Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

ڈاکٹر انور زاہدی، ایک ہمہ جہت شخصیت

کچھ لوگ اپنے عہد میں محض ادیب نہیں ہوتے، وہ ایک تہذیبی رویہ، ایک اخلاقی روایت اور ایک زندہ احساس کا نام ہوتے ہیں۔ ان کی موجودگی محفل کو روشن کرتی ہے، ان کی گفتگو دلوں میں روشنی اتارتی ہے، اور ان کی تحریریں قاری کے باطن میں دیر تک گونجتی رہتی ہیں۔ ڈاکٹر انور زاہدی ایسے ہی لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں علم کی سنجیدگی، شاعر کی لطافت، افسانہ نگار کی بصیرت، مترجم کی دیانت اور ایک شفیق انسان کی محبت یکجا ہو گئی ہے۔ شاید اسی لیے ان سے ملنے والا ہر شخص یہی محسوس کرتا ہے کہ گویا وہ کسی انسان سے نہیں، بہار کے ایک خوش رنگ موسم سے ملا ہے۔ڈاکٹر انور زاہدی کو سمجھنے کے لیے ان کے خاندانی پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے والد، ڈاکٹر مقصود زاہدی، اپنے عہد کے نہایت سادہ، شفیق، ملنسار اور مرنجان مرنج انسان تھے۔ ان کی رباعیات میں زندگی کی خوشبو، تہذیب کی شائستگی اور زبان کی مٹھاس جھلکتی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ الفاظ نہیں، رنگ برنگے پھول چن کر ادب کے دامن میں سجا رہے ہوں۔ ایسے علمی اور ادبی ماحول میں پرورش پانے والے بچوں سے بڑی توقعات وابستہ تھیں، اور وقت نے ثابت کیا کہ ڈاکٹر انور زاہدی اور ان کی بہن ماہ طلعت زاہدی واقعی ’’ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات‘‘تھے۔ڈاکٹر انور زاہدی نے شاعری، افسانہ نگاری اور ترجمے، تینوں میدانوں میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔ ان کی شاعری میں محض جذبے کی شدت نہیں بلکہ فکر کی گہرائی بھی موجود ہے۔ وہ زندگی کے دکھ، انسان کی بے بسی، محبت کی حرارت اور سماجی ناانصافیوں کو اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ قاری خود کو ان کے تجربے کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ ان کے ہاں لفظ آرائش کے لیے نہیں آتے بلکہ معنی کی تخلیق کرتے ہیں۔
افسانہ نگار کی حیثیت سے بھی ڈاکٹر انور زاہدی نے اردو ادب میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کے افسانے محض واقعات کا بیان نہیں بلکہ انسانی نفسیات، سماجی تضادات اور عہد کی پیچیدگیوں کا گہرا مطالعہ ہیں۔ ان کے کردار زندگی سے کشید کیے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ وہ قاری کو چونکاتے نہیں بلکہ آہستہ آہستہ اس کے دل و دماغ میں اترتے ہیں۔ یہی بڑی افسانہ نگاری کی علامت ہے۔تاہم ان کی ادبی زندگی کا ایک نہایت اہم باب ترجمہ نگاری ہے۔ مترجم ہونا صرف دو زبانوں سے واقف ہونے کا نام نہیں بلکہ دو تہذیبوں، دو احساسات اور دو ادبی روایتوں کے درمیان ایک معتبر پل تعمیر کرنے کا عمل ہے۔ ڈاکٹر انور زاہدی نے مغربی ادب کے نمائندہ شعرا ء کے ساتھ ساتھ فارسی کے مزاحمتی شعرا کو اردو میں منتقل کرتے ہوئے غیرمعمولی فنی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے تراجم پڑھتے ہوئے کبھی محسوس نہیں ہوتا کہ یہ کسی دوسری زبان سے منتقل کئے گئے ہیں۔ زبان کی روانی، محاورے کی چاشنی اور جذبے کی حرارت انہیں طبع زاد شاعری کا رنگ عطا کرتی ہے۔