(گزشتہ سے پیوستہ)
تہذیبی رشتوں کی بات کرنااب محض ایک رسمی جملہ رہ گیاہے۔تہذیبی جغرافیہ وقت کی دھول سے محفوظ رہتاہے،مگرسیاسی جغرافیہ مفادات کی آندھی میں بدلتا رہتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اب صرف مفادکی زبان بولی جاتی ہے،اور ہندوستان نے بھی یہی زبان اختیارکرلی ہے۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس کھیل میں وہ نہ مکمل طورپرمغرب کاحصہ بن پایاہے اورنہ مشرق کا اعتباربرقراررکھ سکا ہے نتیجتاایک سفارتی خلاپیداہو چکا ہے۔
یہ ایک تاریخی تلخ سچ ہے کہ تہذیبیں نہیں مرتیںمگرضمیرمرجاتے ہیں۔تعلقات باقی رہتے ہیںمگر اعتبار ٹوٹ جاتاہے۔آج ہندوستان ایک ایسے موڑ پر کھڑاہے جہاں نہ وہ مکمل دوست رہاہے،نہ مکمل غیر،یہ بے سمتی ایک خطرہ ہے،ایک ایساخطرہ جوقوموں کواندر سے کھوکھلاکردیتاہے۔ ہندوستان اورایران کاتعلق صدیوں پرمحیط ہے، مگرحالیہ دہائیوں میں یہ تعلق مفادات کی بھٹی میں پگھلتادکھائی دیتاہے۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ عالمی تنہائی کسی بھی ملک کے لئے خطرناک ہوتی ہے۔ ماہرینِ بین الاقوامی امورکایہ کہناکہ تہذیبی رشتے اپنی جگہ،مگرقومی مفادات کی بساط پرسب کچھ قربان ہوجاتا ہے، ایک تلخ حقیقت ہے۔ہندوستان کی مبینہ سفارتی تنہائی اورہمسایہ ممالک کی پیش قدمی اس حقیقت کومزید نمایاں کرتی ہے۔
سینٹرل ایشیاء کے مورپرنظررکھنے والے کا کہنا ہے کہ ہم انڈیاایران کے رشتے کوتہذیبی،ثقافتی اور تاریخی کہتے ہیں لیکن گزشتہ40برسوں سے جب سے دنیاکی سپرپاورکی سمت بدل گئی، ترجیحات بدل گئیں ہیں توانڈیانے بھی اپنے قومی مفادات کے تحت اقدام کیے ہیں اورسب سے خطرناک بات جوانڈیا کے حصے میں آئی ہے کہ جنگ کے دوران انڈیا کے نیوی کے اہم اوراعلیٰ افسرکایہ بیان کہ انہوں نے انڈین نیوی کی دعوت پرآئے ہوئے ایرانی جہازکی مخبری کی تھی جس کے جواب میں امریکااوراسرائیل نے حملہ کرکیاس جہازکوتباہ کردیا جس میں80سے زائدایرانی افسرشہیدکردیئے گئے جبکہ یہ جہازانڈیاکی دعوت پرمشترکہ مشقوں کے بعدواپس جارہاتھا۔یقینایہ جہاں جنگی جرائم میں شمارہوتاہے وہاں ایران کے لئے بھی بڑاسانحہ ہے کہ اسے انڈیا (مودی) کی منافقانہ دوستی کاچہرہ نظرآگیا۔اب وہ کس منہ سے اس تدفین میں شرکت کے لئے وفدکوبھیج رہے ہیں؟
یہ محض سفارتی لغزش نہیں بلکہ ایک اخلاقی بحران اورسانحہ ہے۔ایک مہمان کے ساتھ خیانت اسلامی تعلیمات کے سراسرخلاف ہے۔ ایک مہمان ریاست کے جہازکی مخبری کرنانہ صرف بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اعتمادکے قتل کے مترادف ہے۔ یہ نہ صرف سفارتی بداعتمادی بلکہ اخلاقی زوال کی ایک سنگین مثال ہے۔جنگی جرائم کے زمرے میں آنے والایہ واقعہ ایران کے لئے ایک ناقابلِ فراموش صدمہ اور ہندوستان کے لئے ایک سفارتی بدنماداغ ہے۔ایسی حرکتیں قوموں کے درمیان صدیوں پرمحیط تعلقات کولمحوں میں خاک میں ملادیتی ہیں۔یہ صرف ایک خبرنہیں،یہ ایک جرم ہے۔ایک مہمان کے ساتھ خیانت؟ یہ وہ عمل ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی،یہ صرف ایک جہازنہیں تھایہ اعتمادتھاجوتباہ ہوا۔
