدا سے ڈرنے لگتے ہیں۔ قلم کاغذپراترنے سےپہلے اجازت مانگتا ہے، استاد سبق سے پہلے احتیاط پڑھاتا ہے،صحافی خبر سے پہلے انجام سوچتا ہے اور شاعر استعارے میں پناہ ڈھونڈنے لگتا ہے۔
تاریخ کا سب سے بڑا طنز یہی ہے کہ جبر ہمیشہ اپنی عمر کو بہت طویل سمجھتا ہےمگر تاریخ میں اس کی عمر اکثر مختصر ثابت ہوتی ہے۔ مصر کے فراعین، روم کے شہنشاہ، اندلس کے حکمران، روس کے زار اور دنیا کے بے شمار طاقت ور نظام اس غلط فہمی کا شکار رہے کہ خوف ہمیشہ وفاداری پیدا کرتا ہےمگرخوف صرف خاموشی پیداکرتاہے،محبت نہیں۔ پاکستان کےالمیے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ یہاں قانون کی عظمت پر تقریریں بہت ہوتی ہیں لیکن قانون کی حکمرانی ہر دور میں امتحان بنتی رہی ہے۔ کبھی عدالتیں سوالوں کے گھیرےمیں آئیں، کبھی سیاست، کبھی میڈیا، کبھی انتظامیہ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عام آدمی کے دل میں یہ سوال پیدا ہونے لگا کہ انصاف طاقت سے بڑا ہے یا طاقت انصاف سے؟یہ سوال کسی ایک حکومت یا ایک جماعت کا نہیں، پوری ریاستی ساخت کا سوال ہے۔ریاست جب اپنے شہری کو صرف رعایا سمجھنے لگے تو تعلق کمزور ہو جاتا ہے۔ شہری صرف ٹیکس دینے والی مشین نہیں ہوتا وہ ریاست کی ٹیکسال ہوتا ہے۔ جس میں امید کے سکے ڈھلتے ہیں اگر یہ ٹکسال سکے ڈھالنا بند کر دے اس کے کل پرزے جام ہو جائیں تو ریاست زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ پاکستان ایک ایسے قافلے کی مانند ہے جو منزل سے زیادہ میر منزل کے ہم قدم چلنے کےمخمصےمیں الجھا ہوا ہے۔ ہرمحافظ اپنے ہاتھ میں مشعل لئے کھڑا ہےمگر قافلےوالوں کو یوں لگتا ہےجیسے اندھیرے میں راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔یہ بھی ایک عجیب منظر ہے کہ یہاں طاقت کے ایوان اکثرخاموش رہتے ہیں مگر چائے خانوں میں آئین پر بحث ہوتی ہے۔یونیورسٹیوں کے طلبہ مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں، لیکن ان خوابوں کے گرد غیریقینی کادھندلا ساحصارموجود رہتا ہے۔مائیں بچوں کو سچ بولنے کی تلقین بھی کرتی ہیں اوریہ نصیحت بھی کہ ہرسچ ہرجگہ نہیں بولا جاتا۔اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا؟ریاست کی اصل طاقت اسلحہ نہیں، اعتماد ہوتا ہے۔ بندوق سرحد کی حفاظت کر سکتی ہے، دلوں کی نہیں۔ عدالت فیصلے سنا سکتی ہے مگر انصاف پر یقین صرف غیرجانب داری پیدا کرتی ہے۔ قانون خوف سے نہیں، احترام سے زندہ رہتا ہے۔
تاریخ کی عدالت بڑی بےرحم ہوتی ہے۔ وہ نہ عہدے دیکھتی ہے، نہ وردیاں، نہ جھنڈے، نہ نعرے۔ وہ صرف یہ لکھتی ہے کہ کس نے طاقت کو انصاف کے تابع رکھا اور کس نے انصاف کو طاقت کے تابع کر دیا۔آج پاکستان کو ایک نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے؛ ایسا معاہدہ جس میں ریاست شہری سے وفاداری مانگنے سے پہلے خود آئین سے وفاداری کا عملی ثبوت دے۔ جہاں اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے، سوال کوجرم نہ بنایاجائے اور تنقید کو ریاست دشمنی کے مترادف قرارنہ دیا جائے۔ایک بزرگ صوفی نےکہا تھا ’’جس شہر میں خوف دروازے پر پہرہ دے، وہاں امید کھڑکی سے نکل جاتی ہے۔‘‘ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم خوف کا شہر بنانا چاہتے ہیں یا امید کا دروازہ؟ ریاستیں اس دن کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہیں جب وہ اپنے شہریوں کی آنکھوں میں خوف دیکھ کر مطمئن ہوجائیں،اعتماد دیکھ کر نہیں۔ کیونکہ خوف سے خاموشی خریدی جاسکتی ہےمگر تاریخ میں عزت کبھی نہیں بھائو تائو سے نہیں ملتی۔ قوموں کی بقا جبر میں نہیں، انصاف میں ہوتی ہے اور انصاف وہ چراغ ہے جو سب سے پہلے ریاست کے اپنے ہاتھ میں روشن ہونا چاہیے۔