یہ وہ زمانہ تھا جب ایران میں شاہی آمریت کے خلاف عوامی تحریک اپنے عروج پر تھی۔ اس دور کی مزاحمتی شاعری محض ادب نہیں بلکہ آزادی، انصاف اور انسانی وقار کی آواز تھی۔ ڈاکٹر انور زاہدی انہی دنوں ایران میں موجود تھے۔ انہوں نے فروغ فرخزاد سمیت متعدد ایرانی شعرا کی تخلیقات کو اردو کے قالب میں ڈھالا۔ اس ادبی خدمت نے اردو قارئین کو ایرانی مزاحمتی ادب سے روشناس کرایا اور یہ ثابت کیا کہ ادب جغرافیائی سرحدوں کا پابند نہیں ہوتا۔وطن واپسی کے بعد بھی ان کا تخلیقی سفر رکا نہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی اور تحریروں میں مزاحمت، آزادیِ فکر اور انسان دوستی کو زندہ رکھا۔ ان کے لیے مزاحمت محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی رویہ تھا۔ وہ ظلم، جبر، تعصب اور فکری جمود کے مقابلے میں ہمیشہ قلم کو اپنا سب سے موثر ہتھیار سمجھتے رہے۔
زندگی نے انہیں ایک سخت آزمائش سے بھی گزارا۔ گردوں کے عارضے نے ان کی جسمانی صحت کو متاثر کیا، حتیٰ کہ انہیں اپنا ایک گردہ بھی کھونا پڑا۔ لیکن بڑی شخصیات کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ جسمانی کمزوری کو روحانی شکست میں تبدیل نہیں ہونے دیتیں۔ بیماری نے ان کے جسم کو ضرور آزمایا، مگر ان کے حوصلے، تخلیقی توانائی اور فکری وقار کو کمزور نہ کر سکی۔ملتان سے اسلام آباد منتقل ہونے کے بعد گزشتہ چار دہائیوں میں ڈاکٹر انور زاہدی نے جڑواں شہروں کے ادبی حلقوں میں ایک ممتاز مقام حاصل کیا۔ وہ نوجوان لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، دوستوں سے بے تکلفی سے ملتے ہیں اور اختلافِ رائے کو بھی خوش اخلاقی کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت کا یہی وصف انہیں صرف ایک ادیب نہیں بلکہ ایک محبوب انسان بھی بناتا ہے۔آج کے دور میں جب شہرت، خود نمائی اور ادبی گروہ بندی نے تخلیقی فضا کو متاثر کیا ہے، ڈاکٹر انور زاہدی اپنی انکساری، متانت اور وضع داری کے باعث الگ دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اپنی تحریروں سے زیادہ اپنی شخصیت کے ذریعے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ ان سے ملنے والا ہر شخص ان کی سادگی، خلوص اور محبت کا معترف نظر آتا ہے۔ڈاکٹر انور زاہدی کا اصل سرمایہ ان کی کتابیں ہی نہیں بلکہ وہ نسل بھی ہے جسے انہوں نے سوچنے، پڑھنے اور بہتر انسان بننے کی ترغیب دی۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو کسی بھی ادیب کو زمانے کی گرد سے محفوظ رکھتا ہے۔ہماری ادبی روایت میں ایسے لوگ کم ہوتے جا رہے ہیں جن کے ہاں علم کے ساتھ حلم، فن کے ساتھ اخلاق اور اختلاف کے ساتھ احترام بھی موجود ہو۔ ڈاکٹر انور زاہدی اس روایت کے امین ہیں۔ ان کی شخصیت واقعی بہار کی مانند ہے؛ جہاں جاتے ہیں، محبت، شگفتگی، خوش اخلاقی اور فکری تازگی کے پھول کھل اٹھتے ہیں۔دعا ہے کہ ڈاکٹر انور زاہدی کا قلم اسی طرح متحرک رہے، ان کی فکر نئی نسل کی رہنمائی کرتی رہے، اور ان کی شخصیت آنے والے ادیبوں کے لیے اس حقیقت کی زندہ مثال بنی رہے کہ عظمت صرف بڑی کتابیں لکھنے سے نہیں، بڑا انسان بننے سے بھی حاصل ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں