پاکستان کی جان بلوچستان لہو لہان ہے ، لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا بلوچستان کی پہچان وہ لوگ ہیں جو بسوں سے مسافروں کو اتار کر قتل کرتے ہیں؟ کیا بلوچستان کی نمائندگی وہ لوگ کرتے ہیں جو بازاروں، شاہراہوں اور آبادیوں میں خون بہاتے ہیں؟ کیا بلوچ قوم کی شناخت وہ عناصر ہیں جو بندوق کے زور پر خوف پھیلاتے ہیں اور دنیا کے سامنے بلوچ نام کو تشدد، نفرت اور دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں؟اس کا جواب گزشتہ شب سامنے آیا کہ نہیں ، یہ تو غدار ہیں ، وطن کے غدار ا، انسانیت کے غدار ، بلوچ قوم کے غدار ، بدنما داغ ہیں ، دھرتی پر ارو بلوچ قوم کے نام پر ۔۔۔ سچ یہی ہے کہ دہشت گردی خونریزی اور غداری لشکر بلوچستان جیسے کرداروں کا تعارف ہے ، بلوچوں کا نہیں ،جو لوگ بے گناہوں کا خون بہاتے ہیں، جو خوف اور دہشت کو اپنی سیاست بناتے ہیں، جو اپنی بندوق کو دلیل اور اپنے بارود کو پیغام سمجھتے ہیں، وہ بلوچ قوم کے نمائندے نہیں ہو سکتے۔
بلوچستان کی اصل شناخت کچھ اور ہے، وفاداری ، غیرت ، مہمان نوازی ، وعدے کی پاسداری، دوستی نبھانا اور میدان میں ڈٹ کر کھڑے رہنا ہے۔ آج کوئی پوچھے کہ اس بلوچستان کی شناخت اور چہرہ کون ہے، تو وہ میرشفیق الرحمان مینگل ہے،خضدار میں ان کے گھر پر دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ یہ کوئی معمولی حملہ نہیں تھا۔ حملہ آور مکمل تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ ان کے ساتھ خودکش حملہ آور بھی تھے، بھاری اسلحہ بھی تھا اور مقصد بھی واضح تھا۔
وہ صرف ایک گھر پر حملہ نہیں کر رہے تھے۔
وہ ایک سوچ کو نشانہ بنا رہے تھے۔
وہ یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ جو شخص دہشت گردی کے سامنے کھڑا ہوگا، جو شخص پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگا، جو شخص خوف کو تسلیم کرنے سے انکار کرے گا، اسے مٹا دیا جائے گا،لیکن وہ شاید شفیق مینگل کو پوری طرح جانتے نہیں تھے۔جب گولیاں چل رہی تھیں، دھماکوں کی آوازیں گونج رہی تھیں، ایک ایک کر کے ساتھی گر رہے تھے، اس وقت شفیق مینگل کسی محفوظ کمرے میں نہیں تھا،کسی غار میں نہیں چھپا تھا ، اس نے کسی مورچے کے پیچھے پناہ نہیں لی ، خود بندوق اٹھائی، فرنٹ لائن پر موجود رہا ، اپنے آدمیوں کے درمیان ، جم کر لڑا اس وقت تک ڈٹا رہا ، جب تک دہشت گرد کو قلع قمع نہیں کردیا گیا ، قیادت یہی ہوتی ہے۔قیادت صرف حکم دینا نہیں ہوتی، قیادت خطرے کے وقت سب سے آگے کھڑا ہونے کا نام ہے۔شفیق مینگل نے یہی کیا۔یہ اس کی پہلی جنگ نہیں تھی، وہ برسوں سے اس محاذ پر کھڑا ہے ، بلکہ نسل در نسل ، قوم قبیلے اور پاکستان کا سچا وفادار ، دلیر اور بہادر،شفیق کے والد نصیر مینگل بھی اسی راستے کے مسافر رہے ،ایسے وقت میں پاکستان کا پرچم تھاما جب بہت سے لوگ خاموش رہنے کو محفوظ راستہ سمجھتے تھے، اب وہ پس منظر میں ہیں اور ذمہ داری کا بارشفیق مینگل کے مضبوط کندھوں پر ہے ،اور اس راستے کی قیمت بھی اس نے ادا کی ہے۔بہت بھاری قیمت۔ اپنے عزیز ازجان بھائی عطاالرحمان مینگل کی شہادت کی صورت ۔ بھائی کا چلا جانا صرف ایک فرد کی موت نہیں ہوتی،بھائی کی موت انسان کی کمر توڑ دیتی ہےاور اگر وہ بھائی عطاالرحمان مینگل جیسا بہادر، جری، باوقار اور قبیلے کی شان ہوتویہ زخم کبھی مکمل طور پر نہیں بھرتا۔بہت سے لوگ ایسے سانحے کے بعد میدان چھوڑ دیتے ہیں، بہت سے لوگ اپنے خاندان کو ترجیح دیتے، خاموشی اختیار کر لیتے، میدان چھوڑ دیتے ہیں ،لیکن شفیق نے ایسا نہیں کیا،وہ آج بھی وہیں کھڑا ہے ،جہاں کل تھا ، اس کے قدم آج بھی اسی زمین پر جمے ہوئے ہیں۔ مخالف شاید یہ سمجھتے تھے کہ مسلسل حملے، دھمکیاں اور ذاتی نقصانات اس کے حوصلے توڑ دیں گے،لیکن بعض لوگ ٹوٹتے نہیں، آزمائشوں سے اور مضبوط ہو جاتے ہیں، شفیق انہی میں سے ایک ہے ۔
آج بلوچستان کو سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ اس کی شناخت کو اغوا نہ ہونے دیا جائے۔بلوچستان کی شناخت چند بندوق بردار افراد نہیں ہیں، دھماکے نہیں ہیں، لاشیں اور خوف نہیں ہے۔بلوچستان کی شناخت وہ لوگ ہیں جو اپنے قبیلے، اپنے لوگوں اور اپنے وطن کے لیے کھڑے ہوتے ہیں،وہ لوگ جو بھاگتے نہیں،وہ لوگ جو چھپتے نہیں،وہ جو خطرے کے وقت سب سے آگے کھڑے ہوتے ہیں۔میر شفیق مینگل ، سرفرا زبگتی ،شہید سراج رئیسانی وہ لوگ ہیں جو بلوچستان کے اس چہرے کی نمائندگی کرتے ہیں جو وفاداری، استقامت اور مزاحمت کی علامت ہے۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ رہ سکتے ہیں، مختلف آراء بھی موجود رہ سکتی ہیں، لیکن ایک حقیقت سے انکار مشکل ہے،کہ میدان میں کھڑے ہونا آسان نہیں ہوتا۔جب گولیاں چل رہی ہوں، جب دھماکے ہو رہے ہوں، جب آپ کے ساتھی آپ کی آنکھوں کے سامنے گرتے جا رہے ہوں، تب ثابت قدم رہنا ہر انسان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔
خضدار میں گزشتہ روز یہی منظر تھا۔
اور اسی منظر نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا کہ بلوچستان کی اصل پہچان کون ہے؟
وہ جو خوف پھیلاتے ہیں؟یا وہ جو خوف کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں؟
تاریخ ہمیشہ اپنے جواب خود لکھتی ہے۔
اور بلوچستان کی تاریخ بھی ایک دن اپنا فیصلہ ضرور سنائے گی، بلکہ تاریخ نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے ۔
اقبال نے شائد ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا تھا
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاری