Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

انقرہ نیٹو سربراہی اجلاس

2026 کا انقرہ نیٹو سربراہی اجلاس جدید ترک تاریخ کے اہم ترین سفارتی سنگ میلوں میں شمار کیا جائے گا۔ ایک ایسے دور میں جب دنیا غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی سے گزر رہی ہے، انقرہ دنیا کے طاقتور ترین سیاسی اور عسکری رہنماؤں کا مرکز بن گیا۔ اس اجلاس نے نہ صرف ترکیہ کی انتظامی صلاحیت کا مظاہرہ کیا بلکہ ایک ذمہ دار، بااعتماد اور بااثر عالمی قوت کے طور پر اس کی بڑھتی ہوئی حیثیت کو بھی نمایاں کیا۔نیٹو کے بتیس رکن ممالک کے سربراہانِ مملکت اور حکومت کی میزبانی، اعلیٰ ترین سکیورٹی انتظامات، بہترین سفارتی پروٹوکول اور روایتی ترک مہمان نوازی نے پوری دنیا پر گہرا مثبت اثر چھوڑا۔ اس کامیاب انعقاد نے ثابت کیا کہ انقرہ اب صرف ایک قومی دارالحکومت نہیں بلکہ عالمی سفارت کاری اور بین الاقوامی مذاکرات کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔صدر رجب طیب اردوان کی دانشمندانہ، صبر آزما، آزاد اور متوازن خارجہ پالیسی نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ترکیہ کی عالمی حیثیت کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے ترکیہ کے تعلقات کو کسی ایک عالمی بلاک تک محدود رکھنے کے بجائے امریکہ، برطانیہ، یورپ، ایشیا، افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ متوازن اور تعمیری روابط قائم رکھے۔ یہی حکمت عملی آج ترکیہ کو مشرق اور مغرب کے درمیان ایک قابلِ اعتماد سفارتی پل کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔اجلاس کا سب سے اہم لمحہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر رجب طیب اردوان کی ملاقات تھی۔ صدر ٹرمپ نے صدر اردوان کو ایک مضبوط، باوقار اور قابلِ احترام رہنما قرار دیتے ہوئے نیٹو میں ترکیہ کے اہم کردار کو سراہا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ان کی انتظامیہ ترکیہ پر عائد دفاعی پابندیوں کے خاتمے کی جانب پیش رفت کرے گی اور ترکیہ کو دوبارہ ایف-35 طیارہ پروگرام میں شامل کرنے پر غور کرے گی۔ اگرچہ ان اعلانات پر مکمل عمل درآمد کے لیے امریکہ میں آئینی، قانونی اور سیاسی مراحل ابھی باقی ہیں، تاہم یہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک مثبت اور تاریخی پیش رفت کی علامت ہیں۔اس ملاقات کے دوران دوستانہ ماحول نے واضح کیا کہ واشنگٹن اور انقرہ کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ دونوں ممالک عالمی سلامتی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے تناظر میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔انقرہ سربراہی اجلاس کے اعلامیے میں نیٹو نے اجتماعی دفاع کے اصول، دفاعی صنعت میں باہمی تعاون، مشترکہ دفاعی سرمایہ کاری، عسکری تیاریوں میں اضافہ اور اتحاد کی یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ فیصلے مستقبل کی عالمی سلامتی کے لیے نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔صدر اردوان نے اجلاس کے دوران اس بات پر بھی زور دیا کہ نیٹو کے رکن ممالک کے درمیان دفاعی صنعت پر عائد پابندیوں کو ختم کیا جانا چاہیے تاکہ اتحاد مزید مضبوط ہو سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ صرف ترکیہ ہی نہیں بلکہ پورے نیٹو اتحاد کی سلامتی کو بھی مستحکم کرتا ہے۔سرکاری فیصلوں اور اعلانات سے بڑھ کر اس اجلاس کی سب سے بڑی کامیابی ترکیہ کی بڑھتی ہوئی سفارتی حیثیت کا عالمی اعتراف تھا۔ دنیا نے دیکھا کہ ترکیہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی مسائل کے حل میں بھی ایک مؤثر، متوازن اور ذمہ دار کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تاریخ میں بعض مواقع ایسے آتے ہیں جو کئی برسوں کی حکمتِ عملی، مستقل مزاجی اور بصیرت افروز قیادت کا عملی اظہار بن جاتے ہیں۔ انقرہ نیٹو سربراہی اجلاس بھی جدید ترکیہ کی تاریخ میں ایسا ہی ایک سنگ میل ثابت ہوا۔ اس نے یہ حقیقت مزید واضح کر دی کہ آج کا ترکیہ محض ایک جغرافیائی اہمیت رکھنے والا ملک نہیں بلکہ عالمی فیصلوں پر اثر انداز ہونے والی ایک باوقار اور بااعتماد سفارتی قوت بن چکا ہے۔تاریخ ہر قیادت کا فیصلہ وقت کے ساتھ کرتی ہے، لیکن یہ حقیقت نمایاں ہے کہ صدر رجب طیب اردوان کی قیادت میں ترکیہ نے اپنی سفارتی رسائی کو وسعت دی، دفاعی صلاحیت کو مضبوط کیا، عالمی شراکت داریوں کو فروغ دیا اور بین الاقوامی برادری میں اپنی عزت، وقار اور اثر و رسوخ کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ انقرہ نیٹو سربراہی اجلاس اس تاریخی سفر کا ایک روشن اور یادگار باب بن کر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔پاکستان ترکیا تعلقات میں بھی نئی گرم جوشی خوش آئند ہے۔

یہ بھی پڑھیں