مودی حکومت کی خاموشی،اوربعدازاں محض رسمی تعزیت،ایک ایسے رویے کی عکاسی کرتی ہے جس میں جذبات کی جگہ مصلحت نے لے لی ہے۔یہ تضاداب ڈھکاچھپانہیں رہا،یہ اپنی جگہ ایک مکمل کہانی ہے۔ایک طرف اسرائیل کے ساتھ کھڑاہونااوردوسری طرف ایران کے لئے رسمی تعزیت ،یہ دورویہ پن عالمی سطح پر سوالات کوجنم دیتاہے۔ہندوستان کی خارجہ پالیسی اب اصولوں کی نہیں بلکہ مواقع کی اسیردکھائی دیتی ہے۔یہ دوغلا پن عالمی سطح پرواضح ہوچکاہے۔اسلامی دنیامیں اس طرزِعمل کوشک کی نگاہ سے دیکھاجا رہا ہے۔ یہ صرف تضادنہیںیہ ایک کھلادھوکے اورمنافقت کااعلان ہے۔ ایک طرف تم کھڑے ہو،دوسری طرف تم خاموش ہو،یہ منافقت کاعمل اب چھپ نہیں سکتا۔دنیادیکھ رہی ہے، امت دیکھ رہی ہے، تاریخ لکھ رہی ہے۔اس کے برعکس دیگرممالک، خصوصاپاکستان کی کھلی مذمت ایک مختلف سفارتی زاویہ پیش کرتی ہے۔
اسد الدین اویسی کابیان عوامی جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔اویسی کی آوازایک فردکی نہیں اورنہ ہی محض اپوزیشن کی سیاست ہے۔یہ ایک سادہ مگر گہرا سوال ہے جوہردل میں گونج رہاہے۔جواس بحث کو یک عوامی اور یاسی جہت دیتاہے۔اگرمودی اسرائیل جاسکتے ہیں توایران کیوں نہیں؟اس سوال کاکوئی سفارتی جواب نہیںصرف سیاسی مجبوری اور سفارت کے ایوانوں میں گونج رہاہے۔
یہی وہ نقطہ اورمقام ہے جہاں تاریخ اپنافیصلہ محفوظ کرتی ہے اور ہاں نقاب اترتے ہیں۔ سفارت کاری میں چہرے نہیں،کرداریادرکھے جاتے ہیں۔ سفارت کاری اگرصرف مفادکاکھیل بن جائے تواس میں اعتبار باقی نہیں رہتا۔ایران کے ساتھ دوستی کے دعوے اورعملی سرد مہری کایہ رویہ دراصل ایک بڑے تضادکی علامت ہے، دوستی کے دعوے اورعملی سردمہری کا تضاد۔ اگر تعلقات مفاد کی بنیادپرہوں تووہ دیرپانہیں ہوتے۔ تہران کی یہ خاموش فضاشایدآنے والے وقتوں میں اس سوال کا جواب خوددے گی کہ کون سچاتھااورکون محض اداکاری کررہاتھا۔
تاریخ ایسے لمحات کوبھولتی نہیں؛وہ انہیں محفوظ رکھتی ہے تاکہ آنے والی نسلیں فیصلہ کرسکیں کہ کون سچاتھااورکون محض کردار اداکررہاتھا۔اور اب، اقوام عالم کے امن پسند افرادکامودی سے آخری سوال! کیاتم اس چہرے کے ساتھ تہران جاؤگے؟ کیاتم اس تاریخ کا سامناکرسکوگے؟یادرکھو! اقتدارعارضی ہے،مگرکردار دائمی! آج تم جولکھ رہے ہو،کل وہی تمہارا تعارف ہو گا۔ فیصلہ تمہیں کرناہے کہ تم تاریخ میں کیسے یادرکھے جاؤ؟ دنیا میں امن کے علمبردار کے طورپر،یاایک خاموش منافق تماشائی کے طورپر؟تاہم مجھے مودی کے کردارپر قطعاً کوئی تعجب نہیں کیونکہ وہ سیاست میں چانکیہ کواپنا استاد مانتاہے اوردنیا چانکیہ کی پرفریب اوردھوکہ دہی پرمبنی سیاسی سازشوں سے بخوبی واقف ہے۔
آخرکارسوال وہی رہ جاتاہے کیاسفارت کاری میں اصولوں کی کوئی جگہ باقی ہے؟یاپھر ہر تعلق، ہر دوستی، ہرتعزیت محض مفادات کی میزان پرتولی جاتی ہے؟ اگر ایسا ہے توپھرتہران کی یہ خاموش فضامودی اوراس کے وفدسے یہی پوچھ رہی ہے:کس منہ سے آئے ہو؟